والدین ایک انمول تحفہ ہے
والدین اللہ تعالی کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے جو خود تکلیفیں برداشت کرکے اپنی اولاد کو خوشیاں فراہم کرتے ہیں۔
اپنی اولاد کے لئے ہر دکھ بڑے سے بڑے غم کو بھی بخوشی برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن آجکل ہم تیز رفتار زندگی میں اپنی نسل کی تربیت کرنے سے قاصر ہیں۔ مجھے اسی طرح ایک واقعہ یاد آتا ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔
باہر کے ملک میں ایک خاتون تھیں۔ اس کا ایک بیٹا تھا اس عورت نے بہت محنت کرکے بہت مشکل یہ دیکھ کر اس کی پرورش کی جب وہ بچہ بڑا ہوا اس نےایک کتا پالا ہر وقت اس کتے کے ساتھ وقت گزارتا۔ کبھی ماں کے پاس بیٹھنا تو دور کی بات دیکھتا بھی نہ تھا ماں بیٹے کو دیکھنے کے لیے ترستی رہتی لیکن بیٹا اپنا سارا وقت اس کتے کے ساتھ گزارتا۔ایک دن مانے بیٹے سے شکایت کی کہ تم میرے پاس آتے نہیں ہوں تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھ جایا کرو تو بیٹے نے جواب دیا میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو آپ کے ساتھ گزاروں معنے غصے میں آکر بیٹے پر مقدمہ کروا دیا کہ بیٹا مجھے وقت نہیں دیتا مجھ سے بات نہیں کرتا ہر وقت کتے کے ساتھ لگا رہتا ہے عدالت حکم یہ اپنے وقت کے تین حصوں میں سے ایک حصہ اپنی ماں کے ساتھ گزارا کریں تو سنئے عدالت نے کیا کہا۔ عدالت نے کہا کہ نوجوان بالغ ہے اور وہ اپنا اچھا برا جانتا ہے یہ جس طرح رہے ہم اس پر کوئی حکم عدالت کی طرف سے صادر نہیں کر سکتے۔
اپنی اولاد کے لئے ہر دکھ بڑے سے بڑے غم کو بھی بخوشی برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن آجکل ہم تیز رفتار زندگی میں اپنی نسل کی تربیت کرنے سے قاصر ہیں۔ مجھے اسی طرح ایک واقعہ یاد آتا ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔
باہر کے ملک میں ایک خاتون تھیں۔ اس کا ایک بیٹا تھا اس عورت نے بہت محنت کرکے بہت مشکل یہ دیکھ کر اس کی پرورش کی جب وہ بچہ بڑا ہوا اس نےایک کتا پالا ہر وقت اس کتے کے ساتھ وقت گزارتا۔ کبھی ماں کے پاس بیٹھنا تو دور کی بات دیکھتا بھی نہ تھا ماں بیٹے کو دیکھنے کے لیے ترستی رہتی لیکن بیٹا اپنا سارا وقت اس کتے کے ساتھ گزارتا۔ایک دن مانے بیٹے سے شکایت کی کہ تم میرے پاس آتے نہیں ہوں تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھ جایا کرو تو بیٹے نے جواب دیا میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں جو آپ کے ساتھ گزاروں معنے غصے میں آکر بیٹے پر مقدمہ کروا دیا کہ بیٹا مجھے وقت نہیں دیتا مجھ سے بات نہیں کرتا ہر وقت کتے کے ساتھ لگا رہتا ہے عدالت حکم یہ اپنے وقت کے تین حصوں میں سے ایک حصہ اپنی ماں کے ساتھ گزارا کریں تو سنئے عدالت نے کیا کہا۔ عدالت نے کہا کہ نوجوان بالغ ہے اور وہ اپنا اچھا برا جانتا ہے یہ جس طرح رہے ہم اس پر کوئی حکم عدالت کی طرف سے صادر نہیں کر سکتے۔
آج ماں باپ کا جو مقام و مرتبہ تھا وہ کم ہوگیا ہے۔وہ محبت ادب اور احترام باقی نہیں اس کی کیا وجہ ہے میں یہ نہیں کہوں گا اس میں والدین کا قصور ہے میں یہ کہتا ہوں اس میں والدین اور بچے دونوں کا قصور ہے میڈیا کا بھی قصور ہے اور بری صحبت کے قطرے قطرے مل کر آپ کا کردار بناتے ہیں یہ وجہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل کدر جارہی ہے اور المیہ یہ ہے اس بات پر نہ تو والدین فکر مند ہیں اور نہ ہی اولاد کے پاس اتنا ٹائم ہے کہ وہ اپنی خود تھوڑی بہت تربیت کر سکیں۔
اگر والدین انکی پرورش بچپن سے ہی شرعی حدود میں رہتے ہوئے کرتے تو حقیقت میں کوئی بھی والدین نافرمان اولاد کا رونا روتے بچپن سے ہی ٹی وی کمپیوٹر موبائل جیسے موادسے ایک حد تک دور رکھتے تو آج بدزبانی نہ ہوتی بے حیائی نہ ہوتی ہماری نسل نو میڈیا کے غلط استعمال سے بچنے کی اگر شروع سے روک تھام کی جاتی تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ اولاد بڑی ہو کر اللہ کے نافرمان نبی کی نافرمان یا والدین کے نافرمان ہوتی۔
اگر والدین انکی پرورش بچپن سے ہی شرعی حدود میں رہتے ہوئے کرتے تو حقیقت میں کوئی بھی والدین نافرمان اولاد کا رونا روتے بچپن سے ہی ٹی وی کمپیوٹر موبائل جیسے موادسے ایک حد تک دور رکھتے تو آج بدزبانی نہ ہوتی بے حیائی نہ ہوتی ہماری نسل نو میڈیا کے غلط استعمال سے بچنے کی اگر شروع سے روک تھام کی جاتی تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ اولاد بڑی ہو کر اللہ کے نافرمان نبی کی نافرمان یا والدین کے نافرمان ہوتی۔
اسی حوالے سے میں آپ کو ایک اپنی بیتی مثال پیش کرتا ہوں۔
کیونکہ میں اکثر بسوں میں سفر کرتا ہوں تو ایک دن میں کسی کام کے لئے چنیوٹ جا رہا تھا تو اس وین میں ایک آدمی اور اس کی ایک چھوٹی بچی بھی سفر کر رہی تھیں کیونکہ وین ابھی جلی نہیں تھی توپ بچی نے ضد کرنی شروع کردی اور رونے لگی آج کل ہم سب کے پاس ٹچ سکرین والا موبائل ہوتا ہے۔ جس میں طرح طرح کے گانے ویڈیو اور گیمز وغیرہ رکھی ہوتی ہیں تو جیسے ہی وہ لڑکی رونے لگی تو اس آدمی نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اس میں ویڈیو گانے جلا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو موبائل تھما دیا۔ لڑکی نے وہ موبائل پکڑا اور وہ اس موبائل کے ساتھ مست ہوگی اور چپ ہوگئی۔
کیونکہ میں اکثر بسوں میں سفر کرتا ہوں تو ایک دن میں کسی کام کے لئے چنیوٹ جا رہا تھا تو اس وین میں ایک آدمی اور اس کی ایک چھوٹی بچی بھی سفر کر رہی تھیں کیونکہ وین ابھی جلی نہیں تھی توپ بچی نے ضد کرنی شروع کردی اور رونے لگی آج کل ہم سب کے پاس ٹچ سکرین والا موبائل ہوتا ہے۔ جس میں طرح طرح کے گانے ویڈیو اور گیمز وغیرہ رکھی ہوتی ہیں تو جیسے ہی وہ لڑکی رونے لگی تو اس آدمی نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اس میں ویڈیو گانے جلا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو موبائل تھما دیا۔ لڑکی نے وہ موبائل پکڑا اور وہ اس موبائل کے ساتھ مست ہوگی اور چپ ہوگئی۔
میرے دوستو اپنے بچوں کو اگر آپ اس طرح کی چیزیں دے کر ان کا دل بہلائیں گے تو ان کی بنیاد ہی غلط ہوگی۔ اور جب کسی بچے کی بنیاد غلط ہوجاتی ہے تو بڑے ہوکر اس کو ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی ڈر نہیں رہ جاتا اور نہ ہی وہ اس پر عمل کرتا ہے آپ کا پوچھنا سمجھانا سکھانا اور پڑھانا بلکل ضائع جاتا ہے اس لیے آپ سے امید رکھتا ہوں کہ اپنی نئی نسل کی تربیت اچھے اور احسن طریقے سے کریں گے اور ان کو ان چیزوں سے دور رکھیں گے جو ان کے فیوچر میں بے حیائی اور بد زبانی کا باعث بنتی ہیں۔
دوستوں اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو مجھے آپ اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے گا ۔
دوستوں اگر یہ تحریر آپ کو اچھی لگی ہو تو مجھے آپ اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے گا ۔


Comments
Post a Comment