اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں اور آگے بھی شیر کریں
السلام علیکم!
*دھرم سبھا کی بھیڑ اور رام مندر کی تعمیر*
محترم دوستو اور دانشوران قوم و ملت!
ملک کے حالات کو خراب کرنے کی پہلے بھی کئ بار سازش کی جا چکی ہے او ر اب بھی کی جا رہی ہے اور مسلمانوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پچھلے کئ دنوں سے بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے تقریبا تمام سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفادات ہیں اور موجودہ بر سر اقتدار حکومت کے کارندوں کے پاس اس مسئلے کے علاوہ کوئ مسئلہ اور ایشو نہیں بار بار دھرم اور مذہب کے نام پر غریب عوام کو جن کے روٹی کپڑا اور مکان جیسے بنیادی مسائل پر کبھی بات نہیں کی جاتی اور نہ حکومت کرنا چاہتی نا ہی ان بیچاروں کے آواز میں اتنا دم ہے کہ اپنے حق کا مطالبہ کر سکیں اس لئے جب ان کے پاس کوئ کام نہیں تو یہ جذباتی قوم مذہب کے نام پر اکٹھی ہو جاتی ہے کیونکہ غلام قوموں کی علامت ہے کہ جب انہیں غلام.بنانا ہو تو جھوٹے مذبی ڈھکوسلوں اور پروپگنڈوں کا لبادہ پہن لیا جائے اور پہنا دیا جائے
*آج کی صورتحال اور دھرم سبھا*
دیوبند میں تقریبا طلبہ کے امتحانات ختم ہو چکے ہیں بچے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں خوش ہیں کہ مزے سے اہل خانہ سے ملاقات کی تمنائیں لئے گھر کی طرف گامزن ہیں آج صبح ہم بھی اسی ارادے سے دیوبند سے عدم کے واسطے( بس سروس ) سے نظام الدین مرکز کے لئے روانہ ہوا؟ نظام الدین سے غریب رتھ سے بندے کو ممبئ پہنچنا ہے ان شاء اللہ لیکن یہ کیا ابھی بس میں بیٹھے کچھ وقت گزرا مظفر نگر پہنچے بسیں اور بسوں کے پیچھے بسیں ہزاروں کی تعداد میں اور ہر بس پر جئے رام کا جھنڈا ہر فرد کے سر پر جئے شری رام کی ٹوپی اور زبان پر جئے شری رام کے نعرے جوش و جذبات سے بھر پور نوجوان عجیب بات یہ ہیکہ اس بھیڑ میں بوڑھے اور عورتیں بھی ایک اچھی خاصی تعداد میں موجود تھیں
*مندر وہیں بنائیں گے*
ایک نعرہ جو خاص طور پر دیا جا رہا تھا کہ رام للا کو منائیں گے مندر وہیں بنائیں گے اور نعروں کو شور اس وقت اور بڑھ جاتا جب ہم مسلمانوں کو بیٹھا ہوا دیکھتے اور ہماری بس بار بار ٹیک اوور کیا جاتا بلکہ حد تو تب ہو گئ جب بس کے سامنے ان کی بس آئ اور نعروں کے ساتھ ساتھ فحش گالیاں بھی ہماری طرف منہ کر کے دی گئیں لیکن بر وقت بندے نے تمام ساتھیوں سے کہا کوئ ساتھی کچھ نہ کہے بلکہ اس طرف التفات بھی نہ کرے کیونکہ ہماری بس میں ہمارے ساتھ مظفر نگر سے مستورات کی جماعت اپنے ۵ پانچ جوڑوں کے ساتھ تھی جس خیر مظفر نگر سے دہلی پہنچنے تک یہی صورت حال رہی اور وہ اس دھوکے میں پرجوش نعرہ لگاتے رہے کہ مندر وہیں بنائیں گے تو ہمارا یہ کہنا ہیکہ آپ کو جو کرنا ہے وہ کریں خاموشی سے کریں اس طرح چلا کر تو آپ اپنی طاقت ضائع کر دیں گے اور آپ ایک اہم پلان سے ہمیں باخبر کر دیں گے جب بات طئے ہو چکی ہیکہ جب تک عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نہیں آجاتا تب تک خاموش رہیں لیکن بار بار ان اجتماعات اور سبھاؤں کا کیا مطلب؟کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
*یہ بھیڑ کیسی ہے؟*
اب آپ کو بتاتے چلیں اس بھیڑ میں سب سے زیادہ جو تعداد شریک تھی وہ ان نوجوانوں کی تھی جو اسکول یا کالج میں پڑھنے والے ہیں یا وہ نوجوان ہیں جو سنگھ پرچارک ہیں یا وہ جو باضابطہ مذبی منافرت پھیلانے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں بھی احساس ہوا کہ یہ بھیڑ پیسہ دے کر بلائ گئ ہے جیسا کہ موجودہ حکومت کا خاص وطیرہ ہے اور مضحکہ خیز بات عرض کرتا چلوں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ بس تو زیادہ ہیں لیکن کسی بس میں ۱۰ افراد کسی میں ۲۰ بھلا ٹھنڈی میں کون جائے ۸ گھنٹے کا بھاشن سننے ...
*دھرم سبھا اور رام لیلا میدان*
کسی سے سنا کہ جو دھرم سبھا کا پروگرام آج منعقد کیا گیا ہے وہی پروگرام چھ دسمبر کو ہونا تھا لیکن اسے خاص طور پر اتوار کے دن کر دیا گیا تاکہ مجمع زیادہ ہو یہ دھرم سبھا کیا ہے اور کیوں ہے اس کا مقصد یہ ہیکہ عوام کو جذباتی کر کے دھرم کے نام پر ۲۰۱۹ کے انتخابات میں استعمال کیا جائے ووٹ بینک بنایا جائے
اور حکومت پر دباؤ بنا کر رام مندر کی تعمیر پر زور دیا جائے یہ دھرم سبھا کا پروگرام آج رات نو بجے سے رام لیلا میدان مین شروع ہوگا ...
*ان کی کثرت اور حرکت سے متأثر ہرگز نہ ہوں*
ایودھیا کے حالات آپ کے سامنے ہیں وہاں ان کا پروگرام بری طرح فیل ہوچکا ہے اور ان میں اب خانہ جنگی پیدا ہو چکی ہے بلکہ مزے کی بات یہ ہیکہ ہنومان جی کو بھی ان مہاپرشوں نے ذاتیواد کا سرٹیفکٹ دینا شروع کردیا ہے کوئ کہہ رہا ہے کہ جی وہ دلت تھے تو کسی کا کہنا ہیکہ جی وہ برہمن تھے تو کوئ کہ رہا ہیکہ وہ جین تھے ؟
بھائ رام مندر بعد میں بنا لینا پہلے رام جی کے سب سے بڑے بھکت ہنو مان جی کے بارے میں فیصلہ کر لو کہ وہ تھے کیا کہیں وہ بھی ناراض نہ ہو جائیں !!!یا للعجب جی تو عرض یہ کر رہا ہوں کہ ان کی کثرت اور نعروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں ان شاء اللہ یہ اسی طرح خانہ جنگیوں کا شکار ہوں گے اور ان کے منصوبے فلاپ ہو جائیں گے واضح رہے ان سبھاؤں کا مقصد صرف مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے اور کچھ نہیں ...
*برادران وطن کو ایک پیغام*
ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہان ہمیں ہر موقع اور موڑ پر ہر میدان میں اپنے برادران وطن سے ملنا پڑتا ہے جب بھی ملاقات ہو ان سے پیار سے پیش آئیں دو چار بات کریں اور چلتے ہوئے اتنا کہیں کہ آپ سے مل کر بہت آنند آیا ہمارا دیش سب سے مہان ہے کیونکہ ہم یہاں صدیوِں سے ایک سال سے رہتے ہیں ہمارے دکھ سکھ میں آپ آتے ہیں آپ کے یہاں ہم جاتے ہیں کوئ تہوار ہو یا کوئ رسم ہم نے ساتھ ساتھ منایا ہے تم نے ہماری عید کی سوئیاں بھی پی ہیں ہم نے تمہاری دیوالی کے لڈو بھی کھائے ہیں اس لئے ہمیں آپ سے پریم ہے کیونکہ آپ ہمارے بھائ ہیں ...
واضح ہو کہ یہ کام ہر جگہ کیا جاسکتا ہے بس کے اڈےہوں یا ریل گاڑی ہوائ جہاز ہو یا گارڈن اس میں کسی مذہب کی دعوت نہیں بس آپ کے اخلاق اور دو میٹھے بول کی چاشنی شامل ہو تو ملک میں ایک مثبت فضاء قائم ہونے کی امید ہے بس اب یہی کہنا ہے کہ
ان کا جو کام ہے اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
*مسلمان ان حالات میں کیا کریں؟*
ایک عجیب بات یہ ہیکہ آپ اپنے آپ کو کچھ بھی سمجھتے ہوں دیوبند بریلوی اہل حدیث شیعہ جماعت اسلامی یا کچھ اور لیکن ہمارے برادران وطن ہمیں صرف ایک مسلمان سمجھتے ہیں
اتحاد کی بات کریں اتحاد کی فضاء عام کریں
متحد ہوتو بدل دو نظام عالم منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
علماء سے ربط و تعلق
گناہوں سے.مکمل اجتناب
پنج وقتہ نمازوں کی پانبدی
اور اپنی قیادت پر اعتماد اور ملک کی ملی تنظیموں کے سربراہان سے رابطہ
اختلافی اور جذباتی باتوں کو قطعا شیئر نہ کریں
ایسی کسی بحث اور میٹنگ کا حصہ نہ بنیں جس سے حالات خراب ہوں
جمعیت علماء سے رابطہ
مسلم پرسنل لاء بورڈ سے رابطہ
سوشل میڈیا پر کسی خبر کو نشر کرنے سے پہلے تحقیق
چند خاص دعاؤں کا اہتمام
جیسے اللھم انا بجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم
اللھم استر عوراتنا و آمن روعاتنا
حسبنا اللہ و نعم الوکیل
استغفار کی کثرت
اپنی اصلاح اور ایمان کی فکر
ہاں اخیر میں عرض کردوں ہمارے اکابر الحمد للہ ان حالات کے پیش نظر بہت متفکر ہیں اور وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اور یقینا ہم سے زیادہ متفکر ہیں اس لئے کسی ایسے آدمی کی بات کو ہرگز نہ سنیں جو آپ کو اپنے اکابر سے بدظن کر دے ایسا شخص معاشرے میں ناسور کی مانند ہے اگر ہم نے ان چند معروضات پر عمل کر لیا تو اللہ ہمارا حامی و ناصر ہوگا اللہ سے دعا ہیکہ ملک کی صورتحال بہتر رہے اور ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے
نوٹ : ہم نے موجودہ حالات کے تناظر میں جو کچھ لکھا ہے ہو سکتا ہے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو لیکن یہ دل کا درد بھی ہے اور حالات کا غم بھی احساسات کے مختلف ہونے کی وجہ سے اختلاف کی پوری گنجائش ہے ...
یوسف اسعد ممبئ
7977659960
*دھرم سبھا کی بھیڑ اور رام مندر کی تعمیر*
محترم دوستو اور دانشوران قوم و ملت!
ملک کے حالات کو خراب کرنے کی پہلے بھی کئ بار سازش کی جا چکی ہے او ر اب بھی کی جا رہی ہے اور مسلمانوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پچھلے کئ دنوں سے بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے تقریبا تمام سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفادات ہیں اور موجودہ بر سر اقتدار حکومت کے کارندوں کے پاس اس مسئلے کے علاوہ کوئ مسئلہ اور ایشو نہیں بار بار دھرم اور مذہب کے نام پر غریب عوام کو جن کے روٹی کپڑا اور مکان جیسے بنیادی مسائل پر کبھی بات نہیں کی جاتی اور نہ حکومت کرنا چاہتی نا ہی ان بیچاروں کے آواز میں اتنا دم ہے کہ اپنے حق کا مطالبہ کر سکیں اس لئے جب ان کے پاس کوئ کام نہیں تو یہ جذباتی قوم مذہب کے نام پر اکٹھی ہو جاتی ہے کیونکہ غلام قوموں کی علامت ہے کہ جب انہیں غلام.بنانا ہو تو جھوٹے مذبی ڈھکوسلوں اور پروپگنڈوں کا لبادہ پہن لیا جائے اور پہنا دیا جائے
*آج کی صورتحال اور دھرم سبھا*
دیوبند میں تقریبا طلبہ کے امتحانات ختم ہو چکے ہیں بچے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں خوش ہیں کہ مزے سے اہل خانہ سے ملاقات کی تمنائیں لئے گھر کی طرف گامزن ہیں آج صبح ہم بھی اسی ارادے سے دیوبند سے عدم کے واسطے( بس سروس ) سے نظام الدین مرکز کے لئے روانہ ہوا؟ نظام الدین سے غریب رتھ سے بندے کو ممبئ پہنچنا ہے ان شاء اللہ لیکن یہ کیا ابھی بس میں بیٹھے کچھ وقت گزرا مظفر نگر پہنچے بسیں اور بسوں کے پیچھے بسیں ہزاروں کی تعداد میں اور ہر بس پر جئے رام کا جھنڈا ہر فرد کے سر پر جئے شری رام کی ٹوپی اور زبان پر جئے شری رام کے نعرے جوش و جذبات سے بھر پور نوجوان عجیب بات یہ ہیکہ اس بھیڑ میں بوڑھے اور عورتیں بھی ایک اچھی خاصی تعداد میں موجود تھیں
*مندر وہیں بنائیں گے*
ایک نعرہ جو خاص طور پر دیا جا رہا تھا کہ رام للا کو منائیں گے مندر وہیں بنائیں گے اور نعروں کو شور اس وقت اور بڑھ جاتا جب ہم مسلمانوں کو بیٹھا ہوا دیکھتے اور ہماری بس بار بار ٹیک اوور کیا جاتا بلکہ حد تو تب ہو گئ جب بس کے سامنے ان کی بس آئ اور نعروں کے ساتھ ساتھ فحش گالیاں بھی ہماری طرف منہ کر کے دی گئیں لیکن بر وقت بندے نے تمام ساتھیوں سے کہا کوئ ساتھی کچھ نہ کہے بلکہ اس طرف التفات بھی نہ کرے کیونکہ ہماری بس میں ہمارے ساتھ مظفر نگر سے مستورات کی جماعت اپنے ۵ پانچ جوڑوں کے ساتھ تھی جس خیر مظفر نگر سے دہلی پہنچنے تک یہی صورت حال رہی اور وہ اس دھوکے میں پرجوش نعرہ لگاتے رہے کہ مندر وہیں بنائیں گے تو ہمارا یہ کہنا ہیکہ آپ کو جو کرنا ہے وہ کریں خاموشی سے کریں اس طرح چلا کر تو آپ اپنی طاقت ضائع کر دیں گے اور آپ ایک اہم پلان سے ہمیں باخبر کر دیں گے جب بات طئے ہو چکی ہیکہ جب تک عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نہیں آجاتا تب تک خاموش رہیں لیکن بار بار ان اجتماعات اور سبھاؤں کا کیا مطلب؟کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
*یہ بھیڑ کیسی ہے؟*
اب آپ کو بتاتے چلیں اس بھیڑ میں سب سے زیادہ جو تعداد شریک تھی وہ ان نوجوانوں کی تھی جو اسکول یا کالج میں پڑھنے والے ہیں یا وہ نوجوان ہیں جو سنگھ پرچارک ہیں یا وہ جو باضابطہ مذبی منافرت پھیلانے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں بھی احساس ہوا کہ یہ بھیڑ پیسہ دے کر بلائ گئ ہے جیسا کہ موجودہ حکومت کا خاص وطیرہ ہے اور مضحکہ خیز بات عرض کرتا چلوں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ بس تو زیادہ ہیں لیکن کسی بس میں ۱۰ افراد کسی میں ۲۰ بھلا ٹھنڈی میں کون جائے ۸ گھنٹے کا بھاشن سننے ...
*دھرم سبھا اور رام لیلا میدان*
کسی سے سنا کہ جو دھرم سبھا کا پروگرام آج منعقد کیا گیا ہے وہی پروگرام چھ دسمبر کو ہونا تھا لیکن اسے خاص طور پر اتوار کے دن کر دیا گیا تاکہ مجمع زیادہ ہو یہ دھرم سبھا کیا ہے اور کیوں ہے اس کا مقصد یہ ہیکہ عوام کو جذباتی کر کے دھرم کے نام پر ۲۰۱۹ کے انتخابات میں استعمال کیا جائے ووٹ بینک بنایا جائے
اور حکومت پر دباؤ بنا کر رام مندر کی تعمیر پر زور دیا جائے یہ دھرم سبھا کا پروگرام آج رات نو بجے سے رام لیلا میدان مین شروع ہوگا ...
*ان کی کثرت اور حرکت سے متأثر ہرگز نہ ہوں*
ایودھیا کے حالات آپ کے سامنے ہیں وہاں ان کا پروگرام بری طرح فیل ہوچکا ہے اور ان میں اب خانہ جنگی پیدا ہو چکی ہے بلکہ مزے کی بات یہ ہیکہ ہنومان جی کو بھی ان مہاپرشوں نے ذاتیواد کا سرٹیفکٹ دینا شروع کردیا ہے کوئ کہہ رہا ہے کہ جی وہ دلت تھے تو کسی کا کہنا ہیکہ جی وہ برہمن تھے تو کوئ کہ رہا ہیکہ وہ جین تھے ؟
بھائ رام مندر بعد میں بنا لینا پہلے رام جی کے سب سے بڑے بھکت ہنو مان جی کے بارے میں فیصلہ کر لو کہ وہ تھے کیا کہیں وہ بھی ناراض نہ ہو جائیں !!!یا للعجب جی تو عرض یہ کر رہا ہوں کہ ان کی کثرت اور نعروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں ان شاء اللہ یہ اسی طرح خانہ جنگیوں کا شکار ہوں گے اور ان کے منصوبے فلاپ ہو جائیں گے واضح رہے ان سبھاؤں کا مقصد صرف مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے اور کچھ نہیں ...
*برادران وطن کو ایک پیغام*
ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہان ہمیں ہر موقع اور موڑ پر ہر میدان میں اپنے برادران وطن سے ملنا پڑتا ہے جب بھی ملاقات ہو ان سے پیار سے پیش آئیں دو چار بات کریں اور چلتے ہوئے اتنا کہیں کہ آپ سے مل کر بہت آنند آیا ہمارا دیش سب سے مہان ہے کیونکہ ہم یہاں صدیوِں سے ایک سال سے رہتے ہیں ہمارے دکھ سکھ میں آپ آتے ہیں آپ کے یہاں ہم جاتے ہیں کوئ تہوار ہو یا کوئ رسم ہم نے ساتھ ساتھ منایا ہے تم نے ہماری عید کی سوئیاں بھی پی ہیں ہم نے تمہاری دیوالی کے لڈو بھی کھائے ہیں اس لئے ہمیں آپ سے پریم ہے کیونکہ آپ ہمارے بھائ ہیں ...
واضح ہو کہ یہ کام ہر جگہ کیا جاسکتا ہے بس کے اڈےہوں یا ریل گاڑی ہوائ جہاز ہو یا گارڈن اس میں کسی مذہب کی دعوت نہیں بس آپ کے اخلاق اور دو میٹھے بول کی چاشنی شامل ہو تو ملک میں ایک مثبت فضاء قائم ہونے کی امید ہے بس اب یہی کہنا ہے کہ
ان کا جو کام ہے اہل سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
*مسلمان ان حالات میں کیا کریں؟*
ایک عجیب بات یہ ہیکہ آپ اپنے آپ کو کچھ بھی سمجھتے ہوں دیوبند بریلوی اہل حدیث شیعہ جماعت اسلامی یا کچھ اور لیکن ہمارے برادران وطن ہمیں صرف ایک مسلمان سمجھتے ہیں
اتحاد کی بات کریں اتحاد کی فضاء عام کریں
متحد ہوتو بدل دو نظام عالم منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
علماء سے ربط و تعلق
گناہوں سے.مکمل اجتناب
پنج وقتہ نمازوں کی پانبدی
اور اپنی قیادت پر اعتماد اور ملک کی ملی تنظیموں کے سربراہان سے رابطہ
اختلافی اور جذباتی باتوں کو قطعا شیئر نہ کریں
ایسی کسی بحث اور میٹنگ کا حصہ نہ بنیں جس سے حالات خراب ہوں
جمعیت علماء سے رابطہ
مسلم پرسنل لاء بورڈ سے رابطہ
سوشل میڈیا پر کسی خبر کو نشر کرنے سے پہلے تحقیق
چند خاص دعاؤں کا اہتمام
جیسے اللھم انا بجعلک فی نحورھم و نعوذبک من شرورھم
اللھم استر عوراتنا و آمن روعاتنا
حسبنا اللہ و نعم الوکیل
استغفار کی کثرت
اپنی اصلاح اور ایمان کی فکر
ہاں اخیر میں عرض کردوں ہمارے اکابر الحمد للہ ان حالات کے پیش نظر بہت متفکر ہیں اور وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اور یقینا ہم سے زیادہ متفکر ہیں اس لئے کسی ایسے آدمی کی بات کو ہرگز نہ سنیں جو آپ کو اپنے اکابر سے بدظن کر دے ایسا شخص معاشرے میں ناسور کی مانند ہے اگر ہم نے ان چند معروضات پر عمل کر لیا تو اللہ ہمارا حامی و ناصر ہوگا اللہ سے دعا ہیکہ ملک کی صورتحال بہتر رہے اور ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے
نوٹ : ہم نے موجودہ حالات کے تناظر میں جو کچھ لکھا ہے ہو سکتا ہے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو لیکن یہ دل کا درد بھی ہے اور حالات کا غم بھی احساسات کے مختلف ہونے کی وجہ سے اختلاف کی پوری گنجائش ہے ...
یوسف اسعد ممبئ
7977659960
Comments
Post a Comment