ہاں میں مولانا اسرارالحق ہوں
ہاں میں مولانا اسرارالحق قاسمیؒ ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
جی عالم باعمل، عظیم سیاست داں، مفکر، مدبر، سنجیدہ مقرر، بہترین قلمکار، بیباک صحافی، مشہور کالم نگار، زمینی قائد، سیمانچل کا مسیحا، انتہائی سادہ، ملنسار، متواضع، با اخلاق، حلیم و بردبار، دشمنوں کو گلے لگانے والا، دوستوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے محبت کرنے والا، سادگی پسند، نام و نمود سے کوسوں دور، قوم کے درد میں اپنے آپ کو گُھلانے والا، آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کا بانی، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند، ممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی ہوں۔ میری پیدائش برطانوی دور اقتدار میں آزادی ہند سے پانچ سال قبل ۱۵؍ فروری ۱۹۴۲ کو بہار کے پسماندہ ضلع کشن گنج سے چالیس کلو میٹر دور ٹپو گاؤں میں ’اُمید علی‘ کے گھر ہوئی۔ میرے تین بیٹے، اور دو بیٹیاں ہیں۔ میں نے ابتدائی تعلیم علاقے کے مختلف مدارس میں حاصل کی، اس کے بعد ام المدارس دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں کبار علما سے اکتساب فیض کیا اور ۱۹۶۴ میں فراغت پائی۔ بیعت و سلوک کی اجازت مفتی مظفر حسین صاحب ؒ سے حاصل کی۔ دارالعلوم سے فضیلت کے بعد کچھ دنوں تک بہار کے بیگو سرائے میں قائم مدرسہ بدرالاسلام میں درس وتدریس سے وابستہ رہا، پھر قوم کی دگرگوں حالت کو دیکھتے ہوئے ملی و سماجی کاموں پر اپنا وقت صرف کرنا شروع کردیا اور ہندوستان کی قدیم تنظیم جمعیۃ علما ہند سے وابستہ ہوا اور برسوں تک جنرل سکریٹری کے عہدے پر فائز رہ کر قوم کی خدمت کی، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ رہ کر قوم مسلم کی داد رسی کی۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس نے قوم کے نونہالوں کو دینی و عصری تعلیم سے جوڑنے کے لیے بہار، اڈیشہ، بنگال، اترپردیش وغیرہ میں مدارس و مکاتب کا جال پھیلایا ، اسکول و کالج کی بنیاد ڈالی۔ کشن گنج میں لڑکیوں کے لیے بارہویں جماعت تک کا ایک معیاری اسکول قائم کیا جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بچے بچیاں دینی و عصری علوم سے بہرہ ور ہوکر قوم و ملت کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس پر فقیہ دوراں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اعتماد کرتے تھے، جن کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھا اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ کی رہنمائی و دست گیری کی اور خدمت خلق کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس نے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کی طویل اور صبر آزما جد و جہد کی اور مکمل تحریک چلا کر کشنج گنج کو تعلیمی تحفہ سے نوازا؛ تاکہ ہمارے نوجوان بچے بچیاں عصری علوم پر دسترس حاصل کر کے قومی دھارے میں شامل ہوسکیں اور اعلیٰ منصبوں پر فائز ہوکر قوم وملت کی خدمت کریں۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جو مسلمانوں کی متحدہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا رکن اساسی، رکن عاملہ اور تاحیات رکن رہا۔ میرا بہار کے قدیم ادارے "امارت شرعیہ" سے بھی تعلق رہا، میں برسوں تک اس کی شوری کا رکن بھی رہا۔ میں نے ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمت کی اور وہاں سے شائع ہونے والے رسالے ملی اتحاد کا برسوں مدیر بھی رہا۔ میں ۲۰۰۹ء میں پہلی بار کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا ممبر منتخب ہوا، پھر دوسری بار جب پورے ملک میں مودی لہر چل رہی تھی؛ لیکن کشن گنج میں قاسمی لہر برقرار تھی، پورے ملک میں جہاں کانگریس ہزیمت سے دو چار ہوئی، وہیں میں ۲۰۱۴ میں تقریباً دو لاکھ ووٹوں سے کانگریس کے ٹکٹ پر فتح حاصل کر کے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوا۔ میں نے ایم پی فنڈ سے ذاتی مکانات نہیں بنوائے، عیش و عشرت کی زندگی نہیں گزاری؛ بلکہ ایم پی فنڈ سے قوم کی خدمت کی، انہیں سہارا دیا، ان کے لیے گھر بنوائے، ان کی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور لڑکوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے بارہا پارلیمنٹ میں قوم کی آواز اُٹھائی، دبے کچلے، پسماندہ اقلیتوں کے فلاح وبہبود کے لیے اسکیمیں پاس کروانے کی کوششیں کیں۔ انہیں کوسی ندی کے قہر سے بچانے کی سعی کی، مرکزی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ آپ کو یاد ہوگا جب کوسی ندی کے قہر سے پورنیہ، ارریہ، کشن گنج کی لاکھوں آبادی متاثر تھی میں وہاں زمینی سطح پر کام کررہا تھا اور ڈوبتے کے لیے تنکے کا واحد سہارا تھا، میں نے اپنے آرام کو تج دیا تھا اور ان کے آرام کے لیے کوشاں تھا۔ آندھی و طوفان، بارش، کیچڑ، سیلاب میری راہ میں حائل نہیں ہوئے، میں عزم مصمم کے ساتھ اپنے علاقے کے بے سہارا لوگوں کو امداد فراہم کرتا رہا۔ اگر میں چاہتا تو دیگر سیاسی لیڈران کی طرح خواب خرگوش میں مدہوش رہتا، ڈوبتی، سسکتی انسانیت کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے نفرت کی سیاست کرتا؛ لیکن میں ایسا نہیں تھا میں محبت کا امین تھا، جہاں انہیں ضرورت محسوس ہوئی میں وہاں سب سے پہلے موجود ہوتا تھا۔ خیر اس دنیا میں جو آیا ہے اسے ہر حال میں جانا ہے "کل نفس ذائقة الموت" (ہری ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے) کے اصول کے تحت میں بھی اس دنیا میں عارضی طور پر آیا تھا،۷؍دسمبر کی رات قوم کے درد میں تقریباً ایک بجے تک قوم کو خطاب کیا، انہیں دنیا و آخرت کے فلاحی اصول بتائے اور اپنے دائمی ٹھکانے پر ہمیشہ کے لیے چلا آیا، مجھے عین تہجد کے وقت سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی اور میں اپنے قریب موجود سیکوریٹی گارڈ و دیگر افراد سے یہ کہتے ہوئے کہ ’میں اللہ کے پاس جارہاہوں۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دینا‘ اس دنیا سے رخصت ہوگیا، یہ نحیف خاکی جسم اپنے وطن کی خاک میں ہزاروں سوگواروں کی عقیدت و محبت لیے ہوئے ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا، میں اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ گیا ہوں، قوم کا درد، قوم کی کسک، قوم کے سنہرے مستقبل کے لیے ادھورے خواب اس امید پر کہ میرے چاہنے والے اسے پورا کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔
جگاکر خاکیوں کو وسعت افلاک کے نیچے
یہ خاکی سوگیا اپنے وطن کی خاک کے نیچے
نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
جی عالم باعمل، عظیم سیاست داں، مفکر، مدبر، سنجیدہ مقرر، بہترین قلمکار، بیباک صحافی، مشہور کالم نگار، زمینی قائد، سیمانچل کا مسیحا، انتہائی سادہ، ملنسار، متواضع، با اخلاق، حلیم و بردبار، دشمنوں کو گلے لگانے والا، دوستوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا، بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے محبت کرنے والا، سادگی پسند، نام و نمود سے کوسوں دور، قوم کے درد میں اپنے آپ کو گُھلانے والا، آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کا بانی، رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند، ممبر آف پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی ہوں۔ میری پیدائش برطانوی دور اقتدار میں آزادی ہند سے پانچ سال قبل ۱۵؍ فروری ۱۹۴۲ کو بہار کے پسماندہ ضلع کشن گنج سے چالیس کلو میٹر دور ٹپو گاؤں میں ’اُمید علی‘ کے گھر ہوئی۔ میرے تین بیٹے، اور دو بیٹیاں ہیں۔ میں نے ابتدائی تعلیم علاقے کے مختلف مدارس میں حاصل کی، اس کے بعد ام المدارس دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں کبار علما سے اکتساب فیض کیا اور ۱۹۶۴ میں فراغت پائی۔ بیعت و سلوک کی اجازت مفتی مظفر حسین صاحب ؒ سے حاصل کی۔ دارالعلوم سے فضیلت کے بعد کچھ دنوں تک بہار کے بیگو سرائے میں قائم مدرسہ بدرالاسلام میں درس وتدریس سے وابستہ رہا، پھر قوم کی دگرگوں حالت کو دیکھتے ہوئے ملی و سماجی کاموں پر اپنا وقت صرف کرنا شروع کردیا اور ہندوستان کی قدیم تنظیم جمعیۃ علما ہند سے وابستہ ہوا اور برسوں تک جنرل سکریٹری کے عہدے پر فائز رہ کر قوم کی خدمت کی، فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی علیہ الرحمہ کے شانہ بشانہ رہ کر قوم مسلم کی داد رسی کی۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس نے قوم کے نونہالوں کو دینی و عصری تعلیم سے جوڑنے کے لیے بہار، اڈیشہ، بنگال، اترپردیش وغیرہ میں مدارس و مکاتب کا جال پھیلایا ، اسکول و کالج کی بنیاد ڈالی۔ کشن گنج میں لڑکیوں کے لیے بارہویں جماعت تک کا ایک معیاری اسکول قائم کیا جہاں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بچے بچیاں دینی و عصری علوم سے بہرہ ور ہوکر قوم و ملت کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس پر فقیہ دوراں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اعتماد کرتے تھے، جن کی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھا اور ان کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ کی رہنمائی و دست گیری کی اور خدمت خلق کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جس نے کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ قائم کرنے کی طویل اور صبر آزما جد و جہد کی اور مکمل تحریک چلا کر کشنج گنج کو تعلیمی تحفہ سے نوازا؛ تاکہ ہمارے نوجوان بچے بچیاں عصری علوم پر دسترس حاصل کر کے قومی دھارے میں شامل ہوسکیں اور اعلیٰ منصبوں پر فائز ہوکر قوم وملت کی خدمت کریں۔ ہاں میں وہی اسرارالحق قاسمی ہوں جو مسلمانوں کی متحدہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا رکن اساسی، رکن عاملہ اور تاحیات رکن رہا۔ میرا بہار کے قدیم ادارے "امارت شرعیہ" سے بھی تعلق رہا، میں برسوں تک اس کی شوری کا رکن بھی رہا۔ میں نے ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمت کی اور وہاں سے شائع ہونے والے رسالے ملی اتحاد کا برسوں مدیر بھی رہا۔ میں ۲۰۰۹ء میں پہلی بار کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا ممبر منتخب ہوا، پھر دوسری بار جب پورے ملک میں مودی لہر چل رہی تھی؛ لیکن کشن گنج میں قاسمی لہر برقرار تھی، پورے ملک میں جہاں کانگریس ہزیمت سے دو چار ہوئی، وہیں میں ۲۰۱۴ میں تقریباً دو لاکھ ووٹوں سے کانگریس کے ٹکٹ پر فتح حاصل کر کے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوا۔ میں نے ایم پی فنڈ سے ذاتی مکانات نہیں بنوائے، عیش و عشرت کی زندگی نہیں گزاری؛ بلکہ ایم پی فنڈ سے قوم کی خدمت کی، انہیں سہارا دیا، ان کے لیے گھر بنوائے، ان کی بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اور لڑکوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے بارہا پارلیمنٹ میں قوم کی آواز اُٹھائی، دبے کچلے، پسماندہ اقلیتوں کے فلاح وبہبود کے لیے اسکیمیں پاس کروانے کی کوششیں کیں۔ انہیں کوسی ندی کے قہر سے بچانے کی سعی کی، مرکزی حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی۔ آپ کو یاد ہوگا جب کوسی ندی کے قہر سے پورنیہ، ارریہ، کشن گنج کی لاکھوں آبادی متاثر تھی میں وہاں زمینی سطح پر کام کررہا تھا اور ڈوبتے کے لیے تنکے کا واحد سہارا تھا، میں نے اپنے آرام کو تج دیا تھا اور ان کے آرام کے لیے کوشاں تھا۔ آندھی و طوفان، بارش، کیچڑ، سیلاب میری راہ میں حائل نہیں ہوئے، میں عزم مصمم کے ساتھ اپنے علاقے کے بے سہارا لوگوں کو امداد فراہم کرتا رہا۔ اگر میں چاہتا تو دیگر سیاسی لیڈران کی طرح خواب خرگوش میں مدہوش رہتا، ڈوبتی، سسکتی انسانیت کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے نفرت کی سیاست کرتا؛ لیکن میں ایسا نہیں تھا میں محبت کا امین تھا، جہاں انہیں ضرورت محسوس ہوئی میں وہاں سب سے پہلے موجود ہوتا تھا۔ خیر اس دنیا میں جو آیا ہے اسے ہر حال میں جانا ہے "کل نفس ذائقة الموت" (ہری ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے) کے اصول کے تحت میں بھی اس دنیا میں عارضی طور پر آیا تھا،۷؍دسمبر کی رات قوم کے درد میں تقریباً ایک بجے تک قوم کو خطاب کیا، انہیں دنیا و آخرت کے فلاحی اصول بتائے اور اپنے دائمی ٹھکانے پر ہمیشہ کے لیے چلا آیا، مجھے عین تہجد کے وقت سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی اور میں اپنے قریب موجود سیکوریٹی گارڈ و دیگر افراد سے یہ کہتے ہوئے کہ ’میں اللہ کے پاس جارہاہوں۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کر دینا‘ اس دنیا سے رخصت ہوگیا، یہ نحیف خاکی جسم اپنے وطن کی خاک میں ہزاروں سوگواروں کی عقیدت و محبت لیے ہوئے ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا، میں اپنے پیچھے بہت کچھ چھوڑ گیا ہوں، قوم کا درد، قوم کی کسک، قوم کے سنہرے مستقبل کے لیے ادھورے خواب اس امید پر کہ میرے چاہنے والے اسے پورا کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔
جگاکر خاکیوں کو وسعت افلاک کے نیچے
یہ خاکی سوگیا اپنے وطن کی خاک کے نیچے
Comments
Post a Comment