مولانا بدرالدین اجمل نے سلفی کو دہشتگرد کیوں کہا آئے جانتے ہیں

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مولانا بدرالدین اجمل صاحب نے پارلیمنٹ میں غیر ارادی طور پر سلفیوں کو دہشت گرد کیوں کہا..
...................
پارلیمنٹ میں ایک عورت سلفییوں اور ان کی کتابوں کا ریفرنس دے رہی تھی کہ بہت سے مسلمان تین طلاق کے خلاف ہیں.
اس پر مولانا نے کہا کہ حکومت سلفیوں کو دہشت قرار دے چکی ہے پھر ان کا حوالہ کیوں دیا جارہا ہے.
جبکہ وہ لوگ دس فیصد ہیں ستر فیصد حنفی ہیں جو تین طلاق کو تین مانتے ہیں حنفیوں کی کتاب کیوں نہیں پڑھی جاتی آئیے میں صحیح کتاب دکھاؤں گا کہ اصل مسئلہ کیا ہے.
دوسری بات مولانا نے یہ کہی تھی ملک میں دہشت گردی کا معاملہ سلفیوں سے وابستہ ہے..
اس پر بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ آخر یہ باتیں کہ حکومت سلفیوں کو دہشت گرد قرار دے چکی ہے اور دہشت گردی کا معاملہ سلفیوں سے وابستہ ہے مولانا نے کیسے کہا.
میرے ذہن میں بھی یہ سوال تھا کہ آخر مولانا نے یہ سب کیسے کہا.
آج مولانا کے ایک قریبی سے ان سوالوں کا جواب معلوم ہوا.
در اصل مولانا کے ذہن میں ذاکر نائیک اور ان کی ٹیم(سلفیوں) کی سرگرمیاں ہیں.
ذاکر نائیک کو حکومت دہشت گرد قرار دے چکی ہے.جب قائد دہشت گرد نامزد ہوگیا تو اس کی ٹیم بھی اسی لسٹ میں شمار کی جائے گی.
مولانا کے ذہن میں ذاکر نائیک کے معاملہ میں حکومت کا جو موقف ہے اسی بنیاد پر مولانا نے غیر اختیاری طور پر سلفیوں کا نام لے لیا..
آخر کیا وجہ ہے کہ ملک میں ستر فی صد حنفی ہیں طلاق کے مسئلے میں حنفیوں کی بے شمار کتابیں ہیں لیکن حکومت آور اسکی ایجنسیوں کے پاس سلفیوں کی ہی کتابیں کیوں پہونچتی ہیں حکومت کو کون بتاتا ہے کہ طلاق کے مسئلے میں سلفیوں کا یہ موقف ہے..
ایک طرف تو حکومت ذاکر نائیک کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے دوسری جانب انھیں کی کتابوں کا حوالہ دیا جارہا ہے.
کیا یہ حکومت اور سلفیوں کی ملی بھگت نہیں ہے.؟
یہ بات بالکل طے ہے کہ سلفیوں سے ملکر حکومت مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی سازش کررہی ہے..
دوسری طرف حکومت سلفیوں کے مین آدمی(ذاکر نائیک) کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے.
سلفیوں سے حکومت کی ملی بھگت کی ایک دلیل یہ ہے کہ مرکز نظام الدین کے پاس ذاکر نائیک اور اسکی ٹیم  حکومت کے تعاون سے چوراسی کروڑ کا ایک کتب خانہ خرید چکی ہے تاکہ وہاں سے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا کام انجام دیا جائے..
اگر حکومت چاہتی تو ذاکر نائیک کو کبھی انڈیا لاچکی ہوتی لیکن وہ ایسا نہیں کرسکی.
مطلب صاف ہے کہ حکومت  مسلمانوں کو صرف بیوقوف بنارہی ہے باہر سے وہ ذاکر نائیک اور سلفیوں کے خلاف ہے لیکن اندر سے وہ سلفیوں سے ملکر افتراق بین المسلمین کا کام کررہی ہے جیسا کہ برٹش دور حکومت میں ہوچکا ہے..
انگریزوں نے بھی سلفیوں سے یہ خدمت لی تھی اور آج موجودہ حکومت بھی وہی کام کررہی ہے..
یہ ساری باتیں مولانا کو اور ملک کے دوسرے لوگوں کو معلوم ہے.
اسی بنیاد پر مولانا نے عورت کے جواب میں بلاارادہ کہدیا کہ حکومت سلفیوں کو دہشت قرار دے چکی ہے اور دہشت گردی کا سیکٹر سلفییوں سے وابستہ ہے اس سے مراد ذاکر نائیک تھے....
مولانا نے ذاکر نائیک کے تعلق سے حکومت کے موقف کی جانب اشارہ کیا تھا لیکن زبان سے سلفی نکل گیا.
بس اتنی سی بات ہے...

عبد الرحیم ندویبد

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟