مستورات کی جماعت کا شرعی حکم

✮محمدعادل ظفرالأعظمی✮:
مستورات کی جماعت کا شرعی حکم

سوال ]۱۳۱۳[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: مستورات اپنے اپنے شوہروں یا محرموں کے ساتھ تبلیغی جماعت میں جاتی ہیں، تو باقاعدہ شرعی دائرہ حدود میں رہتے ہوئے مکمل حجاب وپردہ کے ساتھ مروجہ طریقہ کے مطابق عورتوں کا جماعت میں جانا کیسا ہے؟ مروجہ طریقہ عموماًیہ ہے کہ جتنی بھی عورتیں جماعت میں جاتی ہیں، ان سب عورتوں کے اپنے اپنے محرم ساتھ ہوتے ہیں اور باقاعدہ مکمل پردہ کے ساتھ چلتے ہیں، عورتوں کے ٹھہرنے، رہنے، سونے اور طعام کا انتظام کسی با پردہ گھر میں ہوتا ہے، جہاں کسی بھی مرد کی آمد ورفت پر مکمل پابندی ہوتی ہے اور مرد حضرات محلہ کی مسجد وغیرہ میں عورتوں سے بالکل الگ ٹھہرتے ہیں اور مستورات عورتوں کی تبلیغ وتشکیل کرتی ہیں اور فضائل اعمال وغیرہ کی بھی تعلیم کرتی رہتی ہیں، یعنی عورتوں کو جمع کرکے اور کبھی انفرادی ملاقات میں عورتوں کے اندر دینی جذبہ اور بیداری پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کرتی ہیں۔ اور مرد مردوں کی تشکیل کرتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں یہ جائز ہے یاناجائز ہے؟ اس کے علاوہ اگر کوئی صورت ناجائز یا جواز کی ہو تو وہ بھی براہ کرم مفصل تحریر فرما دیجئے۔ اور جواب بالکل صاف صاف اور مدلل باقاعدہ حوالہ جات کے ساتھ عنایت فرما دیجئے۔
ہم اپنے گاؤں میں مستورات کو جمع کرکے پردہ کے ساتھ کسی با پردہ حویلی میں کسی عالم صاحب کا وعظ مائک سے کرا دیتے ہیں۔ اور پھر دعا کرکے عورتیں برقع اوڑھ کر اپنے اپنے گھروں کو ایک دو گھنٹہ کی مجلس کرکے چلی جاتی ہیں، آیا ہمارا یہ طریقہ درست ہے یانہیں؟
المستفتی: محمد شاہد قاسمی، مہتمم مدرسہ کاشف العلوم پرتھی پور، بجنور
باسمہ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللہ التوفیق: عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کی دینی ذہن سازی کے لئے خود عورتوں کا آپس میں گفتگو کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے اور تجربہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایسا گھرانا جو بالکل جاہل تھا یا بہت زیادہ موڈرن تھا، اس میں مستورات کی تبلیغی جماعت کی آمد ورفت سے دینی انقلاب آگیا اور بہت سی غلط فہمیوں کی اصلاح ہوئی، یہ اثرات عموماً محض علماء کے بیانات سے پیدا نہیں ہو پاتے؛ اس لئے موجودہ دور میں مکمل احتیاط اور شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے مرکز نظام الدین دہلی کے مقررہ اصول وضوابط اور شرائط کے مطابق محارم کے ساتھ با پردہ مستورات کے تبلیغی سفر کی نہ صرف گنجائش ہے؛ بلکہ بعض علاقوں میں سخت ضرورت ہے، خصوصاً اس لئے بھی کہ اب کچھ باطل فرقوں نے جن میں سلفی اور غیر مقلد لوگ پیش پیش ہیں، اپنی عورتوں کے ذریعہ ہماری خواتین کو گمراہ کرنے کی سخت محنت شروع کر رکھی ہے، ایسی صورت حال میں اگر صحیح رہنمائی خواتین ہی کے ذریعہ نہیں ہوگی تو سخت دینی نقصان کا اندیشہ ہے، خیر القرون میں جہادی اسفار میں صحابہ اور تابعین کا اپنی اپنیعورتوں کو ساتھ میں لے جانا حدیث صحیح سے ثابت ہے اور دارالعلوم دیوبند کا جو جواب استفتاء کے ساتھ منسلک ہے، اس سے ہم کو اتفاق نہیں ہے۔ اور اس میں جو استدلال کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ ہمارے لئے اطمینان بخش نہیں ہے، اس میں استدلال یوں کیا گیا ہے کہ اگر دس عورتیں اپنے اپنے شوہر یا محرم شرعی کے ساتھ سفر کریں تو ہر عورت کا ایک محرم ہے اور نو (۹) غیر محرم ہیں اور غیر محرم کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے، تو کیا نفلی حج یا نفلی عمرہ کے لئے سفر ہوجائے اور پورے جہاز میں ساڑھے تین سو یا چار سو کے قریب افراد ہوتے ہیں اور سب کو مکہ مکرمہ میں ایک ساتھ بلڈنگ میں رکھا جاتا ہے اور منیٰ وعرفات میں ایک ساتھ رکھا جاتا ہے اور مدینہ منورہ میں ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، تو اگر ایک جہاز میں پچاس عورتیں اپنے شوہروں یا محرموں کے ساتھ ہیں، تو کیا یہ کہا جائے گا کہ ہر ایک عورت تقریباً تین تین سو غیر محروموں کے ساتھ سفر کررہی ہے؟ یا یہ کہا جائے گا کہ ہر ایک عورت اپنے اپنے محرم یا شوہر کے ساتھ سفر کر رہی ہے؟ خیر القرون کے زمانہ میں جو جہاد کا سفر ہوا کرتا تھا، وہی در حقیقت تبلیغی سفر بھی ہوا کرتا تھا، حدیث پاک میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ایک دم کسی قوم کے اوپر حملہ کرنے سے منع کیا گیا ہے، پہلے ان کو ایمان کی دعوت پیش کی جائے گی، دوسرے نمبر پر جزیہ ادا کرنے کی پیشکش کی جائے گی، اس کے بعد تیسرے نمبر پر جہاد کا حکم کیا گیا ہے اور خیر القرون کے زمانہ میں دعوت ایمان کے لئے تبلیغی اسفار ہوتے تھے۔ اور آج کے زمانہ میں دعوت اصلاح کے لئے تبلیغی اسفار ہوتے ہیں اور یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں کہ خیر القرون کے زمانہ میں تبلیغی اسفار نہیں ہوتے تھے؛ اس لئے کہ جہاد کے اسفار بذات خود جہادی اور تبلیغی دونوں قسم کے اسفار کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے تھے، اس سلسلہ میں عورتوں کا اپنے شوہروں کے ساتھ لمبے سفر میں نکلنا حدیث کی مستند کتابوں میں ثابت ہے، چند حوالہ حسب ذیل ہیں، ان کی طرف مراجعت کی جاسکتی ہے:
(۱) مسلم ۲/ ۱۱۶، ۲/ ۱۱۷ (۲) مصنف ابن ابی شیبہ ن

سخہ جدید ۱۸/ ۴۶، رقم: ۳۳۸۹۳ (۳) المعجم الکبیر للطبرانی ۲۴/ ۱۵۷، رقم: ۴۰۳ (۴) مصنف ابن شیبہ ، نسخۂ جدید ۱۸/ ۲۱۸، رقم: ۳۴۳۴۴(۵) بخاری میں درج ہیں جانے کی شرعاً گنجائش ہے، جیسا کہ سفر حج اور سفر عمرہ میں جانے کی روایات حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اور اسی طرح جہاد کے سفروں میں اپنے شوہر یا محرم کے ساتھ جانا ثابت ہے اور بہت سی عورتوں کا جہاد کے سفر میں شہید ہونا بھی ثابت ہے۔
عن محمد بن مہاجر وعمر بن مہاجر عن أبیہما أن أسماء بنت یزید بن السکن بنت عم معاذ بن جبل قتلت یوم الیرموک تسعۃ من الروم بعمود فسطاطہا۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۲۴/ ۱۵۷، رقم: ۴۰۳)
عن أنس بن مالک -رضي اللہ عنہ- قال: حدثتني أم حرام، أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال یوما في بیتہا فاستیقظ وہو یضحک قالت: یا رسول اللہ! ما یضحکک؟ قال: عجبت من قوم من أمتي یرکبون البحر کالملوک علی الأسبرۃ، فقلت: یا رسول اللہ! أدع اللہ أن یجعلني منہم، قال: أنت منہم، ثم نام، فاستیقظ وہو یضحک، فقال: مثل ذلک مرتین أو ثلاثا، قلت: یا رسول اللہ! أدع اللہ أن یجعلني منہم، فیقول: أنت من الأولین، فتزوج بہا عبادۃ بن الصامت، فخرج بہا إلی الغزو، فلما رجعت قربت دابۃ لترکبہا، فوقعت فاندقت عنقہا۔ (بخاري شریف، کتاب الجہاد والسیر، باب رکوب البحر، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۰۵، رقم: ۲۸۰۸، ف: ۲۸۹۴)
وقال لي أحمد بن محمد ہو الأرزقي: حدثنا إبراہیم عن أبیہ عن جدہ، أذن عمر لأزواج النبي ﷺ في آخر حجۃ حجہا، فبعث معہن عثمان بن عفان، وعبدالرحمن بن عوف۔ (بخاري، کتاب جزاء الصید، باب حج النساء، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۵۰، رقم: ۱۸۲۲، ف: ۱۸۶۰) فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اللہ عنہ
یکم رجب ۱۴۳۳ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۳۹/ ۱۰۷۴۲)الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲؍ ۷؍ ۱۴۳۳ھ
فتاویٰ قاسمیہ چہارم


✍️ ✍️#نقلہ_العبد_✍️✍️
#العاجز_معین_الدین_نعمانی
#بن_محمد_یوسف_سانجکی_مظفر_نگری_
#منتظم_آپکے_مسائل_اور_انکا_حل_ #گروپ_

ثم نقلہ العبد محمد عادل ظفر الأعظمی۔

👇👇👇👇👇👇👇👇👇

Comments

  1. السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا آپ سے رابطہ ہو سکتا ہے میرا واٹساپ نمبر یہ ہے +959892143018 برائے مہربانی آج رابطے کرے

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟