اسلامی تعلیم کی بنیاد تقوی پر ہے
📍 اسلامی تعلیم کی بنیاد تقوی پر ہے📍
نشریہ ٣٦ 30 1 2019
”علم“ کے لغوی معنی پر اگرنگا ہ ڈالی جاۓ تو علم جس طرح ”جاننے “کےمعنی کے لیۓ وضع کردہ ہے۔ اسی طرح وہ”یقین “کے معنی بھی رکھتا ہے۔قرآن کریم میں ہے ”علم أن سیکون منکم مرضی “ اللہ کو معلوم ہے کہ کچھ لوگ بیمار ہونگے ۔
حدیث شریف میں ہے ”من مات وھو یعلم أنّہ لاإلہ إلا اللہ دخل الجنة “ جس شخص کا انتقال اس حالت میں کہ اس کو کلمہ پر یقین ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
ان دونو ں جگہوں میں علم بمعنی یقین ہے ۔
نیز عقاٸد کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ”العلم:ھو الإیقان “
لہذا: علم کا اصل نصاب تقوی، یقین انابت إلی اللہ، خوفِ خدا اخلاص نیت تبلیغ دین اور استحضارِآخرت ہے ۔ رہے مضامین اور کتا بیں تو وہ وساٸل کا درجہ رکھتی ہیں ۔
طالبان علو م نبوت اورعلماۓ کرام پر تین ذمہ داریوں کا بار گراں ہوتا ہے ۔ایک ”تزکیہ نفس“ اپنی ذات کے لیۓ دوم” اشاعتِ وراثتِ انبیا ٕ“ امت کی راست یابی کے تعلق سے اور تیسری :اسلام کو در پیش مساٸل و چیلنچ بالفاظِ دیگر دفا ع عن الاسلام ۔ اس تناظر میں ہمارے مدارس اسلامیہ کا تر تیب دیا ہوا نصابِ تعلیم اس وقت مفید اور کارگر ہو سکتا ہے جوافا دیت کی غرض سے جزوی تر میم کا بھی متقاضی ہو ۔ لیکن کلیةً تبدیلی کی تمنا یا کلیةً قدیم اسلاف کےکہنہ نصاب کالزوم مذکورہ ذمہ داریوں پر کھ نظر آتا ہے ۔
البتہ کسی مدرسہ میں اگرتزکیہ نفس پر زورہے تواس طرح کی کتابوں کثرت۔ کہیں امت کواسلامی تعلیم سے روشناس اور ان کےدینی مساٸل واسلامی ضرویات پیش نظر ہے ۔تو اس کے اعتبار سے انکا نصاب الگ ۔تو کسی کے یہاں دفاع عن الاسلام مقصود ہے تو ظاہر ہے اس نصاب اسی طرز کا حامل ہوگاپھر اگر دفاع داخلی فتنوں سے متلعق ہے تو اس کی کتابیں علا حدہ اور اگربیرونی چیلنجز کے مد مقابل ہے تو ان کا ایک مستقل نصاب ۔ جس میں مخالفین کی زبان وکلام کی تعلیم ناگزیر ہے۔
الحاصل: مدارس اسلامیہ کے نصاب ہاۓ تعلیم دوسرے کے معاون ہیں معاند نہیں ۔حلیف ہیںٗ حریف نہیں ۔رفیق ہیں رقیب نہیں ۔ گویا تعلیم ایک ڈھانچہ ہے مضامین اسکے اعضا ٕ اورتقوی اس کی روح ہے۔
لگے ہاتھو ں یہاں یہ بھی ذکر کرنا مناسب ہے قرآن و حدیث میں حضرات انبیا ٕکرام کی صنعت کاریوں اور کا ٸنات جس کے بارے میں غور وفکر کا حکم دیا ہے ۔جسے موجودہ زمانہ میں ساٸنس کہا جاتا ہے_ ان کو ”علم دین“کا نام کیوں نہیں دیا جاتا ۔؟۔
اسکا آسان سا جواب ہے کہ اگر یہ تعلیم مطلوبہ مقاصد واغراض کی ہمرکابی کےساتھ اسلام کی حقانیت اور تبلیغ دین کا باعث ہو تو وہ یقینا” دینی علم کاحصہ “ ہے لیکن اگر اسلام مخالف ہوتو اسکو ”دینی علم“ سے موسوم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ یہ علوم براۓ تجارت بن گیۓ ہیں جبکہ اسلام میں تعلیم معرفتِ الھی اور عبادتِ خدا وندی کانام ہے ۔
موجودہ زمانے میں ”عصری علوم “کی ضروریا ت حد سے زاٸد بڑھ گٸی ہے یقیناًعلماۓ کرام اس تعلق سے بہت متفکر ہیں ۔اور اس کے نفاذ واجرا ٕ مزید اسلامی روش کے متلا شی بھی ہیں۔مگر اتنے مٗصر بھی نہیں ہیں کہ ضرویات کو مقاصد پر ترجیح دےبیٹھیں جیسا کہ بہت سے لوگ عصری تعلیم کے عمومی نفاذ کے حوالے سے اتنے اٗتاولے ہیں کہ دین کی تعلیم کو پسِ پست ڈال دیاایسا لگتا ہے مدارس والوں کی اسکی بہت ضروت ہے لیکن ان لوگوں کو دین کی ضرورت نہیں۔
الحاصل : مذکورہ تینوں اصطلاحات میں پہلی قسم حقیقت پر مشتمل ہے ۔اس قسم کی بابت حدیث شریف کا بیان ہے:
”العلم علمان علم فی القلب فذاک العلم النافع وعلم علی اللسان فذاک حجة اللہ علی خلقہ “( ابن ابی شیبہ 34361)
علم نافع وہ ہے جو یقین کا محرک ہو اور ”علم ضار “وہ ہے جو علم زبان پر جاری ، یقین سے ماورا ٕ اور قیامت میں رسواٸی کا باعث ہو۔ اسلیۓ یہ کتب نصاب اور مقاصد پر محیط ہے ۔
دوسری قسم عرفی ہے جو حالات کے تناظر میں وجود پذیر ہوٸی ہے ۔ تاکہ امت بے راہروی سے محفوظ رہے ۔ یہ کتابی نصاب پر مشتمل احوال وکیفیات کے مد ِنظر جزوی تبدیلی کا متقاضی ہے ۔
تیسری قسم کا تعلق چوں کہ عوام الناس سے ہے اور اس کا مفہوم مذکورہ حدیث سے مستفاد ہے ۔اس لیۓ اس کا مقصد عوام میں تر غیب وتشکیل ہے ۔ ۔
اس لیۓ ان کے استعمال میں کوٸی حرج نہیں ہے کیو ن کہ ہر ایک کا محور الگ الگ ہے
✏ عبید الرحمن عبید اللہ قاسمی 7026796531
ufbqasmi5@gmail.co
نشریہ ٣٦ 30 1 2019
”علم“ کے لغوی معنی پر اگرنگا ہ ڈالی جاۓ تو علم جس طرح ”جاننے “کےمعنی کے لیۓ وضع کردہ ہے۔ اسی طرح وہ”یقین “کے معنی بھی رکھتا ہے۔قرآن کریم میں ہے ”علم أن سیکون منکم مرضی “ اللہ کو معلوم ہے کہ کچھ لوگ بیمار ہونگے ۔
حدیث شریف میں ہے ”من مات وھو یعلم أنّہ لاإلہ إلا اللہ دخل الجنة “ جس شخص کا انتقال اس حالت میں کہ اس کو کلمہ پر یقین ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
ان دونو ں جگہوں میں علم بمعنی یقین ہے ۔
نیز عقاٸد کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ”العلم:ھو الإیقان “
لہذا: علم کا اصل نصاب تقوی، یقین انابت إلی اللہ، خوفِ خدا اخلاص نیت تبلیغ دین اور استحضارِآخرت ہے ۔ رہے مضامین اور کتا بیں تو وہ وساٸل کا درجہ رکھتی ہیں ۔
طالبان علو م نبوت اورعلماۓ کرام پر تین ذمہ داریوں کا بار گراں ہوتا ہے ۔ایک ”تزکیہ نفس“ اپنی ذات کے لیۓ دوم” اشاعتِ وراثتِ انبیا ٕ“ امت کی راست یابی کے تعلق سے اور تیسری :اسلام کو در پیش مساٸل و چیلنچ بالفاظِ دیگر دفا ع عن الاسلام ۔ اس تناظر میں ہمارے مدارس اسلامیہ کا تر تیب دیا ہوا نصابِ تعلیم اس وقت مفید اور کارگر ہو سکتا ہے جوافا دیت کی غرض سے جزوی تر میم کا بھی متقاضی ہو ۔ لیکن کلیةً تبدیلی کی تمنا یا کلیةً قدیم اسلاف کےکہنہ نصاب کالزوم مذکورہ ذمہ داریوں پر کھ نظر آتا ہے ۔
البتہ کسی مدرسہ میں اگرتزکیہ نفس پر زورہے تواس طرح کی کتابوں کثرت۔ کہیں امت کواسلامی تعلیم سے روشناس اور ان کےدینی مساٸل واسلامی ضرویات پیش نظر ہے ۔تو اس کے اعتبار سے انکا نصاب الگ ۔تو کسی کے یہاں دفاع عن الاسلام مقصود ہے تو ظاہر ہے اس نصاب اسی طرز کا حامل ہوگاپھر اگر دفاع داخلی فتنوں سے متلعق ہے تو اس کی کتابیں علا حدہ اور اگربیرونی چیلنجز کے مد مقابل ہے تو ان کا ایک مستقل نصاب ۔ جس میں مخالفین کی زبان وکلام کی تعلیم ناگزیر ہے۔
الحاصل: مدارس اسلامیہ کے نصاب ہاۓ تعلیم دوسرے کے معاون ہیں معاند نہیں ۔حلیف ہیںٗ حریف نہیں ۔رفیق ہیں رقیب نہیں ۔ گویا تعلیم ایک ڈھانچہ ہے مضامین اسکے اعضا ٕ اورتقوی اس کی روح ہے۔
لگے ہاتھو ں یہاں یہ بھی ذکر کرنا مناسب ہے قرآن و حدیث میں حضرات انبیا ٕکرام کی صنعت کاریوں اور کا ٸنات جس کے بارے میں غور وفکر کا حکم دیا ہے ۔جسے موجودہ زمانہ میں ساٸنس کہا جاتا ہے_ ان کو ”علم دین“کا نام کیوں نہیں دیا جاتا ۔؟۔
اسکا آسان سا جواب ہے کہ اگر یہ تعلیم مطلوبہ مقاصد واغراض کی ہمرکابی کےساتھ اسلام کی حقانیت اور تبلیغ دین کا باعث ہو تو وہ یقینا” دینی علم کاحصہ “ ہے لیکن اگر اسلام مخالف ہوتو اسکو ”دینی علم“ سے موسوم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ یہ علوم براۓ تجارت بن گیۓ ہیں جبکہ اسلام میں تعلیم معرفتِ الھی اور عبادتِ خدا وندی کانام ہے ۔
موجودہ زمانے میں ”عصری علوم “کی ضروریا ت حد سے زاٸد بڑھ گٸی ہے یقیناًعلماۓ کرام اس تعلق سے بہت متفکر ہیں ۔اور اس کے نفاذ واجرا ٕ مزید اسلامی روش کے متلا شی بھی ہیں۔مگر اتنے مٗصر بھی نہیں ہیں کہ ضرویات کو مقاصد پر ترجیح دےبیٹھیں جیسا کہ بہت سے لوگ عصری تعلیم کے عمومی نفاذ کے حوالے سے اتنے اٗتاولے ہیں کہ دین کی تعلیم کو پسِ پست ڈال دیاایسا لگتا ہے مدارس والوں کی اسکی بہت ضروت ہے لیکن ان لوگوں کو دین کی ضرورت نہیں۔
الحاصل : مذکورہ تینوں اصطلاحات میں پہلی قسم حقیقت پر مشتمل ہے ۔اس قسم کی بابت حدیث شریف کا بیان ہے:
”العلم علمان علم فی القلب فذاک العلم النافع وعلم علی اللسان فذاک حجة اللہ علی خلقہ “( ابن ابی شیبہ 34361)
علم نافع وہ ہے جو یقین کا محرک ہو اور ”علم ضار “وہ ہے جو علم زبان پر جاری ، یقین سے ماورا ٕ اور قیامت میں رسواٸی کا باعث ہو۔ اسلیۓ یہ کتب نصاب اور مقاصد پر محیط ہے ۔
دوسری قسم عرفی ہے جو حالات کے تناظر میں وجود پذیر ہوٸی ہے ۔ تاکہ امت بے راہروی سے محفوظ رہے ۔ یہ کتابی نصاب پر مشتمل احوال وکیفیات کے مد ِنظر جزوی تبدیلی کا متقاضی ہے ۔
تیسری قسم کا تعلق چوں کہ عوام الناس سے ہے اور اس کا مفہوم مذکورہ حدیث سے مستفاد ہے ۔اس لیۓ اس کا مقصد عوام میں تر غیب وتشکیل ہے ۔ ۔
اس لیۓ ان کے استعمال میں کوٸی حرج نہیں ہے کیو ن کہ ہر ایک کا محور الگ الگ ہے
✏ عبید الرحمن عبید اللہ قاسمی 7026796531
ufbqasmi5@gmail.co
Comments
Post a Comment