مولانا اسرارالحق قاسمی کی خدمات ناقابل فراموش

مولانااسرارالحق قاسمی کی ملی و سماجی خدمات ناقابل فراموش
ٹیڑھاگاچھ بلاک کے جھالاچوک میں منعقدہ تعزیتی جلسہ میں مولانا انوار عالم ،مفتی جسیم اختر قاسمی اور ایم ایل اے مجاہد وغیرہ کا اظہار خیال
کشن گنج:حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی رحلت دینی،ملی،سیاسی اور سماجی حلقوں کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پرہونا بظاہرمشکل نظر آتاہے۔ان خیالات کا اظہاربزرگ عالم دین اور دارالعلوم بہادرگنج کے ناظم مولانا انوار عالم نے ٹیڑھاگاچھ بلاک کے جھالاچوک میں منعقدہ تعزیتی جلسہ میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں علماء،سماجی کارکنان اور مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ موجودتھے، اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔انھوں نے کہاکہ مولانا کی نماز جنازہ میں جتنی بڑی تعداد جمع ہوئی اور جس بڑے پیمانے پر لوگوں نے اپنے رنج و غم کا اظہار کیاہے اور اب تک پورے ملک میں تعزیتی جلسوں اور دعائے مغفرت و ایصال ثواب کا جولگاتار سلسلہ جاری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے حلقے میں بلکہ ملک بھر میں کس درجہ مقبولیت حاصل تھی اور لوگوں کے دلوں میں ان کی کتنی زیادہ قدر تھی۔مولانا انوار نے کہاکہ مولاناجیسا بے نفس اور ملت و قوم کے دردمیں گھلنے والا انسان اب شاید ہی ہمیں دیکھنے کو ملے،انہوں نے اپنا سب کچھ ملت کی خدمت کے راستے میں قربان کردیا،ممبر پارلیمنٹ ہونے کے باوجود کوئی ذاتی جائیداداور مال و دولت نہیں اکٹھاکیا،انہوں نے سیاست کو سماج کی خدمت کے ذریعہ کے طورپر اختیار کیاتھا،چنانچہ جس طرح وہ پہلے سماجی شعبوں میں خدمت کررہے تھے اسی طرح ایم پی بننے کے بعد بھی لوگوں کی خدمت میں مصروف رہے۔دارالعلوم بہادر گنج کے استاذ حدیث مفتی جسیم اختر قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ حضرت مولانا کی رحلت سے ہم سب نہایت مغموم ہیں اور ان کی وفات نہ صرف ان کے اہل خانہ و پسماندگان اور سیمانچل کے لئے عظیم سانحہ ہے،بلکہ ملک بھر کے مسلمانوں کاناقابل تلافی نقصان ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا فقیر صفت انسان تھے اور بڑی بے نیازی سے قوم کی خدمت کرتے رہے،زندگی کے آخری لمحات تک انہوں نے دین کی خدمت کی اور مسلمانوں کو مساجد و مدارس اور دین سے محبت کرنے کی تلقین کرتے رہے۔انہوں نے کہ اس موقع پر جمع ہونے والے ہزاروں کے مجمع اور مختلف بلاکوں اور سماجی حلقوں کے لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کایہاں شریک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ مولانا سے کس قدر عقیدت رکھتے تھے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کا انتقال ہوتا رہتا ہے اور آیندہ بھی ہوتا رہے گا لیکن مولانا کی وفات پر جس طرح تمام ملک میں تعزیتی جلسے،ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کا اہتمام کیاجارہاہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ہم نے مولانا کے مقام و مرتبہ کو پہچاننے میں غلطی کی اور ان کی جس طرح قدرکرنی چاہئے تھی ہم نے ان کی ویسی قدر نہیں کی۔انہوں نے اپنی پوری زندگی علاقے کے لوگوں کی ترقی بھلائی اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے کی جدوجہد میں صرف کرنے کے ساتھ اپنے آپ کو ملت کی فلاح و بہبودکے لئے وقف کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ مولانا اسرارالحق صاحب اپنے مخالفین سے بھی بدلہ نہیں لیتے تھے ،وہ صبر کے معاملے میں ہمالیہ پہاڑکی طرح مضبوط تھے ،ایم پی رہنے کے دس سال کے درمیان میں نہ توانہوں نے اپنے کسی سیاسی مخالف کو پریشان کیانہ انہیں جیل بھجوایا،اسی طرح وہ اپنے سیاسی مخالفین کے الزامات وغیرہ کا جواب دینے کے بجائے مثبت انداز میں اپناکام کرتے رہتے تھے ،سیاست میں بھی انہوں نے اسلامی روایات کو قائم رکھا اور یہ ان کی ایک بہت بڑی خوبی تھی۔ یہ پروگرام مدثرآزاد چھوٹے مکھیا کے زیر اہتمام منعقد کیاگیا تھا۔اس موقع پر انہوں نے مولانا کی وفات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ کشن گنج کو اب مولانا جیسا سیاسی و سماجی رہنما اور عظیم رہبر نہیں مل سکتا،وہ اس علاقے کے تمام لوگوں کے مخلص قائد و خادم تھے اور انہوں نے پوری زندگی دوسروں کی خدمت کرتے ہوئے گزاری۔اس موقع پرایم ایل اے ماسٹر مجاہد، ڈاکٹر ظریف احمد،رحمان گنج کے مولانا نفیس احمد،جمعیۃ علماء بہادر گنج کے نائب سکریٹری قاری تنویر احمد،قاری مسعود،قاری مشکور،مفتی شاہ نجم اور مفتی جاوید اطہر وغیرہ نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔پروگرام کے دوران اسجد امینی نے مولانا اسرارالحق قاسمی کی شان میں ایک نہایت دردانگیز مرثیہ پڑھاجسے سن کر سامعین متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور سب کی آنکھوں سے آنسورواں ہوگئے۔

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟