تقلید کی ضرورت اور اہمیت


تقلید کی ضرورت و اہمیت
🌟 *متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن*
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸


 الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ و نستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ و نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیّئات اعمالنا من یھد ہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ھادی لہ ونشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد انّ سیدنا ومولٰنا محمد اً عبدہ ورسولہ اما بعد*

*فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*

*يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً*

💟 اللہ رب العزت کا بہت بڑا فضل ہے،اللہ رب العزت نے ہمیں قرآن کریم جیسی مقدس کتاب عطا فرمائی ہے اور ختم نبوت کی برکت سے ہمیں فقہ کی بڑی نعمت عطافرمائی ہے۔ ہمارے خیال میں چونکہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا سمجھانا اور سمجھنا بہت ضروری ہے لیکن جس قدر بھی مسائل سمجھنا اور سمجھانا ضروری ہیں ان میں ہمارے خیال میں سب سے بنیادی مسئلہ تقلید کا ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی کیوں ہے؟

🌹 *مسئلہ تقلید اساسی مسئلہ ہے*
اس لیے کہ اگر تقلید کا مسئلہ حل ہو جائے تو لاکھوں مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ اور اگر ایک تقلید کا مسئلہ حل نہ ہو تو لاکھوں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کس کس مسئلہ پر لوگوں کو مطمئن کریں گے؟ اور جب آپ ایک پر اعتماد کریں گے تو سارے مسئلہ حل ہو جائیں گے۔ اگر آپ اپنے ملک کے کسی آدمی کو حاکم تسلیم نہیں کریں گے تو ہر شہر، ہر گلی اور ہر گھر میں لڑائی ہو گی اور اگر کسی کو حاکم مان لیں گے، تو ہر لڑائی ختم۔ اس لیے کہ حاکم جو قانون دے گا اس پہ عمل کریں گے، تو مسئلہ آسان ہوگا اور اگر ملک ہو اور ملک کا حاکم نہ ہو، تو پھر اس ملک میں خانہ جنگی ہے، لڑائی ہے، فساد ہے، اس کو سنبھالنا بہت مشکل ہے۔

🌹 *ملکی خانہ جنگی کیسے ختم ہو*

کسی ملک میں خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے وہاں کا کوئی غیر متنازعہ حاکم ہونا چاہیے۔ اگر اس کو کسی سےاختلاف بھی ہو تو یہ اختلاف قانون کی حدود میں ہو، تاکہ اس ملک کے نظام کو چلایا جاسکے۔ بالکل اسی طرح ہمیں دس، پندرہ، سو نہیں بلکہ لاکھوں مسائل پیش آتے ہیں اور قیامت تک یہ مسائل پیش آتے رہیں گے۔ اور ان تمام مسائل کا حل ختم نبوت کی برکت سے فقہاء، مجتہدین اور ان کی تخریج ہے۔ ان کو مان لیں گے تو سارے مسائل ٹھیک،اور اگر ان کو ہم نہیں مانیں گے، تو ہر مسئلہ پر اختلاف ہوگا۔

🌹 *کمسن بچے کا مناظرہ*
ہمارے ہاں پنجاب میں ایک شہر ہے شیخوپورہ، ضلع شیخوپورہ میں۔ مجھے ایک بیان میں وہاں جانا ہوا۔ میرے میزبان نے ایک آٹھ یا نو سال کا بچہ تھا، ان سے ملاقات کروائی اورخصوصیت سے کہاکہ آپ اس بچہ سے ملاقات کریں، میں نے بلایا اور پو چھا کہ اس کی خصوصیت کیا ہے؟ انہوں نے بڑے اہتمام سے ملاقات کروائی اور بتایا کہ یہ بچہ آپ کے بیانات سنتا رہتا ہے اور ہمارے گھر میں ایک چھوٹا سا مناظرہ ہوا، جو اس بچے نے کیا۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہ مناظرہ سنیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مناظرہ کس سے ہوا؟ تو انہوں نے کہا اپنی ممانی سے۔
میں نے کہا کہ مناظرہ کی وجہ توکوئی ہوگی؟ اس نے کہا چونکہ ہم مقلد ہیں اور ہمارے گھر میں جو عورت آئی ہے، اس کی ممانی، وہ غیر مقلدن ہے۔ تو اس نے آکر ہمارے گھر کافی مسائل پید ا کیے ہیں، کبھی رفع یدین، کبھی مسئلہ آمین، اور کبھی کسی او ر مسئلے میں، اس بچے نے اپنی ممانی سے کہا کہ ہم مناظرہ کر لیتے ہیں، ممانی نے کہا کہ کرلو مناظرہ، کس بات پہ کریں گے؟

ایک بات یاد رکھیں۔ جب بھی کوئی غیر مقلد آپ سے بات کرے گا، تو سب سے پہلے مسئلہ رفع الیدین کا چھیڑے گا، ہمیشہ یاد رکھنا! دوسرے مسائل نہیں چھیڑے گا، اس لیے کہ غیر مقلدین کے نزدیک سب سے مضبوط مسئلہ رفع الیدین کا مسئلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں بہت مضبوط مسئلہ ہے، ہمارے پاس بخاری کی پانچ حدیثیں ہیں، صحیح مسلم میں اتنے ہی دلائل موجود ہیں، اس لیے ہم سے کوئی بات نہیں کرسکتاہے۔ اگر اس مسئلے کی تیاری کی جائے تو غیر مقلدین کا سب سے کمزور مسئلہ رفع الیدین کا ہے، میں دو تین باتیں ان شاء اللہ پیش کروں گا تاکہ آپ کو کبھی بات کرنی پڑے تو آپ کے لیے الجھن نہ ہو۔

🌹 *گفتگو کس موضوع پہ ہونی چاہیے*
تو اس بچے نے کہا کس موضوع پہ؟ تو غیر مقلدن (مقلد کی مونث)عورت نے کہا کہ رفع الیدین پہ۔ بچے نے کہا رفع الیدین پہ بات نہیں کرتے بلکہ تقلید پہ بحث کرتے ہیں، اس نے کہا کیوں؟ بچے نے کہا جب ہم ایک امام کے مقلد ہو جائیں گے تو باقی مسائل پہ مناظرہ ختم ہو جائے گا۔اور جب تک ایک امام کے مقلد نہیں ہوں گے تو ہر روز نیا مناظرہ ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایک بات پہ مسئلہ صاف کریں تاکہ روزانہ کے مناظرے ختم ہوجائیں۔

بچے نے مناظرہ شروع کرنے سے پہلے ممانی پر سوال کیا کہ تقلید ایمان ہے یا شرک؟ کبھی کسی غیر مقلد سے بات کریں تو پہلے مسئلے کا حکم لکھوائیں۔ وہ مسئلہ لکھے گا، حکم نہیں لکھے گا۔ یہ بالکل 100فیصد آزمودہ ہے۔ اگر کوئی آپ سے رفع الیدین پہ بات کرتا ہے تو آپ اسے یہ کہیں کہ تو رفع الیدین کی حیثیت لکھ۔ فرض ہے، واجب ہے، سنت ہے، مستحب ہے؟ وہ نہیں لکھے گا۔ وہ کہے گا چھوڑیں۔
آپ پوچھیں کہ جن مقامات پر تم رفع یدین کرتے ہو، اگر کوئی وہاں نہیں کرتا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں ہو گی۔ اگر ایک مسئلے کا حکم نہیں، تو اس پر بحث کرنا فضول ہے۔ وہ کہے گا ہمارے ہاں فرض،واجب،سنت نہیں ہے۔اسے کہیں ہم قرآن وحدیث سے دکھا دیتے ہیں۔بہت سے مسائل کو حضور نے فرض فرمایا، بعض کو واجب فرمایا ہے، بعض کو مستحب اور بعض کو مکروہ فرمایا ہے۔ احادیث میں ایسی باتیں موجود ہیں، *مثلاً:*

*الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ*
(سنن أبي داود، رقم الحدیث 1424)

*وتر کو واجب فرمایا۔*

*إن الله فَرَضَ صيامَ رمضانَ وسَنَنْتُ لكم قِيامَه*
(جامع الأصول في أحاديث الرسول، رقم الحدیث 7122)

*اللہ نے روز ہ فرض کیا، میں نے قیام کو سنت کہا ہے۔*

📌 ان اصطلاحات کا حدیث میں استعمال ہے۔ کسی کو واجب کہا،کسی کو سنت کہا، کسی کو مستحب کہا۔ آپ اس سے دوڑ نہیں سکتے۔ بلکہ آپ ان سے کہیں کہ ہم احادیث سے ثابت کردیں گے کہ آپ کے مصنفین بہت سے مسائل پہ احکام لکھتے ہیں کہ یہ واجب ہے، یہ سنت ہے۔ تو وہ حکم کبھی نہیں لکھے گا۔ آپ کا واسطہ پڑے گا تو پتا چلےگا۔ مسئلہ بیان کرے گا مسئلے پر حکم نہیں لگائے گا کہ فرض ہے، واجب ہے یا سنت ہے۔ آپ کے سامنے نہیں لگائے گا، عوام کے سامنے لگائے گا، یہ فرض ہے۔ لیکن جب آپ کی باری ہوگی تو پھر نہیں بتائے گا کیوں؟ اس کو پتا ہے کہ عوام کے ساتھ معاملہ اور ہوتاہے اور علماء کے ساتھ معاملہ اور ہوتا ہے۔

🏮 ان کی باقاعدہ تربیت کی جاتی ہے اور اپنے لڑکوں کو تیار کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو تیار نہیں کرتے اور اگر کوئی تیار ہونا بھی چاہے، تو اسکی حوصلہ شکنی کرکے روک دیتے ہیں۔ حالانکہ تیاری کرانی چاہیے۔ تیاری کرنے سے نہ حالات خراب ہو تے ہیں، نہ جماعتیں خراب ہوتی ہیں، نہ نظم تباہ ہوتا ہے۔ تیاری کرانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔

☸ میرا پاکستان رائیونڈ کی شاخ میں بیان تھا۔ میرے وہاں چونکہ مدارس میں الحمد للہ کثرت سے بیانات ہوتے رہتے ہیں، تو میں نے ان حضرات سے کہا کہ ہمارے رائیونڈ کے بزرگ ایک بات فرماتے ہیں، جو آپ سمجھتے نہیں ہیں۔آپ کے رائیونڈ کے بزرگ حضرات فرماتے ہیں ہم بحث نہیں کرتے، منع کرتے ہیں۔ اس کا آپ مطلب نہیں سمجھتے، آپ مطلب سمجھیں تو پھر مناظرے سے نہ دوڑیں، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کی ایک جماعت گشت میں گئی ہے اور گشت کررہی ہے اور وہاں اگر مخالفِ مذہب جماعت سے بات کرے تو ہم بحث نہیں کرتے،یہ مطلب ہے۔یہ مطلب نہیں کہ اپنے بچوں کو گھر بیٹھ کر سمجھاتے بھی نہیں۔

اچھی طرح بات سمجھیں۔ جماعت گشت کر رہی ہے، وہاں غیر مقلد آتا ہے، سلفی آتا ہے، بحث کرتا ہے، تو ہم بحث نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے بزرگوں نے منع کیا ہے۔ لیکن اس نے جو شکوک وشبہات پیدا کیے ہیں، اگر آپ واپس مسجد آکر شکوک و شبہات دور نہیں کریں گے تو آپ کا لڑکا تو بگڑجائے گا اس سے بھی بحث نہیں کرتے اور بند کمرے میں بھی نہیں سمجھاتے تو وہ کہے گا کہ پھر میں کیا کروں؟

❇ میں نے کہا اس لیے بزرگوں کا جملہ سمجھا کریں جابجا اپنے گناہ بزرگوں کے کھاتے میں نہ ڈالاکریں۔ انہوں نے یہ تو منع کیا ہے کہ گشت میں جاکر مخالفوں سے بحث نہ کرو لیکن یہ تو منع نہیں کیا کہ واپس مسجد میں آکر بچے کو سمجھائیں بھی نہ۔ایک ہمارے ہاں فضائل اعمال پر اعتراض ہے، تو اس کا جواب نہ دیں، لیکن جب آپ واپس آئیں، پھر اپنے بچوں کو سمجھا ئیں ناں کہ بیٹے اس اعتراض کا جواب یہ ہے اور وہاں پر ہم نے اس اعتراض کا جواب اس لیے نہیں دیا کہ بحث کی ہماری پالیسی نہیں ہے۔

🌹 *اپنوں کو کیسے جڑا رکھیں؟*
اب آپ کا لڑکا آ پ سےکبھی نہیں کٹے گا، آپ وہاں بھی بحث نہ کریں اور مسجد میں بھی نہ سمجھائیں، تو لڑکا غیر مقلد ہو جائے گا ناں! اس لیے بات کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

🌹 *امام ابوحنیفہ کا انوکھا خواب اور تعبیر*
یہ ٹھیک ہے کہ آپ علم میں مجھ سے بڑے ہیں۔ لیکن میرے والا فن آپ کا تو نہیں ہے۔ایک آدمی علم میں بڑا ہوتا ہے، لیکن اس کا فن نہیں ہوتا، تو فن میں فن والے پراعتماد کرتے ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے خواب دیکھا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر گیاہوں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں ہڈیاں مبارک بکھری پڑی ہیں اور میں نے ان کو جمع کیا ہے۔ تو ایک شاگرد سے کہا کہ جاؤامام ابن سیرین رحمہ اللہ سے خواب کی تعبیر پوچھ کر آؤکیونکہ ہمارا تو عقیدہ ہے:

*إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء*
(سنن الدارمي رقم الحدیث 1572)

✳ یعنی نبی کا جسم محفوظ ہے اس کو مٹی کھا ہی نہیں سکتی۔ اور دوسری حدیث مبارکہ میں ہے

*الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ*
(إتحاف الخيرة المهرة رقم الحدیث 6531)

📍 انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، نبی کا جسم محفوظ بھی ہے اور زندہ بھی ہے، یہ ہمارا نظریہ ہے۔ جب ہمارا نظریہ ہے تو ہڈیاں مبارک بکھری ہوئی کیوں ہیں؟ تو آپ جاؤ اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے خواب کی تعبیر پو چھو۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس جانے سے پہلے کہا کہ یہ نہ بتا نا کہ خواب کس نے دیکھا ہے۔

⚜ امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے پہلا سوال یہ کیا کہ یہ خواب دیکھنے والا کون ہے؟ تو شاگرد نے کہا کہ جس نے خواب دیکھا ہے، اس نے مجھے منع کیا تھا کہ یہ نہ بتانا کہ خواب دیکھنے والا کون ہے۔ امام ابن سیرین فرمانے لگے۔ یہ خواب حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ کوئی اور نہیں دیکھ سکتا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کو اس نے کہا کہ اب تو آپ نے خود ہی بتادیا کہ خواب کس نے دیکھا ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ جاؤ پھر امام صاحب رحمہ اللہ کو مبارک باد دو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے، منتشر ہے، اس کو ایک جگہ جمع کرنے کا کام اللہ تعالی تم سے لیں گے۔

🌹 *تعبیر کی حکمت*

اس خواب کی تعبیر یہ کیوں ہے؟ یہ وہاں لکھا ہوا نہیں ہے، مگر میں بتاتا ہوں کہ اس خواب کی یہ تعبیر کیوں ہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے اعمال کا نام دین ہے اور رسول اللہ کی ذات کا نام دین ہے۔ ہماری ذات دین نہیں بلکہ ہماری نماز، روزہ اعمال دین ہیں۔امتی کے اعمال دین ہوتے ہیں، نبی کی ذات دین ہوتی ہے۔ اس لیے امتی کے اعمال سے بھی وہ نفع نہیں ہونا جو نبی کی ذات سے ہوتاہے اور امتی کو اعمال سے وہ کچھ نہیں ملتا جو رسول اللہ کی ذات کی صحبت سے ملتا ہے۔نبی پاک کی ذات دین ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ہڈیاں بکھری پڑی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کا دین اس دنیا میں منتشر ہے پھیلا ہوا ہےلیکن یکجا نہیں ہے۔امام صاحب کو خوشخبری دی ہے کہ ایک جگہ جمع کرنے کا کام اللہ تعالی تم سے لیں گے۔

🌻 امام حاکم رحمہ اللہ اور امام سیوطی رحمہ اللہ نے اتفاق کیا ہے کہ

*فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ دَوَّنَ الْفِقْهَ وَرَتَّبَهُ أَبْوَابًا وَكُتُبًا عَلَى نَحْوِ مَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ*
(رد المحتار،مقدمہ، جلد نمبر1، صفحہ نمبر121)

🌼 سب سے پہلا وہ شخص جس نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو جمع کیا، اس کا نام امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہے۔

🌹 *فن صاحب فن سے*

میں نے یہ واقعہ اس لیے سنایا کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ بڑے عالم تھے یا ابن سیرین؟ (امام صاحب رحمہ اللہ تھے ) لیکن خواب کی تعبیر کے لیے ابن سیرین کے پاس بھیجا، اس لیے کہ فن ان کے پاس تھا، تو آپ مت شرمائیں کہ یہ ہم سے چھوٹا ہے میں آپ سے بہت چھوٹا ہوں، علم میں بھی، عمر میں بھی، لیکن یہ فن میرا ہے، آپ کا فن نہیں ہے۔

🔰 شعبان میں جامعۃ الرشید کراچی میں علماء کا اجتماع ہوتاہے، اس میں بڑےبڑے علماء مدعو تھے۔ میر انام بھی تھا،اور کئی مفتی بھی تھے، مفتی ابو لبابہ شاہ صاحب بھی تھے۔ وہاں میں نے عرض کیا اگر ہمیں فلکیات کا مسئلہ ہو، تو ہم جامعۃ الرشید سے پوچھیں گے۔ غیر مقلدیت کا پو چھنا ہو،تو آپ ہم سے رابطہ کریں، یہ فن آپ کا ہے، وہ فن میراہے،آپ کو فتویٰ پوچھنا پڑے تو دارالعلوم کراچی میں مفتی تقی عثمانی صاحب سے پوچھیں اور چھیڑ چھاڑ پوچھنی ہو تو ہم سے پو چھیں۔ یہ ہمارا فن ہے، ان کا نہیں ہے۔

🌸 یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب شیخ الاسلام ہیں، اور ہمارے بہت بڑے آدمی ہیں، بہت بڑا ہونا اور بات ہے اور ایک فن میں ماہر ہونا اور بات ہوتی ہے۔ اب بتائیں کہ آپ کے شیخ الحدیث کو بخار ہوجائے، تو آپ کہاں لے کر جاتے ہیں؟ [ڈسپنسر کے پاس،سامعین] اس کا یہ مطلب نہیں کہ ڈسپنسر شیخ صاحب سے بڑا ہے۔ یہ فن اس کا ہے۔ اس میں کوئی شیخ صاحب کی توہین نہیں ہے۔ کہ بندہ کہے کہ شیخ صاحب کو انجکشن لگانا ہے۔ ڈسپنسر کی کیا حیثیت ہے شیخ صاحب کے سامنے۔بلکہ شیخ الحدیث کو ہی لاؤ تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ انجکشن اس کا فن ہی نہیں ہے۔

🌺 فن اور چیز ہے جب اللہ نے کسی فتنے کے خلاف کام لینا ہو تو اللہ اس کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں یہ اللہ کا نظام ہے اور یہ تکوینی نظام ہے اور اس میں بندے کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔

🌹 *مناظرے کا بقیہ حصہ*

اس بچے نے اس عورت سے سوال کیا کہ تقلید ایمان ہے یا شرک؟ وہ خاتون بولنے لگی تو بچے نے کہا جواب سے پہلے پوری وضاحت سن لیں۔ پھر بولنا اس نے کہا کہ وضاحت کیا ہے؟ کہا کہ ہمارا مذہب ہے کہ تقلید ایمان ہے اور تمہارا مذہب ہے کہ تقلید شرک ہے لیکن نتیجہ سوچ لینا اگر تو نے تقلید کو ایمان کہہ دیا تو تیرا مذہب نہیں رہتا۔تو نے غیر مقلدن سے مقلدن بن جاناہے۔

اگر تو نے تقلید کو شرک کہہ دیا تو پھر ماموں کی تو نے منکوحہ نہیں رہنا، اس لیے کہ مشرک اور مومن کا نکاح نہیں ہوتا۔اب بتاؤ تقلید ایمان ہے یا شرک؟ اب اگر وہ ایمان کہتی ہے، تو مذہب جاتا ہے اورشرک کہتی ہے تو نکاح جاتا ہے۔کمزور آدمی مذہب کی قربانی دیتا ہے نکاح کی قربانی نہیں دیتا۔ تین طلاق دے دی ہے، اب خاوند کے پاس تو رہ نہیں سکتی، بیوی کہتی ہےمذہب بدل دو تاکہ خاوند نہ چھوٹے، خاوند کہتا ہے مذہب چھوڑ دو تاکہ بیوی نہ چھوٹے۔

🌹 تو لوگ مذہب قربان کرلیتے ہیں مگر نکاح قربان نہیں کرتے، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے،اللہ مذہب اور نکاح دونوں کو محفوظ رکھے، آمین۔ ہم یہ دعا نہیں کرتے کہ اللہ دونوں کو نکاح قربان کرنے کی توفیق دے بلکہ دونوں کے نکاح کو باقی رکھے،نکاح بھی باقی رہے، مذہب بھی باقی رہے کسی ایک کی بھی قربانی دینا بڑا مشکل کام ہے۔

🌹 *تقلید کا معنی و مفہوم*

تو میں عرض کررہا تھا کہ تقلید ایک بنیادی چیز ہے۔ تقلید ملی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے اور اگر تقلید ملی نہیں ہے،تو سارے ہی مسائل ہیں۔ تو سب سے پہلے تقلید کامعنیٰ ذہن میں رکھیں میں تقلید کامعنیٰ وہ کرنے لگا ہوں جو آپ تلاش کریں گے تو کتابوں میں نہیں ملے گا یعنی یکجا کہیں نہیں ملے گا، آپ کئی کتابیں اکھٹی کریں گے تقلید پر ہونے والے سوالات کے جوابات جمع کریں گے تقلید کے دلائل جمع کریں گے پھر یہ تعریف بنے گی ایسے آپ کو تعریف ملے گی نہیں، ہماری کتب میں تقلید کی تعریف ہے مگر مختصر سی ہے۔

🔅 تقلید کی جامع اور مانع تعریف ایسی کریں جس سے سارے اشکالات دفع ہو جائیں اور سارے سوالات کے دروازے بند ہوجائیں۔ تقلید کہتے ہیں مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ مسائل کو بلامطالبہ دلیل مان لینا، جس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو اور اس کا مذہب مقلد کے پاس اصولاً و فروعًا مدوّن ہو کر تواتر کے ساتھ پہنچا ہو۔اس تعریف پر سارے اشکالات کے دروازے بند ہیں، اس تعریف سے فقہ اور تقلید پر سوال ہو ہی نہیں سکتا، تقلید کے عنوان پر جتنی کتابیں دیکھیں گے،آپ کو یہ تعریف نہیں ملے گی۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ یہ ہمارا فن ہے۔ ڈاکٹر، حکیم کو پتا ہے، کون سی جڑی بوٹی ڈالنی ہے اور اس سے کون کون سے مرض ٹھیک ہوتے ہیں۔ اس لیے میں تقلید کی یہ تعریف کرتاہوں مسائل اجتہادیہ میں غیر مجتہد کا ایسے مجتہد کے مفتیٰ بہ قول کو بلا مطالبہ دلیل مان لیناکہ اس کا مجتہد ہونا دلیل شرعی سے ثابت ہو اور اس کا مذہب اصولاً و فروعا ًمقلد کے پاس تواتر کے ساتھ پہنچا ہو یہ تقلید کی تعریف ہے۔ ٹھیک ہے؟

🔅 *تقلید کا لغوی معنی*

تقلید کا لغوی معنیٰ بھی ذہن میں رکھیں ایک معنیٰ لغوی ہےاور ایک اصطلاحی ہے۔ لغوی معنیٰ کیا ہوتا ہے؟ تقلید قلادہ سے ہے اور قلادہ کامعنیٰ ہار ہوتا ہے۔ تو مقلد کامعنیٰ ہے ہار ڈالنے والا۔ دیکھو کتنا اچھامعنیٰ ہے۔ غیر مقلدین کہتے ہیں تقلید قلادہ سے ہے۔ قلادہ کامعنیٰ پٹہ ہے۔ ہم کوئی کتّےہیں کہ اپنے گلے میں پٹہ ڈالیں؟ ہم کیا گدھے ہیں کہ پٹہ ڈالیں؟ یہ تو جانوروں کا کام ہے۔ تو ہم نےطقلادہ کامعنیٰ ہار کیا، اس نے قلادہ کامعنیٰ پٹہ کیا کیوں؟ اس لیے کہ ہم انسان ہیں، وہ جانور ہیں۔ انسان انسانوں والامعنیٰ کرتا ہے۔ جانور جانوروں والامعنیٰ کرتا ہے، اس لیے ہم اپنا معنیٰ کرتے ہیں اور وہ اپنا معنیٰ کرتے ہیں۔

🌹 *امام بخاری نے قلادہ کا کیا معنی کیا ہے؟*

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں قلادہ کا لفظ چار بار استعمال کیا ہے، جس کامعنیٰ ہار ہے، امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں لکھاہے *استعارت من اسماء قلادۃ*ً امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار لیا تھا، جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں گئی ہیں۔ خاوند کے ساتھ جارہی ہیں ناں، تو گلے میں ہار ڈال کے گئی ہیں۔ خاوندکے ساتھ سفر میں گئی ہیں، اس میں حرج نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے۔ دیکھو قلادہ کامعنیٰ ہار کیا پٹہ تو نہیں کیا ناں۔

⚜ تعجب ہے کہ بخاری کا نام لینے والا قلادہ کا بھی معنیٰ ہار نہیں کرتا، ہار کرتے ڈرتا ہے۔ اور ہم انسان ہیں اس لیے انسانوں والا معنیٰ کیا ہے، وہ جانور ہیں، جانوروں والامعنیٰ کرتے ہیں۔ میں جب کہتا ہوں ناں کہ وہ جانور ہیں ایسے نہیں کہتا، میرے پاس دلائل ہیں، اس وجہ سے میں ان کو جانور کہتا ہوں۔ یہ ذہن میں رکھیں ہم ان کو جانور کہتے ہیں تو ایسے نہیں کہتے بلکہ ہمارے پاس دلائل ہیں اور جانوروں کی کئی اقسام ہیں۔ آپ کے برما میں بھی ایسا ہے اور ہمارے ہاں بھی ایسا ہے، دنیا کے ہر علاقے میں ایسے ہے، وہاں صرف معنیٰ بیان کرنے کے لیے جانوروں کا نام استعمال کرتے ہیں۔

🌻 اگر کہنا ہو یہ بندہ بہت دلیر ہے تو کیا کہتے ہیں؟ یہ بندہ شیر ہے۔ اس کامعنیٰ کیا ہے، بہت بہادر ہے۔ کہتے ہیں ناں۔اگر کہنا ہو یہ بندہ بہت تیز ہے توکیا کہتے ہیں؟ [سامعین چیتا ] اور یہ بہت چالاک ہےتو کیا کہتے ہیں؟ [ لومڑی،سامعین ] کہتے ہیں ناں۔کہ فلاں بندہ لومڑی ہے معنیٰ کیا ہوتا ہے، بندہ بہت چالاک ہے، کسی کو کہتے ہیں یہ بھینس ہے،مطلب یہ ہوتاہے کہ یہ بہت سست ہے، جو کسی کو ڈسے، کہتے ہیں سانپ ہے، کہتے ہیں ناں آستین کا سانپ ہے، آستین کے سانپ کا معنیٰ کیا ہوتا ہے، جب بھی ڈستا ہے تو پتا نہیں چلتا ہے یہ سانپ کامعنیٰ ادا کرنے کے لیے ہوتا ہے، سانپ تھوڑی بنتا ہے اور اگر کہے بہت بڑا بیوقوف ہے کیا کہتے ہیں؟ (گدھا) استاذ کلاس میں کہتا ہے او گدھے! تجھے بات سمجھ نہیں آرہی، کیا وہ گدھا بن گیا؟ اب اگر اس کا باپ آئے اور کہے کہ میں نے بیٹے کو انسان بننے کے لیے مدرسے میں داخل کروایا تھا، تو تم لوگوں نے انسان کو گدھا بنالیا اس کو واپس لےکر جاتے ہیں؟

🌼 میں صرف یہ کہہ رہا تھا اگر یہ بتانا ہوکہ یہ بندہ بہت دلیر ہے تو کہتے ہیں یہ شیر ہے ،اگر بتانا ہو چالاک  ہے تو کہیں گے لومڑی ہے، اگر کہنا ہو تیز ہے تو کہتے ہیں چیتا ہے، اگر کہنا ہو سست ہے توکہتے ہیں بھینس ہے، اگر بتانا ہو ڈستا ہے تو کہتے ہیں سانپ ہے، اگر کہنا ہو بیوقوف ہے تو کیا کہتے ہیں؟ گدھایہ غیر مقلد گدھے ہیں، سب سے زیادہ دنیا میں بے وقوف لوگ غیر مقلدین ہیں۔ اس میں بہت ساری وجہیں ہیں، میں صرف ایک وجہ پیش کرتا ہوں۔

🌹 *وجہ تشبیہ*

آپ دیکھیں گے، گدھے کے اوپر جتنا بھی بوجھ لادیں وہ اٹھا لیتا ہے اور سر پہ ایک چھٹانک رکھو نہیں اٹھاتا ہے، گدھے کی کمر پر پانچ من گندم لادو اٹھا لے گا، پھر اس کے سر پہ ایک چھٹانک رکھ دو تو نہیں اٹھاتا ہے۔ ایسے سر مارکر ادھر پھینک دے گا۔

غیر مقلد کے جسم پر جتنے چاہو کپڑے پہنادو اٹھالے گا اور سر پر ایک جالی کی ٹو پی رکھ دیں تو بھی اتار دیتا ہے۔ اور نیچے جسم پر بنیان ہوگی، اوپر قمیص ہوگی اس کے اوپر سویٹر ہوگا اور چادر ہوگی۔

اگر جہاد کے نام پر جھوٹ بولے گا تو پھر اوپر کلاشن ہوگی اور یہ سب کچھ اٹھایا ہوگا مگر سر پہ جالی کی ٹوپی رکھو، یہ خانقاہی ٹوپی رکھو، پھینک دے گا یہ کام کس کا ہے؟ گدھے کا کام ہے کمر پہ بوجھ اٹھائے گا، سر پہ نہ اٹھانا یہ گدھے کا کام ہے، انسان کا کام نہیں ہوتا۔ یہ انسان نہیں گدھے ہیں۔ چلیں میں ایک اور وجہ بتاتا ہوں، ہم ان کو گدھے کیوں کہتے ہیں؟ قرآن مجید میں ہے

*قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ*
(سورۃ المومنون آیت نمبر 1،2)

وہ نماز والے کا میاب ہوں گے جو نماز میں خشوع کرتے ہیں اور خاشعون کا معنیٰ کیا ہے؟

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

*مخبتون متواضعون لا یلتفتون یمیناولاشمالاًولایرفعون ایدھم فی الصلوۃ*
(تفسیر ابن عباس،ص221)

🔰 خاشعون کا معنیٰ کیا ہے؟ لا یرفعون ایدیھم نماز میں رفع یدین نہ کرنا، یہ خشوع ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ اور یہ صحابی کی تفسیر ہے، اور جو صحابی کی تفسیر ہو، وہ مسند حدیث کے درجے میں ہوتی ہے۔ امام حاکم لکھتے ہیں

*أن تفسير الصحابي الذي شهد الوحي و التنزيل عند الشيخين حديث مسند*
(المستدرك على الصحيحين رقم الحدیث 3021)

🌸 تفسیر صحابی کا درجہ حدیث مسند کا ہے،تو حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ ترک رفع یدین خشوع ہے۔ یہ بات ثابت ہوگئی۔ اچھا دوسری آیت دیکھو
وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ
 نماز اس شخص پر بھاری ہے، جو خشوع نہیں کرتا اور جس کی نماز میں خشوع ہو اس پر نماز ہلکی ہے۔ ٹھیک ہے؟ ترک رفع یدین یہ خشوع ہے اور خشوع والی نماز یہ ہلکی ہے۔تو ترک رفع یدین والی نماز ہلکی ہوگی، یہ صغریٰ ہے۔ کبری ٰبناؤ اور حد اوسط نکالو تو نتیجہ آگیا، یہ منطق کی شکل رابع ہے۔ ایسے ہے کہ نہیں؟ یہ بات میں اس لیے کہتاہوں، مولوی کہتے ہیں اس کو کتابیں نہیں آتیں۔ یہ خطیب ہے، یہ تقریریں کرتا ہے اور پیسے کماتا ہے۔ میں کسی علاقے میں نہ گیا ہوں میرے جانے سے پہلے تاثر عجیب ہوتا ہے، کہتے ہیں بس خطیب آدمی ہے، تقریریں کرتا ہے اور پیسے کماتا ہے۔ شکل رابع تو سمجھتے ہونا ں۔؟

*قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الخ*
(المومنون آیت نمبر1)

🌺 خشوع کہتے ہیں ترک رفع یدین کو۔ رفع یدین اگر کریں تو نماز بھاری اور رفع یدین نہ کریں تو نماز ہلکی، یہ بات سمجھ میں آگئی؟

*وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ*
(سورۃ البقرۃ آیت نمبر4،5)

🌹 ترک رفع یدین ہو تو خشوع اور رفع یدین نہ ہو تو خشوع نہیں ہے۔ خشوع والی نماز ہلکی ہوتی ہے، بغیر خشوع والی نماز بھاری ہوتی ہے۔اب بتائیں ترک رفع یدین والی نماز ہلکی ہوگی یا رفع یدین والی؟ سمجھ آگئی؟ ترک رفع الیدین والی نماز ہلکی ہے اور رفع یدین والی نماز بھاری ہے۔ اچھا آپ نے گدھا دیکھا ہوگا، جب گدھے کے اوپر بوجھ نہ ہو تو اس کی ٹانگیں بالکل ٹھیک ہوتی ہیں اور جوں ہی بوجھ اسکے اوپر ڈالو تو اس کی ٹانگیں کھل جاتی ہیں۔

غیر مقلد بالکل ٹھیک ہو گا، جیسے ہی نماز کے لیے کھڑا ہوگا تو ٹانگیں کھل جاتی ہیں، بوجھ آئے ٹانگیں گدھے کی کھل جاتی ہیں۔ انسانوں کی نہیں۔ میں نے اس لیے کہا کہ یہ گدھے ہیں، بیوقوف ہیں۔ میں یہ سخت باتیں نہیں کہہ رہا یہ باتیں وہ خود کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں یہ تقلید قلادہ سے ہے اور قلادہ کا معنیٰ پٹہ ہے ہم گدھے ہیں، اپنے گلے میں پٹہ ڈالیں؟ ایسی بات وہ نہ کہتے تو ہم کبھی بھی نہ کہتے۔ وہ کہتے ہیں کیا ہم گدھے ہیں؟ ہم کہتے ہیں جی ہاں تم گدھے ہو۔ بات سمجھ آگئی؟

🌹 *غیر مقلدین کی چال اور مقلد کی وضاحت*

میں اگلی بات کہتا ہوں مقلد یہ باب تفعیل سے ہے

*قَلَّدَ یُقَلِّدُ تَقْلِیْداً*

اور تفعیل متعدی ہے۔ کیا ہے؟ متعدی ہے۔ تو مقلد کا معنیٰ پٹہ ڈالنے والا ہے، پٹہ پہننے والا نہیں ہے۔ مقلد کا معنیٰ پٹہ ڈالنے والے۔ اور غیر مقلد ہیں پٹہ ڈلوانے والے۔ ہم کہتے ہیں ڈالنے والے کےلیے انسان ہونا ضروری ہے اور جس کو ڈالنا ہے، اس کی مرضی ہے چاہے گدھا پہنے چاہےتو کتّا پہنے۔ہ م انسان ہیں، ہم ڈالنے والے ہیں۔

اگر قلادہ کامعنیٰ پٹہ ہو پھر بھی ہمارے حق میں مفید ہے کیوں کہ ہم ڈالنے والے ہیں۔ اگر قلادہ کامعنیٰ ہار ہو تو پھر بھی ہمارے حق میں مفید ہے۔ الجھن تو نہیں ہے
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟