ان مولویوں کو ملک سے نکال دو سکون ہوجائے گا
*"ان مولویوں کو ملک سے نکال دو سکون ہوجائے گا"*
*"مولویوں کو دین کا کچھ پتا ہی نہیں ہے"*
"یہ مولوی دین کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں"
"اب ہماری مولویوں سے کھلی جنگ ہے"
آپ غور کیجیے گا یہ جملے کہنے والے لوگ صرف جمعے کو، اور اکثر تو صرف عید کے دن ہی وضو کرتے ہیں۔
اور ہمیں سکھا رہے ہیں کہ دین کہاں سے آئے گا اس پر کیسے عمل ہوگا۔
الفاظ تھوڑے سخت ہیں
لیکن
اب حد ہوچکی ہے۔
جس کی خود نورانی قاعدہ پڑھنے کی اوقات نہیں ہے وہ وقت کے علماء و محدثین پر تنقید کر رہا ہے۔
بھائی شیخ لبرل!
تم کو پتا ہے مولوی کون ہوتا ہے؟
جس نے اپنی زندگی کے 11 سال، اگر حافظ بھی ہے تو 15 سال، اگر مفتی ہے تو 18 سال صرف اور صرف اللہ کے لیے وقف کیے ہوئے ہوتے ہیں۔
اسکوپ کیا ہے مولوی کا اس معاشرے میں؟
دیا کیا ہے آپ نے مولوی کو جو لینے پر تلے ہو؟
اپنے محلے کی مسجد، مدرسے میں جا کر تو دیکھو کس حال میں رہ رہے ہیں یہ لوگ۔
چلیں اس بات کا تو گلہ ہے ہی نہیں کہ ان کو ملا کیا، وہ الگ بحث ہے۔
بات یہ ہے کہ تم کون ہو؟
تعلیم کیا ہے تمہاری؟
وضو کے فرائض پتا ہیں؟
غسل کرنا جانتے ہو؟
آخری بار باجماعت فجر کب پڑھی تھی؟
قرآن کتنا جانتے ہو؟
حدیث کتنی پڑھی ہے؟
فقہی مسائل کتنے سمجھ لیتے ہو؟
معیشت و معاشرت پر کتنی احادیث ازبر ہیں؟
اوقات تمہاری نورانی قاعدے کی نہیں اور علماء کے خلاف گز بھر لمبی زبان نکلی پڑی ہے۔
*وجہ یہ ہے کہ مولوی نے قرآن پڑھ رکھا ہے وہ تمہارے حرام کاموں کو "حرام" کہنا جانتا ہے۔*
اس لیے تمہاری دکھتی رگ پھڑکتی ہے۔
وہ گالی کے بدلے گالی نہیں دیتا،
وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتا،
وہ اپنی گفتگو سے نرمی تو ختم کر سکتا ہے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتا،
وہ ایک چٹائی پر 10 ہزار کی تنخواہ میں زندگی گزار دیتا ہے
تمہاری طرح ضمیر کے سودے نہیں کرتا،
وہ تمہاری دنیا پر نظر کیے بغیر تمہاری آخرت سنوارنا چاہتا ہے اس لیے تم کو کھٹکتا ہے۔
ورنہ مجھے بتا دو اختلافات کہاں نہیں ہیں؟
دوغلے دھوکے باز اور سفید پوش کالی بھیڑیں کس شعبے کس ادارے میں نہیں؟
یونیورسٹی کالج اسکولوں میں نہیں؟
کاروبار، فیکٹریوں، زمینوں یا وڈیروں میں نہیں؟
سیاست میں نہیں؟
سائنس میں نہیں؟ طب میں نہیں؟
حکمت میں نہیں؟ تہذیب میں نہیں؟
قومیت لسانیت سے لے کر ملکی معیشت و کاروبار تک ہر ادارے میں کچھ نہ کچھ برے لوگ ہیں
*تو پھر ایک مولویت سے ہی کیوں تکلیف ہے؟*
ہر داڑھی والے کو مولویت سے جوڑ دیتے ہو
ہر ٹوپی پگڑی والے کو عالم سمجھ لیتے ہو
ہر نمازی کو تم مفتی گردان لیتے ہو ایسا کیوں؟
دنیا کے معاملے میں کبھی تم نے فارمیسی جا کر سبزی نہیں خریدی،
تھانے بھیج کر بچوں کو تعلیم نہیں دلوائی،
جوتے کی دوکان سے صوفے نہیں خریدے،
مستری سے کبھی دانت نہیں نکلوایا،
رنگ والے سے کبھی بال نہیں کٹوائے،
دھوبی سے کبھی جوتے پالش نہیں کروائے
ڈاکٹر کے کلینک میں بل جمع نہیں کروائے
بینک میں جا کر کبھی پاسپورٹ میں بنوائے۔
وہاں تمہاری بڑی عقل چلتی ہے کہ ہر چیز اسی کے مقام و ماہر سے ہی صحیح ہے،
*تو ایک دین ہی مظلوم ملا تھا جو دھوکے میں آگئے؟*
کیوں گئے تھے "انجینیئر" سے دین کی بات پوچھنے؟
کیوں ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے شرعی مسئلہ پوچھا تھا؟
کیوں محلے کے "حاجی" صاحب سے عقائد پر بات کی تھی؟
کیوں صرف داڑھی دیکھ کر تم ایک کیمسٹری کے طالب علم کو عالم سمجھ لیا؟
*تم تو اتنے عقلمند تھے دنیا جہاں کی سمجھ رکھتے تھے بس یہیں پر معصوم بننا تھا؟*
تو قصور کس کا ہوا؟
*تمہارا یا مولوی کا؟*
تم نے سمجھا ہی نہیں ہے عالم ہوتا کون ہے
مدرسے کیا اہمیت رکھتے ہیں
دارالافتاء کسے کہتے ہیں۔
میں مانتا ہوں کالی بھیڑیں ہم میں بھی ہیں لیکن وہ کہاں نہیں ہیں؟
دو نمبر لوگوں کے چکر میں کب تک اپنے ہی لوگوں کو گالیاں دوگے؟
تم نے ہی پلمبر سے دانت نکلوا لیا تو اس میں مولوی کا کیا قصور؟
کیوں تم دین سیکھنے صحیح لوگوں کے پاس نہیں جاتے؟
کیوں تم کو صرف دین ہی کے معاملے میں رائے زنی کا شوق ہے؟
آخر کب تک یہ *ملا* اور *مسٹر* کی جنگ چلتی رہے گی؟
کب تمہاری عقلمندی یہاں فعال ہوگی؟
کب یہ بالقصد معصومانہ رویہ ختم کرو گے؟
*اپنی آنکھوں سے ظلمت، عصبیت اور نادانی کی پٹی اتار دو۔*
*اب بس کرو۔ بس کرو۔* 🙏🙏🙏
*"مولویوں کو دین کا کچھ پتا ہی نہیں ہے"*
"یہ مولوی دین کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں"
"اب ہماری مولویوں سے کھلی جنگ ہے"
آپ غور کیجیے گا یہ جملے کہنے والے لوگ صرف جمعے کو، اور اکثر تو صرف عید کے دن ہی وضو کرتے ہیں۔
اور ہمیں سکھا رہے ہیں کہ دین کہاں سے آئے گا اس پر کیسے عمل ہوگا۔
الفاظ تھوڑے سخت ہیں
لیکن
اب حد ہوچکی ہے۔
جس کی خود نورانی قاعدہ پڑھنے کی اوقات نہیں ہے وہ وقت کے علماء و محدثین پر تنقید کر رہا ہے۔
بھائی شیخ لبرل!
تم کو پتا ہے مولوی کون ہوتا ہے؟
جس نے اپنی زندگی کے 11 سال، اگر حافظ بھی ہے تو 15 سال، اگر مفتی ہے تو 18 سال صرف اور صرف اللہ کے لیے وقف کیے ہوئے ہوتے ہیں۔
اسکوپ کیا ہے مولوی کا اس معاشرے میں؟
دیا کیا ہے آپ نے مولوی کو جو لینے پر تلے ہو؟
اپنے محلے کی مسجد، مدرسے میں جا کر تو دیکھو کس حال میں رہ رہے ہیں یہ لوگ۔
چلیں اس بات کا تو گلہ ہے ہی نہیں کہ ان کو ملا کیا، وہ الگ بحث ہے۔
بات یہ ہے کہ تم کون ہو؟
تعلیم کیا ہے تمہاری؟
وضو کے فرائض پتا ہیں؟
غسل کرنا جانتے ہو؟
آخری بار باجماعت فجر کب پڑھی تھی؟
قرآن کتنا جانتے ہو؟
حدیث کتنی پڑھی ہے؟
فقہی مسائل کتنے سمجھ لیتے ہو؟
معیشت و معاشرت پر کتنی احادیث ازبر ہیں؟
اوقات تمہاری نورانی قاعدے کی نہیں اور علماء کے خلاف گز بھر لمبی زبان نکلی پڑی ہے۔
*وجہ یہ ہے کہ مولوی نے قرآن پڑھ رکھا ہے وہ تمہارے حرام کاموں کو "حرام" کہنا جانتا ہے۔*
اس لیے تمہاری دکھتی رگ پھڑکتی ہے۔
وہ گالی کے بدلے گالی نہیں دیتا،
وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتا،
وہ اپنی گفتگو سے نرمی تو ختم کر سکتا ہے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتا،
وہ ایک چٹائی پر 10 ہزار کی تنخواہ میں زندگی گزار دیتا ہے
تمہاری طرح ضمیر کے سودے نہیں کرتا،
وہ تمہاری دنیا پر نظر کیے بغیر تمہاری آخرت سنوارنا چاہتا ہے اس لیے تم کو کھٹکتا ہے۔
ورنہ مجھے بتا دو اختلافات کہاں نہیں ہیں؟
دوغلے دھوکے باز اور سفید پوش کالی بھیڑیں کس شعبے کس ادارے میں نہیں؟
یونیورسٹی کالج اسکولوں میں نہیں؟
کاروبار، فیکٹریوں، زمینوں یا وڈیروں میں نہیں؟
سیاست میں نہیں؟
سائنس میں نہیں؟ طب میں نہیں؟
حکمت میں نہیں؟ تہذیب میں نہیں؟
قومیت لسانیت سے لے کر ملکی معیشت و کاروبار تک ہر ادارے میں کچھ نہ کچھ برے لوگ ہیں
*تو پھر ایک مولویت سے ہی کیوں تکلیف ہے؟*
ہر داڑھی والے کو مولویت سے جوڑ دیتے ہو
ہر ٹوپی پگڑی والے کو عالم سمجھ لیتے ہو
ہر نمازی کو تم مفتی گردان لیتے ہو ایسا کیوں؟
دنیا کے معاملے میں کبھی تم نے فارمیسی جا کر سبزی نہیں خریدی،
تھانے بھیج کر بچوں کو تعلیم نہیں دلوائی،
جوتے کی دوکان سے صوفے نہیں خریدے،
مستری سے کبھی دانت نہیں نکلوایا،
رنگ والے سے کبھی بال نہیں کٹوائے،
دھوبی سے کبھی جوتے پالش نہیں کروائے
ڈاکٹر کے کلینک میں بل جمع نہیں کروائے
بینک میں جا کر کبھی پاسپورٹ میں بنوائے۔
وہاں تمہاری بڑی عقل چلتی ہے کہ ہر چیز اسی کے مقام و ماہر سے ہی صحیح ہے،
*تو ایک دین ہی مظلوم ملا تھا جو دھوکے میں آگئے؟*
کیوں گئے تھے "انجینیئر" سے دین کی بات پوچھنے؟
کیوں ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے شرعی مسئلہ پوچھا تھا؟
کیوں محلے کے "حاجی" صاحب سے عقائد پر بات کی تھی؟
کیوں صرف داڑھی دیکھ کر تم ایک کیمسٹری کے طالب علم کو عالم سمجھ لیا؟
*تم تو اتنے عقلمند تھے دنیا جہاں کی سمجھ رکھتے تھے بس یہیں پر معصوم بننا تھا؟*
تو قصور کس کا ہوا؟
*تمہارا یا مولوی کا؟*
تم نے سمجھا ہی نہیں ہے عالم ہوتا کون ہے
مدرسے کیا اہمیت رکھتے ہیں
دارالافتاء کسے کہتے ہیں۔
میں مانتا ہوں کالی بھیڑیں ہم میں بھی ہیں لیکن وہ کہاں نہیں ہیں؟
دو نمبر لوگوں کے چکر میں کب تک اپنے ہی لوگوں کو گالیاں دوگے؟
تم نے ہی پلمبر سے دانت نکلوا لیا تو اس میں مولوی کا کیا قصور؟
کیوں تم دین سیکھنے صحیح لوگوں کے پاس نہیں جاتے؟
کیوں تم کو صرف دین ہی کے معاملے میں رائے زنی کا شوق ہے؟
آخر کب تک یہ *ملا* اور *مسٹر* کی جنگ چلتی رہے گی؟
کب تمہاری عقلمندی یہاں فعال ہوگی؟
کب یہ بالقصد معصومانہ رویہ ختم کرو گے؟
*اپنی آنکھوں سے ظلمت، عصبیت اور نادانی کی پٹی اتار دو۔*
*اب بس کرو۔ بس کرو۔* 🙏🙏🙏
Comments
Post a Comment