مدارس اسلامیہ میں طلباء کی نگرانی کے لئے CCTV کیمرہ لگانا کیسا ہے

*مدارسِ اسلامیہ میں طلبہ کی دیکھ بھال کے لئے کیمرہ لگانے کا حکم*


*سوال*
]۸۴۱۳[: *کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : آج کل ایک کیمرہ رائج ہے، جس کو عام اجتماع گاہوں ، مثلاً بڑے بڑے ہوٹلوں ، ہسپتالوں ، اسٹیشنوں ، ہوائی اڈوں اور شہر کے چوراہوں وغیرہ پر نصب کیا جاتا ہے اور اس کا کنکشن چھوٹی بڑی اسکرین سے ہوتا ہے، جس کو کسی دفتر یا کاؤنٹر میں رکھا جاتا ہے، جہاں اس چھوٹی یا بڑی اسکرین پر کیمرہ کی زد میں آنے والے تمام افراد کی تصاویر نظر آتی ہیں اور اس کے ذریعہ متعلقہ اشخاص کی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھی جاتی ہے اور ایک متعینہ مدت تک اس نقل وحرکت کو ریکارڈ بھی کیا جاسکتا ہے، جسے بوقت ضرورت آن کرکے دیکھا جاسکتا ہے اور یہ چیز بظاہر چوری، خیانت، ایذارسانی اور ممکنہ خطرات سے حفاظت کا عمدہ سامان ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ اس کیمرہ کو کسی اسلامی درسگاہ ’’مدرسہ یا جامعہ‘‘ کی گذر گاہوں ، گیلریوں ، برآمدوں اور دارالاقامہ کے صحن وغیرہ میں نصب کرکے طلبہ کرام پر نظر رکھ کر متعلقہ فوائد حاصل کرنے اور ان کی لایعنی مصروفیات اور غیر قانونی حرکات پر کنٹرول کرنے کے ارادہ سے استعمال میں لانا شرعی نقطہ نظر سے کیا حکم رکھتا ہے۔ اور اس کے استعمال کی کہاں تک گنجائش ہے؟ امید ہے کہ تسلی بخش تفصیلی جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں ۔*

*المستفتی: محمد مشتاق ستپونی، خادم دارالعلوم سعادت دارین ستپونی بھروچ، گجرات*

*باسمہ سبحانہ تعالیٰ*

*الجواب وباللّٰہ التوفیق*

:جس کیمرہ کا سوال نامہ میں ذکر ہے، مالی نقصان سے بچنے کے لئے دفع مضرت کے طور پر اس کی گنجائش ہے؛ لیکن مدارسِ اسلامیہ اور دینی درسگاہوں میں یہ کیمرہ لگانا کسی طرح مناسب نہیں ہے، *اکابر ومشایخ کے طریقہ کے خلاف ہے*۔ اور طلبہ کی اخلاقیات پر نظر رکھنے کے لئے اس قدر تجسس کے ہم مکلف نہیں ہیں ۔ اور مدارسِ اسلامیہ اور دینی درسگاہوں میں مالی نقصان اور حقوق العباد کے تلف ہونے کا ایسا خطرہ نہیں ہے، جس کے لئے ایسے تجسس کے کیمرے کے لگانے کی ضرورت ہو؛ لہٰذا مدارسِ اسلامیہ کو ایسے کیمروں سے پاک رکھا جائے۔
*وَلا تَجَسَّسُوا*۔ الآیۃ [حجرات: ۱۲]
الثابت بالضرورۃ یتقدر بقدرہا۔ (قواعد الفقہ أشرفي، ص: ۷۴، قاعدہ: ۱۰۰) فقط واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
کتبہ: شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ
۲۶؍ ذیقعدہ ۱۴۳۳ھ
(الف فتویٰ نمبر: ۴۰/ ۱۰۸۶۳)
الجواب صحیح:
احقر محمد سلمان منصورپوری غفر لہ
۲۶؍ ۱۱؍ ۱۴۳۳ھ

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟