ہوشیار ہوشیار ہوشیار
*حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج سے مزید ہوشیار ہونا چاہیے....*
_________________________
*از........ رضوان احمد قاسمی*
_________________________
چھتیس گڑھ. راجستھان. اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کا اقتدار سے محروم ہوجانا اس لیے نہیں ہے کہ انہیں شکست ہوگئی ہے اور عوام نے انہیں نکار دیا ہے بلکہ یہ منصوبہ بند شکست ہے. یہ شکشت برائے شکست نہیں بلکہ برائے فتح ہے. اس لئے کہ آگے 2019ء کا مرکزی الیکشن جیتنا ان کا ٹارگیٹ ہے. ای وی ایم مشینوں کا کردار مشکوک بن چکا تھا. ہرطرف سے مشینوں کو ھٹاکر بیلٹ پیپرز لانے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں اور قدیم ووٹنگ کا طرز اپنانے کی مانگ زوروں پہ تھی. جبکہ قدیم طرزِ ووٹنگ میں اس طرح کی دھاندلی نہیں ہوسکتی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے. یہ عجوبہ اور یہ کمال تو صرف ای وی ایم مشین ہی کو حاصل ہے اس لیے مرکز میں براجمان پارٹی ہرگز نہیں گوارا کرسکتی کہ مرکزی الیکشن میں ای وی ایم کو ھٹا کے دوسرا طریقہ اپنایا جائے. کیونکہ وہ جانتی ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟ اور ان کے حقیقی ووٹ کتنےہیں؟ اس لئے ان پر لازم تھا کہ ای وی ایم کا اعتماد مزید بحال کیا جائے اور لوگوں میں یہ تاثر دیا جائے کہ اگر ای وی ایم میں کسی طرح کی گڑبڑی کی جاسکتی ہے تو مدھیہ پردیس اور چھتیس گڑھ میں ضرور گڑبڑی کی جاتی کیونکہ وہاں کا اقتدار بچانا تو ناک کا مسئلہ تھا پھر بھی بی جے پی ہارگئی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشینیں درست ہیں اور انہیں ھٹانے کی ضرورت نہیں
الغرض حالیہ الیکشن کے نتائج نے اگرچہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے اور سردست وہ ہار گئی ہے مگر راقم سطور کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے ہار کر بھی جیت حاصل کی ہے اور یہ شکشت ان کے لئے شکشت نہیں ہے بلکہ فتح ہے کہ اگلا مرکزی الیکشن پھر اسی ای وی ایم مشین سے ہوگا اور پھر تکنیکی چالبازیوں سے مرکزی اقتدار ہتھیالیا جائے گا اس لئے بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اگلے الیکشن میں ای وی ایم کے ھٹانے کا پرزور مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایمانداری کے ساتھ ہارو جیت کا فیصلہ ہوسکے
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ان سبھوں کی بھی نوعیت تقریباً اسی طرح کی رہی ہے تاکہ ای وی ایم کو معتبر بنایا جاسکے اس لیے چاہیے کہ سیاسی پارٹیاں مزید چوکنا اور ہوشیار ہوجائیں اور 2019 کو سامنے رکھتے ہوئے عواقب ونتائج کا تجزیہ فرمائیں. کسی بھی اسمبلی کی ہار جیت کوئی بنیاد نہیں اسی لیے آپ نے سنا ہوگا کہ ایک ٹی وی اینکر یہی کہہ رہا تھا کہ..... اب تو ای وی ایم پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے..... حالانکہ اس کے شبہ نہ کرنے والی بات سے ہی اس شبہ کو مزید تقویت ملی ہے. پھر بی جے پی کے ورکر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سیمی فائنل نہیں ہے بلکہ مرکزی وصوبائی دونوں الیکشن کا الگ الگ انداز ہے.... اس لیے ھوشیار ہوشیار ھوشیار
_________________________
*از........ رضوان احمد قاسمی*
_________________________
چھتیس گڑھ. راجستھان. اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کا اقتدار سے محروم ہوجانا اس لیے نہیں ہے کہ انہیں شکست ہوگئی ہے اور عوام نے انہیں نکار دیا ہے بلکہ یہ منصوبہ بند شکست ہے. یہ شکشت برائے شکست نہیں بلکہ برائے فتح ہے. اس لئے کہ آگے 2019ء کا مرکزی الیکشن جیتنا ان کا ٹارگیٹ ہے. ای وی ایم مشینوں کا کردار مشکوک بن چکا تھا. ہرطرف سے مشینوں کو ھٹاکر بیلٹ پیپرز لانے کی آوازیں اٹھ رہی تھیں اور قدیم ووٹنگ کا طرز اپنانے کی مانگ زوروں پہ تھی. جبکہ قدیم طرزِ ووٹنگ میں اس طرح کی دھاندلی نہیں ہوسکتی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے. یہ عجوبہ اور یہ کمال تو صرف ای وی ایم مشین ہی کو حاصل ہے اس لیے مرکز میں براجمان پارٹی ہرگز نہیں گوارا کرسکتی کہ مرکزی الیکشن میں ای وی ایم کو ھٹا کے دوسرا طریقہ اپنایا جائے. کیونکہ وہ جانتی ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟ اور ان کے حقیقی ووٹ کتنےہیں؟ اس لئے ان پر لازم تھا کہ ای وی ایم کا اعتماد مزید بحال کیا جائے اور لوگوں میں یہ تاثر دیا جائے کہ اگر ای وی ایم میں کسی طرح کی گڑبڑی کی جاسکتی ہے تو مدھیہ پردیس اور چھتیس گڑھ میں ضرور گڑبڑی کی جاتی کیونکہ وہاں کا اقتدار بچانا تو ناک کا مسئلہ تھا پھر بھی بی جے پی ہارگئی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشینیں درست ہیں اور انہیں ھٹانے کی ضرورت نہیں
الغرض حالیہ الیکشن کے نتائج نے اگرچہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا ہے اور سردست وہ ہار گئی ہے مگر راقم سطور کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے ہار کر بھی جیت حاصل کی ہے اور یہ شکشت ان کے لئے شکشت نہیں ہے بلکہ فتح ہے کہ اگلا مرکزی الیکشن پھر اسی ای وی ایم مشین سے ہوگا اور پھر تکنیکی چالبازیوں سے مرکزی اقتدار ہتھیالیا جائے گا اس لئے بہت زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اگلے الیکشن میں ای وی ایم کے ھٹانے کا پرزور مطالبہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایمانداری کے ساتھ ہارو جیت کا فیصلہ ہوسکے
آپ نے دیکھا ہوگا کہ جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں ان سبھوں کی بھی نوعیت تقریباً اسی طرح کی رہی ہے تاکہ ای وی ایم کو معتبر بنایا جاسکے اس لیے چاہیے کہ سیاسی پارٹیاں مزید چوکنا اور ہوشیار ہوجائیں اور 2019 کو سامنے رکھتے ہوئے عواقب ونتائج کا تجزیہ فرمائیں. کسی بھی اسمبلی کی ہار جیت کوئی بنیاد نہیں اسی لیے آپ نے سنا ہوگا کہ ایک ٹی وی اینکر یہی کہہ رہا تھا کہ..... اب تو ای وی ایم پر کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے..... حالانکہ اس کے شبہ نہ کرنے والی بات سے ہی اس شبہ کو مزید تقویت ملی ہے. پھر بی جے پی کے ورکر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سیمی فائنل نہیں ہے بلکہ مرکزی وصوبائی دونوں الیکشن کا الگ الگ انداز ہے.... اس لیے ھوشیار ہوشیار ھوشیار
Comments
Post a Comment