کیا استاذ کی مار سے جھنم کی آگ حرام ہوجاتی ہے
تم صبح اٹھ کر جو گنگ مارو تو ماڈرن،
مدرسے کا بچہ اگر ورزش کر لے تو جہاد کی ٹریننگ،
تمہارے بچے کراٹے کلب جائیں تو ایتھلیٹ،
مدارس کے لڑکے عصر کے بعد ورزش کریں تو طالبانائزیشن،
تم سوٹ پہنو تو ماڈریٹ، مدارس کے طلبہ شلوار قمیص پہنیں تو گنوار،
تم جو کرو وہ معیار تہذیب وتمدن ،
مدارس کے طلبہ جو کریں وہ کمال جہالت۔۔
یہ انصاف کے کیسے پیمانے ہیں ؟ یہ کیسی دو رخی چال ہے؟ یہ کیسی منافقت ہے؟
سارے ٖفخر تمہارے نام،
رسوائیوں کے سارے الزامات مدارس کے فقراء کے نام
تم منہ ٹیرھا کر کے انگریزی بولو تو پڑھے لکھے قرار پاؤ
،،مدارس کے طلبہ قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں لگائیں تو جاہل قرار پائیں
اور دقیانوس کہلائیں
علم جہالت کے یہ پیمانے اور پیمائش کیا تم امریکہ اور لندن سے لائے ہو؟
آخر اتنی نفرت اور گھٹیا پن کیوں؟
اتنا دہرا معیار کہ انسانیت شرم سے جھک جائے ایسا کیوں ؟
نماز ذکر تلاوت کے خوگر علماء طلبہ کرام سادگی کو اپنائیں تو باعث حقارت
جبکہ
رشوت خوری حرام خوری کے عادی افسران پر تعیش گزاریں تو باعزت
یہ ساری غلطیاں مدارس سے متعلقین علماء کرام طلبہ کرام کے سر تھوپنے کی کیوں کوشش کی جارہی ہے؟
یقیننا یہ سب کچھ یہود بے بہود ہنود بہاگے
امریکہ کو راضی کرنے کے لیئے کیا جارہا ہے لیکن
یا د رکھیں یہی بوریا نشیں لوگ اس ملک کا دفاع کریں گے
لولی پاپ والے دہری شہریت رکھنے والے ملت فروش ضمیر فروش امریکی مفادات کے نگھبان۔ کوڑیوں پہ بکنے والے ، قلم کی آبرو کے بے حر متی کرنے والے نام نہاد کالم نگار اور ڈالروں کی ریل پیل میں بدمست اہل اقتدار برے وقت میں کبھی ملک کے تحفظ کا نہ سوچا ہے اور نہ سوچینگے
یہی بوریا نشیں طلبہ کرام ملک کی حفاظت وبقا کی جنگ لڑیں گے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجم الثاقب
Comments
Post a Comment