کرسمس کی مبارکباد دینا کیسا ہے
*کرسمس کے مبارک باد دینا اور اس دن ہدایا دینا*
فتویٰ نمبر: 2353
سوال: جناب مفتی صاحب!
میں نے سنا ہے کہ کسی عیسائی کو ” میری کرسمس“ (mary christmas) بولنے سے ایک مسلمان دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ” اللہ نے بیٹا جنا “(نعوذباللہ)
مستفتی: عبد الرزاق، فرنٹیر کالونی ، کلفٹن
03333537027
*"الجواب حامداً ومصلیا "*
واضح رہے کہ عیسائی قومیں ہر سال 25 دسمبر کو کرسمس کا جشن مناتی ہیں، یہ جشن دراصل حضرت عیسی علیہ السلام کا جشنِ ولادت ہے، کرسمس کا مطلب مسیحی اجتماع یا عیدِ ولادتِ مسیح ہے۔
عیسائیوں کا کہنا ہے کہ اس روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، لیکن تاریخی اعتبار سے اس کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے، آپ کی وفات کے بعد مختلف مقامات پر مختلف دنوں میں آپ کا یومِ ولادت منایا جاتا رہا ، عیسائیت کے فروغ کے بعد اس تہوار نے مذہبی روپ دھار لیا ہے۔
(ماخوذ مع التغیر از اردو انسائیکلوپیڈیا ص: 788، بحوالہ مکالمہ بین المذاہب،ص: 91، ط؛ فاروقیہ)
اور غیر مسلموں کو ان کے مذہبی تہوار پر مبارکباد دینا ، ہدایا دینا اور ان کی مجالس میں شرکت کرنا گویا ان سے محبت اور مودت کا اظہار اور ان کے مذہبی شعار اور تہوار میں شریک ہونا ہے، جوکہ شرعا ممنوع اور ناجائز ہے۔
اگر ان کے مذہبی تہوار کی تعظیم ، تکریم اور احترام کرتے ہوئے کوئی مبارکباد دے یا ہدیہ دے تو یہ موجبِ کفر ہے، اگر محض رسمی طور پر کہہ دے تب بھی اندیشۂ کفر ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
نیز غیر مسلموں کے تہوار کے دن ان کی دیکھا دیکھی میں مسلمانوں کو آپس میں بھی ایک دوسرے کو تحفہ ، تحائف نہیں دینے چاہیے ہیں ، تاکہ ان کی مشابہت سے بھی بچا جاسکے۔
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى
أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: 51]
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ } [الممتحنة: 1]
*كنز العمال میں ہے:*
24735- "من كثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم كان شريكا في عمله". "الديلمي عن ابن مسعود".
(9 / 22، ط: موسسۃ الرسالۃ)
*صحيح البخاري میں ہے:*
عن أبي وائل، عن عبد الله: عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «المرء مع من أحب»
(8 / 39، باب علامۃ حب الله عز وجل، ط: دار طوق النجاۃ)
*البحر الرائق میں ہے:*
قال - رحمه الله - (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله - لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكي لا يكون تشبيها بأولئك القوم، وقد قال - صلى الله عليه وسلم - «من تشبه بقوم فهو منهم» وقال في الجامع الأصغر رجل اشترى يوم النيروز شيئا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لا يكفر.
(8 / 555، مسائل متفرقہ فی الاکراہ، ط: دار الکتاب الاسلامی)
*فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:*
اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: "خوب رسمے نہادہ اند"، أو قال: "نیک آئیں نہادہ اند" یخاف علیه الکفر․
(الفتاوی التاتارخانیة: ۷/ ۳۴۸، مکتبہ زکریا دیوبند۔)
*مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:*
ويكفر بخروجه إلى نيروز المجوس والموافقة معهم فيما يفعلونه في ذلك اليوم وبشرائه يوم نيروز شيئا لم يكن يشتريه قبل ذلك تعظيما للنيروز لا للأكل والشرب وبإهدائه ذلك اليوم للمشركين ولو بيضة تعظيما لذلك اليوم
(1 / 698،کتاب السیر، ط: دار احیاء التراث العربی)
ــــ فقط واللہ اعلم
*کتبہ: محمد حمزہ منصور*
*جامعہ علوم اسلامیہ
علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی*
*18 جمادی الثانیہ 1438*
*18 مارچ 2017*
*الجواب صحیح: محمد شفیق عارف*
*الجواب صحیح: ابو بکر سعید الرحمن*
فتویٰ نمبر: 2353
سوال: جناب مفتی صاحب!
میں نے سنا ہے کہ کسی عیسائی کو ” میری کرسمس“ (mary christmas) بولنے سے ایک مسلمان دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ” اللہ نے بیٹا جنا “(نعوذباللہ)
مستفتی: عبد الرزاق، فرنٹیر کالونی ، کلفٹن
03333537027
*"الجواب حامداً ومصلیا "*
واضح رہے کہ عیسائی قومیں ہر سال 25 دسمبر کو کرسمس کا جشن مناتی ہیں، یہ جشن دراصل حضرت عیسی علیہ السلام کا جشنِ ولادت ہے، کرسمس کا مطلب مسیحی اجتماع یا عیدِ ولادتِ مسیح ہے۔
عیسائیوں کا کہنا ہے کہ اس روز حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے، لیکن تاریخی اعتبار سے اس کا کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے، آپ کی وفات کے بعد مختلف مقامات پر مختلف دنوں میں آپ کا یومِ ولادت منایا جاتا رہا ، عیسائیت کے فروغ کے بعد اس تہوار نے مذہبی روپ دھار لیا ہے۔
(ماخوذ مع التغیر از اردو انسائیکلوپیڈیا ص: 788، بحوالہ مکالمہ بین المذاہب،ص: 91، ط؛ فاروقیہ)
اور غیر مسلموں کو ان کے مذہبی تہوار پر مبارکباد دینا ، ہدایا دینا اور ان کی مجالس میں شرکت کرنا گویا ان سے محبت اور مودت کا اظہار اور ان کے مذہبی شعار اور تہوار میں شریک ہونا ہے، جوکہ شرعا ممنوع اور ناجائز ہے۔
اگر ان کے مذہبی تہوار کی تعظیم ، تکریم اور احترام کرتے ہوئے کوئی مبارکباد دے یا ہدیہ دے تو یہ موجبِ کفر ہے، اگر محض رسمی طور پر کہہ دے تب بھی اندیشۂ کفر ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
نیز غیر مسلموں کے تہوار کے دن ان کی دیکھا دیکھی میں مسلمانوں کو آپس میں بھی ایک دوسرے کو تحفہ ، تحائف نہیں دینے چاہیے ہیں ، تاکہ ان کی مشابہت سے بھی بچا جاسکے۔
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى
أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: 51]
*ارشادِ باری تعالیٰ ہے:*
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ } [الممتحنة: 1]
*كنز العمال میں ہے:*
24735- "من كثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم كان شريكا في عمله". "الديلمي عن ابن مسعود".
(9 / 22، ط: موسسۃ الرسالۃ)
*صحيح البخاري میں ہے:*
عن أبي وائل، عن عبد الله: عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «المرء مع من أحب»
(8 / 39، باب علامۃ حب الله عز وجل، ط: دار طوق النجاۃ)
*البحر الرائق میں ہے:*
قال - رحمه الله - (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر وقال أبو حفص الكبير - رحمه الله - لو أن رجلا عبد الله تعالى خمسين سنة ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضة يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله وقال صاحب الجامع الأصغر إذا أهدى يوم النيروز إلى مسلم آخر ولم يرد به تعظيم اليوم ولكن على ما اعتاده بعض الناس لا يكفر ولكن ينبغي له أن لا يفعل ذلك في ذلك اليوم خاصة ويفعله قبله أو بعده لكي لا يكون تشبيها بأولئك القوم، وقد قال - صلى الله عليه وسلم - «من تشبه بقوم فهو منهم» وقال في الجامع الأصغر رجل اشترى يوم النيروز شيئا يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لا يكفر.
(8 / 555، مسائل متفرقہ فی الاکراہ، ط: دار الکتاب الاسلامی)
*فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:*
اجتمع المجوس یوم النیروز فقال مسلم: "خوب رسمے نہادہ اند"، أو قال: "نیک آئیں نہادہ اند" یخاف علیه الکفر․
(الفتاوی التاتارخانیة: ۷/ ۳۴۸، مکتبہ زکریا دیوبند۔)
*مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:*
ويكفر بخروجه إلى نيروز المجوس والموافقة معهم فيما يفعلونه في ذلك اليوم وبشرائه يوم نيروز شيئا لم يكن يشتريه قبل ذلك تعظيما للنيروز لا للأكل والشرب وبإهدائه ذلك اليوم للمشركين ولو بيضة تعظيما لذلك اليوم
(1 / 698،کتاب السیر، ط: دار احیاء التراث العربی)
ــــ فقط واللہ اعلم
*کتبہ: محمد حمزہ منصور*
*جامعہ علوم اسلامیہ
علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی*
*18 جمادی الثانیہ 1438*
*18 مارچ 2017*
*الجواب صحیح: محمد شفیق عارف*
*الجواب صحیح: ابو بکر سعید الرحمن*
Comments
Post a Comment