دارالعلوم دیوبند تیری عظمتوں کو سلام
♻Ⓜ♻
*📚 دارالعلوم دیوبند تیری عظمتوں کوسلام __!!*
*🖋 فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی ۔*
*عربی محاورہ ہے کہ چمگاڈر کا سورج پرملامت کرنے سے سورج کی روشنی میں کوئی فرق نہی پڑتا، سورج کاایک مقام ہے، اس کی روشنی سے ہر خاص وعام فائدہ اٹھاتا ہے، اس کی اہمیت اس کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے، ایسے ہی کچھ افراد یاکچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی انہیں مقبولیت سے نوازتاہے، سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کابابرکت فرمان ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالی کسی سے محبت کرتاہے، تو فرشتوں سے کہتاہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتاہوں تم بھی اس سے محبت کرو، اور لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت ڈال دی جاتی ہے اور زمین والوں کی نظر میں وہ محبوب بن جاتا ہے،کچھ ایسی ہی مقبولیت اللہ رب العزت والجلال نے مادرعلمی دارالعلوم دیوبند کودی ہے، دارالعلوم دیوبند کی عظمت سے روشناس کرانا سورج کوروشنی دکھانے کے مانند ہے،میری کیابساط ہے کہ عالم اسلام کی مقبول درسگاہ، جس نے ہندوستان میں ایسے وقت میں اسلام کی حفاظت کی جب ایسے معلوم ہورہاہے کہ ہندوستان سے اب اسلام رخصت ہوجائے گا، اسلامی چراغ بجھنے کے بالکل قریب تھا،اللہ والے فکرمند تھے، ہندوستان کے چپہ چپہ پر پادری زور شور سے اپنے مذہب کی تبلیغ کررہے تھے، اورارتداد کی ایک لہر چل پڑی تھی، اس وقت کے اللہ والے سخت پریشان تھے، اپنی سحرگاہی میں روروکردعائیں کررہے تھے، اے اللہ ہندوستان میں دین کی حفاظت فرما، اس وقت کے تمام اللہ والوں کے دلوں میں الہام ہوا کہ ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے، چنانچہ دیوبند میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اس مدرسہ کی پہلی اینٹ رکھنے والا وہ اللہ والے تھے جن کے دل میں گناہ کاخیال بھی نہی آتاتھا، اس مدرسہ کانام دارالعلوم دیوبند ہے، حق بات تویہی ہے کہ میں اس لائق نہی، میری یہ بساط نہی ہے کہ دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارہ کے بارے میں اپنی قلم کوحرکت دوں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اللہ والوں کا تذکرہ کرنا بھی کارثواب ہے،*
*دارالعلوم دیوبند ایک عالمی ادارہ ہے، دنیاکاکوئی ایسا کونہ نہی جہاں اس ادارہ سے منسلک فضلاء دین کی خدمت انجام نہ دے رہے ہوں، عرب ہو یاعجم ہرجگہ اس ادارہ کی شہرت ہے، پھر کوئی ہندوستانی یہ کہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک معمولی ادارہ ہے، تو یہ بات ایسی ہے جیسے کوئی سورج کی روشنی کومعمولی قرار دے، دعوت وتبلیغ بھی دارالعلوم دیوبند سے شروع ہوئی ایک تحریک ہے، اس تحریک کوعالمی سطح پر پہنچانے کی وجہ یہی ہے اکابر علماء دیوبند کی نگرانی میں یہ تحریک چلتی رہی ہے،*
*دارالعلوم دیوبند کی عظمت پورے عالم اسلام میں مسلم ہے، دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی بھی شخص وہ عالم ہو، یاغیر عالم ہو، دارالعلوم دیوبند کودیکھنے کے بعد اس کابیان یہی ہوتاہے کہ ایک زمانے سے دارالعلوم دیوبند کودیکھنے کی تمناتھی،*
*دارالعلوم دیوبند کے فتوی کی مقبولیت*
*دارالعلوم دیوبند اہل سنت والجماعت کاایک معتبرادارہ ہے، اس کے فتووں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے، دارالعلوم دیوبند کے فتووں کااصل ماوی ومرجع امام ربانی مولانارشیداحمدگنگوہی رحمہ اللہ ہیں، امام ربانی گنگوہ میں بیٹھ کرکوئی فتوی دیتے تھے، اور پورے ہندوستان میں آگ کی طرح وہ فتوی پھیل جاتا ہے، اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے امام ربانی کے امکان کذب کے سلسلہ میں کسی فتوی کو کاٹ چھانٹ کر علماء حرمین سے فتوی طلب کیاتھا، علماء حرمین شریفین کی جانب سے دارالعلوم دیوبند جواستفتاء آیاتھا، امام ربانی مولانارشید احمد گنگوہی کے لئے جوالفاظ استعمال کئے گئے تھے، العلامہ فی الزمان، الشیخ الاجل، مولانارشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ کو علماء عرب بھی علامہ مانتے تھے، آپ کے فتوی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، دارالعلوم دیوبند ہو یامظاہرعلوم سہارنپور فتووں کے ماوی ومرجع مولانا رشید احمد گنگوہی ہی تھے، دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مفتی مفتی عزیزالرحمان صاحب یہ بھی حضرت گنگوہی کے خادم خاص تھے، الحمدللہ دارالعلوم دیوبند کے فتووں کی پوری دنیا میں پوری دنیا میں اہمیت تھی، اہل عرب بھی عظمت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آج بھی دیکھاجارہاہے،مفتی شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کاوہ فتوی جس میں گنبد نہ گرانے کوثابت کیاگیا تھا، سعودی حکومت بھی اس فتوی کے سامنے جھکی، اور گنبد کونہی گرایا،کسی کایہ کہنا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتووں کی کوئی اہمیت نہی یقینایہ دجل فراڈ، جھوٹ ہے*
*دارالعلوم دیوبند کامقام اہل عرب کے نزدیک*
*علماء عرب اوردوسرے مسلم ممالک کے علماء علماء دیوبند کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء دیوبند کی علم حدیث میں عظیم خدمات ہیں، امام ربانی مولانارشید احمد گنگوہی تن تنہا اکیلے چودہ سال تک صحاح ستہ کادرس دیتے تھے،جب کہ آج حال یہ ہے کہ ۱۰، ۱۲ اساتذہ مل کر بھی صحاح ستہ مکمل نہی کراپاتے، برصغیر میں بخاری شریف کی سب سے پہلی شرح بھی حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی عربی تقریر لامع الدراری ہے، جس کو مولانایحی کاندہلوی رحمہ اللہ نے دوران درس ضبط کیا اور ان کے لائق فائق فرزند شیخ الحدیث شیخ زکریا کاندہلوی رحمہ اللہ نے اپنے عربی حاشیہ کے ساتھ شائع کرایا، ترمذی شریف کی تقریر الکوکب الدری کے نام سے شائع کرایا، ترمذی شریف کے جہاں تمام شارحین خاموش نظر آتے ہیں، ایسے مشکل ترین اعتراضات کاجواب حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے دیاہے، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے سرپرست ثانی تھے، مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابوداود حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں، ابوداود شریف کی عربی شرح بذل المجہود ہے، جس کو مولاناخلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ نے نہایت عمدہ طریقہ سے لکھا، موطا امام مالک کی عربی شرح اوجز المسالک ہے، علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی عربی تقریر فیض الباری، علماء عرب علماء دیوبند کے اور دارالعلوم دیوبند کے یوں ہی مداح نہی، بلکہ علماء دیوبند کی ان کی عربی شروحات کوپڑھا، تب انہیں ان کے علوم کااندازہ ہوا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کوکون جانتا ہے، میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں پوری دنیا میں جہاں جہاں احادیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ علماء دیوبند کے عربی شروحات سے واقف ہوگا اور علماء دیوبند اوردارالعلوم دیوبند کامداح ہوگا،اہل عرب میں علماء دیوبند کی مقبولیت احادیث میں عربی تصنیفات ہی وجہ سے ہے*
*شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد ولی اللہی خاندان کے زوال ہونے کے بعد دارالعلوم دیوبند نے علم حدیث کی جو خدمت کی ہے، اورعلم حدیث کوجس طرح عام کیا ہے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، اور الحمدللہ جس اہتمام کے ساتھ دارالعلوم دیوبند اور اس سے منسلک مدارس میں علم حدیث پڑھایاجاتا ہے،پوری دنیا میں اس انداز اور اس اہتمام اوراسلامی وضع قطع کے ساتھ حدیث کی خدمت نہی دی جاتی،اگر آج برصغیر میں علم حدیث پورے اہتمام کے ساتھ پڑھایا جاتاہے تودارالعلوم دیوبند کااحسان ہے، مصر کے مشہور عالم دین خالد رشید صاحب جب دارالعلوم دیوبند آئے تھے، اورعلامہ انورکشمیری رحمہ اللہ کے درس میں شریک ہوئے تھے، توانہوں نے کہا تھا، ایسادرس میں نے اس سے پہلے نہی سناتھا،اس کی وجہ تھی اس وقت عام طور سے اس طرح تفصیل سے فقہی مباحث، نحوی صرفی تحقیقات، بلاغت وفصاحت تمام چیزوں کومدنظر رکھتے ہوئے درس نہی دیاجاتاتھا، الحمدللہ دارالعلوم دیوبند میں آج بھی اسی اہتمام کے ساتھ درس دیاجاتاہے*
*دارالعلوم دیوبند سے کروڑوں دل وابستہ*
*ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم قربانیاں رہیں ہیں،اس ادارہ کا ہندوستان پر عظیم احسان ہے، ہندوستانی مسلمانوں پر تودوہرا احسان کہ ایک تو دارالعلوم دیوبند نے ان کے ایمان کی حفاظت کی، اوردوسرے آزادی کی دولت سے مالامال کیا، یہی وجہ ہے کہ کروڑوں دل اس ادارہ سے وابستہ ہیں، دل سے بھی زیادہ اس ادارہ کوچاہتے ہیں، لہاذا اس ادارہ کے بارے میں کوئی غلط تبصرہ کرنا گویاکہ کروڑوں دل دکھانے کے مترادف ہے، حالانکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ایک مسلمان کادل دکھانا ستر مرتبہ کعبہ ڈھانے سے زیادہ گناہ ہے،لہاذااس ادارہ کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے سومرتبہ سوچناچائیے*
*دارالعلوم دیوبند کاجوکل مقام تھا، الحمدللہ آج بھی وہی مقام لوگوں کے دلوں میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد اخلاص پررکھی گئی تھی،اول دن سےقرآن وحدیث کی تبلیغ واشاعت میں اسلامی وضع وقطع کے ساتھ رواں دواں تھا، الحمدللہ آج بھی اسی نہج پر قائم ہے،*
*دارالعلوم دیوبند کاموجودہ موقف اسلامی شریعت کی ترجمانی*
*دارالعلوم دیوبند سے مولانا سعد صاحب کے بارے میں کوئی بارے میں کوئی فتوی نہی جاری ہوا، افسوس ہوتاہے جب اہل علم بھی اس طرح کی غلطی کرتے ہیں،دارالعلوم دیوبند سے جب ملک وبیرون سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی ہے، اور مختلف تقاریر کے آڈیو ارسال کئے گئے، ان تقریروں کوسن کر دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء نے ایک موقف بیان کیا، اوردارالعلوم دیوبند کایہ موقف درحقیقت اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے، جن چیزوں کو دارالعلوم دیوبند نے اہل سنت والجماعت کے خلاف قرار دیا، اسلامی شریعت میں جسے تحریف بتایا، آپ مصر، الجزائر، لیبیا، مراکش کسی بھی دارالافتاء سے فتوی لیں گے، یہی جواب ملے گا جو دارالعلوم دیوبند سے آیا ہے، کیونکہ پوری دنیا کے مفتیان کامرجع قرآن وحدیث ہے، قرآن وحدیث سے استنباط کرکے جواب دیتے ہیں، ہاں ائمہ مجتہدین کااختلاف ہوجائے وہاں مفتی کواختیار ہے کسی ایک مجتہد کی رائے پر فتوی دے، لیکن دارالعلوم دیوبند کاموجودہ موقف جسے نادان لوگ فتوی کہہ رہے ہیں، ایسا اختلافی مسلہ نہی کہ جس میں کسی مجتہد کااختلاف ہو، کیمرہ والا موبائل رکھ کر نماز ہوجاتی ہے،دارالعلوم دیوبند نے یہی کہا، سارے دنیا کے دارالافتاء یہی جواب دیں گے، مراکش اور لیبیا کے مفتی بھی قرآن وحدیث وآثار کومدنظر رکھتے ہوئے فتوی دیتے ہیں، ایسانہی ہے کہ وہ رامائن اور مہابھارت کی روشنی میں فتوی دیں، جب مفتی قرآن وحدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے فتوی دیتاہے تودنیا کے کسی بھی ملک سے فتوی لو جواب وہی ملے، ایسے ہی موسی علیہ السلام کی شان میں بے ادبی کو الجزائر، مراکش، لیبیا، مصر کے دارالافتاء بھی غلط ہی کہیں گے جیساکہ دارالعلوم دیوبند نے کہا، اسی لئے ہم نے کہا دارالعلوم دیوبند کاموقف اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے،لہاذا کسی کایہ کہنا کہ یہ ایک حلقہ کافتوی ہے، پلہ درجہ کی جہالت اورنادانی ہے،فتوی ایک حلقہ کانہی بلکہ اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے، فتوی قرآن وحدیث سے مستنبط حکم ہوتاہے، اسی لئے مفتیان کرام نے یہاں تک لکھا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اس فتوی کونہی مانتا تووہ اسلام کی سرحد سے نکل جاتاہے، کیونکہ فتوی قرآن وحدیث کاایک حکم ہے، اور قرآن وحدیث کے حکم کاجوانکار کرے، وہ مسلمان نہی، یہ تب ہے جب کوئی چیز قرآن سے صراحہ ثابت ہو اس کاانکار کرے،*
*وقت کی نزاکت کوسمجھنے کی ضرورت*
*دارالعلوم دیوبند اور ندوہ العلماء اہل سنت والجماعت کے دومعتبر ادارہ ہیں، روز اول ہی سے دونوں جہاں کے اکابرین کا آپس میں غیر معمولی تعلق رہاہے، ندوہ اور قاسمی کے نام پر کسی قسم کی تعصب کی چنداں ضرورت نہی، بلکہ ندوہ اوردارالعلوم دونوں کامسلک ایک ہے، مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے مجلس تعلیمی کے رکن رہے، اور حضرت مدنی رحمہ اللہ سے فیض حاصل کیا، لہاذا میں ندوہ العلماء اور دارالعلوم دیوبند کے فضلاء سے عاجزانہ درخواست کرتاہوں کہ ندوی وقاسمی کے تعصب کوبالائے طاق رکھو، وقت کی نزاکت کوسمجھو، آپس میں ٹکراکر خود کوکمزور نہ کرو، اس امت کا وصف خاص اعتدال پر قائم رہو، متحد ہوکر داخلی وخارجی فتنوں سے مقابلہ کرو، اور دونوں ادارہ اور اس کے اکابرین کامکمل احترام کرو، ندوہ اوردارالعلوم دیوبند میں کوئی فرق نہ کرو، اللہ تعالی سے دعاہے کہ اللہ تعالی ان دونوں اداروں کو یوں ہی پھلتاپھولتارکھے...آمین...*
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
*📚 دارالعلوم دیوبند تیری عظمتوں کوسلام __!!*
*🖋 فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی ۔*
*عربی محاورہ ہے کہ چمگاڈر کا سورج پرملامت کرنے سے سورج کی روشنی میں کوئی فرق نہی پڑتا، سورج کاایک مقام ہے، اس کی روشنی سے ہر خاص وعام فائدہ اٹھاتا ہے، اس کی اہمیت اس کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے، ایسے ہی کچھ افراد یاکچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اللہ تبارک وتعالی انہیں مقبولیت سے نوازتاہے، سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کابابرکت فرمان ہے کہ جب اللہ تبارک وتعالی کسی سے محبت کرتاہے، تو فرشتوں سے کہتاہے کہ میں فلاں شخص سے محبت کرتاہوں تم بھی اس سے محبت کرو، اور لوگوں کے دلوں میں اس کے لئے محبت ڈال دی جاتی ہے اور زمین والوں کی نظر میں وہ محبوب بن جاتا ہے،کچھ ایسی ہی مقبولیت اللہ رب العزت والجلال نے مادرعلمی دارالعلوم دیوبند کودی ہے، دارالعلوم دیوبند کی عظمت سے روشناس کرانا سورج کوروشنی دکھانے کے مانند ہے،میری کیابساط ہے کہ عالم اسلام کی مقبول درسگاہ، جس نے ہندوستان میں ایسے وقت میں اسلام کی حفاظت کی جب ایسے معلوم ہورہاہے کہ ہندوستان سے اب اسلام رخصت ہوجائے گا، اسلامی چراغ بجھنے کے بالکل قریب تھا،اللہ والے فکرمند تھے، ہندوستان کے چپہ چپہ پر پادری زور شور سے اپنے مذہب کی تبلیغ کررہے تھے، اورارتداد کی ایک لہر چل پڑی تھی، اس وقت کے اللہ والے سخت پریشان تھے، اپنی سحرگاہی میں روروکردعائیں کررہے تھے، اے اللہ ہندوستان میں دین کی حفاظت فرما، اس وقت کے تمام اللہ والوں کے دلوں میں الہام ہوا کہ ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے، چنانچہ دیوبند میں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اس مدرسہ کی پہلی اینٹ رکھنے والا وہ اللہ والے تھے جن کے دل میں گناہ کاخیال بھی نہی آتاتھا، اس مدرسہ کانام دارالعلوم دیوبند ہے، حق بات تویہی ہے کہ میں اس لائق نہی، میری یہ بساط نہی ہے کہ دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارہ کے بارے میں اپنی قلم کوحرکت دوں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اللہ والوں کا تذکرہ کرنا بھی کارثواب ہے،*
*دارالعلوم دیوبند ایک عالمی ادارہ ہے، دنیاکاکوئی ایسا کونہ نہی جہاں اس ادارہ سے منسلک فضلاء دین کی خدمت انجام نہ دے رہے ہوں، عرب ہو یاعجم ہرجگہ اس ادارہ کی شہرت ہے، پھر کوئی ہندوستانی یہ کہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک معمولی ادارہ ہے، تو یہ بات ایسی ہے جیسے کوئی سورج کی روشنی کومعمولی قرار دے، دعوت وتبلیغ بھی دارالعلوم دیوبند سے شروع ہوئی ایک تحریک ہے، اس تحریک کوعالمی سطح پر پہنچانے کی وجہ یہی ہے اکابر علماء دیوبند کی نگرانی میں یہ تحریک چلتی رہی ہے،*
*دارالعلوم دیوبند کی عظمت پورے عالم اسلام میں مسلم ہے، دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی بھی شخص وہ عالم ہو، یاغیر عالم ہو، دارالعلوم دیوبند کودیکھنے کے بعد اس کابیان یہی ہوتاہے کہ ایک زمانے سے دارالعلوم دیوبند کودیکھنے کی تمناتھی،*
*دارالعلوم دیوبند کے فتوی کی مقبولیت*
*دارالعلوم دیوبند اہل سنت والجماعت کاایک معتبرادارہ ہے، اس کے فتووں کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے، دارالعلوم دیوبند کے فتووں کااصل ماوی ومرجع امام ربانی مولانارشیداحمدگنگوہی رحمہ اللہ ہیں، امام ربانی گنگوہ میں بیٹھ کرکوئی فتوی دیتے تھے، اور پورے ہندوستان میں آگ کی طرح وہ فتوی پھیل جاتا ہے، اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے امام ربانی کے امکان کذب کے سلسلہ میں کسی فتوی کو کاٹ چھانٹ کر علماء حرمین سے فتوی طلب کیاتھا، علماء حرمین شریفین کی جانب سے دارالعلوم دیوبند جواستفتاء آیاتھا، امام ربانی مولانارشید احمد گنگوہی کے لئے جوالفاظ استعمال کئے گئے تھے، العلامہ فی الزمان، الشیخ الاجل، مولانارشیداحمد گنگوہی رحمہ اللہ کو علماء عرب بھی علامہ مانتے تھے، آپ کے فتوی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، دارالعلوم دیوبند ہو یامظاہرعلوم سہارنپور فتووں کے ماوی ومرجع مولانا رشید احمد گنگوہی ہی تھے، دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مفتی مفتی عزیزالرحمان صاحب یہ بھی حضرت گنگوہی کے خادم خاص تھے، الحمدللہ دارالعلوم دیوبند کے فتووں کی پوری دنیا میں پوری دنیا میں اہمیت تھی، اہل عرب بھی عظمت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آج بھی دیکھاجارہاہے،مفتی شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کاوہ فتوی جس میں گنبد نہ گرانے کوثابت کیاگیا تھا، سعودی حکومت بھی اس فتوی کے سامنے جھکی، اور گنبد کونہی گرایا،کسی کایہ کہنا کہ دارالعلوم دیوبند کے فتووں کی کوئی اہمیت نہی یقینایہ دجل فراڈ، جھوٹ ہے*
*دارالعلوم دیوبند کامقام اہل عرب کے نزدیک*
*علماء عرب اوردوسرے مسلم ممالک کے علماء علماء دیوبند کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء دیوبند کی علم حدیث میں عظیم خدمات ہیں، امام ربانی مولانارشید احمد گنگوہی تن تنہا اکیلے چودہ سال تک صحاح ستہ کادرس دیتے تھے،جب کہ آج حال یہ ہے کہ ۱۰، ۱۲ اساتذہ مل کر بھی صحاح ستہ مکمل نہی کراپاتے، برصغیر میں بخاری شریف کی سب سے پہلی شرح بھی حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کی عربی تقریر لامع الدراری ہے، جس کو مولانایحی کاندہلوی رحمہ اللہ نے دوران درس ضبط کیا اور ان کے لائق فائق فرزند شیخ الحدیث شیخ زکریا کاندہلوی رحمہ اللہ نے اپنے عربی حاشیہ کے ساتھ شائع کرایا، ترمذی شریف کی تقریر الکوکب الدری کے نام سے شائع کرایا، ترمذی شریف کے جہاں تمام شارحین خاموش نظر آتے ہیں، ایسے مشکل ترین اعتراضات کاجواب حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے دیاہے، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے سرپرست ثانی تھے، مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابوداود حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں، ابوداود شریف کی عربی شرح بذل المجہود ہے، جس کو مولاناخلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ نے نہایت عمدہ طریقہ سے لکھا، موطا امام مالک کی عربی شرح اوجز المسالک ہے، علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی عربی تقریر فیض الباری، علماء عرب علماء دیوبند کے اور دارالعلوم دیوبند کے یوں ہی مداح نہی، بلکہ علماء دیوبند کی ان کی عربی شروحات کوپڑھا، تب انہیں ان کے علوم کااندازہ ہوا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کوکون جانتا ہے، میں دعوی کے ساتھ کہتا ہوں پوری دنیا میں جہاں جہاں احادیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ علماء دیوبند کے عربی شروحات سے واقف ہوگا اور علماء دیوبند اوردارالعلوم دیوبند کامداح ہوگا،اہل عرب میں علماء دیوبند کی مقبولیت احادیث میں عربی تصنیفات ہی وجہ سے ہے*
*شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد ولی اللہی خاندان کے زوال ہونے کے بعد دارالعلوم دیوبند نے علم حدیث کی جو خدمت کی ہے، اورعلم حدیث کوجس طرح عام کیا ہے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، اور الحمدللہ جس اہتمام کے ساتھ دارالعلوم دیوبند اور اس سے منسلک مدارس میں علم حدیث پڑھایاجاتا ہے،پوری دنیا میں اس انداز اور اس اہتمام اوراسلامی وضع قطع کے ساتھ حدیث کی خدمت نہی دی جاتی،اگر آج برصغیر میں علم حدیث پورے اہتمام کے ساتھ پڑھایا جاتاہے تودارالعلوم دیوبند کااحسان ہے، مصر کے مشہور عالم دین خالد رشید صاحب جب دارالعلوم دیوبند آئے تھے، اورعلامہ انورکشمیری رحمہ اللہ کے درس میں شریک ہوئے تھے، توانہوں نے کہا تھا، ایسادرس میں نے اس سے پہلے نہی سناتھا،اس کی وجہ تھی اس وقت عام طور سے اس طرح تفصیل سے فقہی مباحث، نحوی صرفی تحقیقات، بلاغت وفصاحت تمام چیزوں کومدنظر رکھتے ہوئے درس نہی دیاجاتاتھا، الحمدللہ دارالعلوم دیوبند میں آج بھی اسی اہتمام کے ساتھ درس دیاجاتاہے*
*دارالعلوم دیوبند سے کروڑوں دل وابستہ*
*ہندوستان کی آزادی میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم قربانیاں رہیں ہیں،اس ادارہ کا ہندوستان پر عظیم احسان ہے، ہندوستانی مسلمانوں پر تودوہرا احسان کہ ایک تو دارالعلوم دیوبند نے ان کے ایمان کی حفاظت کی، اوردوسرے آزادی کی دولت سے مالامال کیا، یہی وجہ ہے کہ کروڑوں دل اس ادارہ سے وابستہ ہیں، دل سے بھی زیادہ اس ادارہ کوچاہتے ہیں، لہاذا اس ادارہ کے بارے میں کوئی غلط تبصرہ کرنا گویاکہ کروڑوں دل دکھانے کے مترادف ہے، حالانکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ایک مسلمان کادل دکھانا ستر مرتبہ کعبہ ڈھانے سے زیادہ گناہ ہے،لہاذااس ادارہ کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے سومرتبہ سوچناچائیے*
*دارالعلوم دیوبند کاجوکل مقام تھا، الحمدللہ آج بھی وہی مقام لوگوں کے دلوں میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد اخلاص پررکھی گئی تھی،اول دن سےقرآن وحدیث کی تبلیغ واشاعت میں اسلامی وضع وقطع کے ساتھ رواں دواں تھا، الحمدللہ آج بھی اسی نہج پر قائم ہے،*
*دارالعلوم دیوبند کاموجودہ موقف اسلامی شریعت کی ترجمانی*
*دارالعلوم دیوبند سے مولانا سعد صاحب کے بارے میں کوئی بارے میں کوئی فتوی نہی جاری ہوا، افسوس ہوتاہے جب اہل علم بھی اس طرح کی غلطی کرتے ہیں،دارالعلوم دیوبند سے جب ملک وبیرون سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی ہے، اور مختلف تقاریر کے آڈیو ارسال کئے گئے، ان تقریروں کوسن کر دارالعلوم دیوبند کے اکابر علماء نے ایک موقف بیان کیا، اوردارالعلوم دیوبند کایہ موقف درحقیقت اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے، جن چیزوں کو دارالعلوم دیوبند نے اہل سنت والجماعت کے خلاف قرار دیا، اسلامی شریعت میں جسے تحریف بتایا، آپ مصر، الجزائر، لیبیا، مراکش کسی بھی دارالافتاء سے فتوی لیں گے، یہی جواب ملے گا جو دارالعلوم دیوبند سے آیا ہے، کیونکہ پوری دنیا کے مفتیان کامرجع قرآن وحدیث ہے، قرآن وحدیث سے استنباط کرکے جواب دیتے ہیں، ہاں ائمہ مجتہدین کااختلاف ہوجائے وہاں مفتی کواختیار ہے کسی ایک مجتہد کی رائے پر فتوی دے، لیکن دارالعلوم دیوبند کاموجودہ موقف جسے نادان لوگ فتوی کہہ رہے ہیں، ایسا اختلافی مسلہ نہی کہ جس میں کسی مجتہد کااختلاف ہو، کیمرہ والا موبائل رکھ کر نماز ہوجاتی ہے،دارالعلوم دیوبند نے یہی کہا، سارے دنیا کے دارالافتاء یہی جواب دیں گے، مراکش اور لیبیا کے مفتی بھی قرآن وحدیث وآثار کومدنظر رکھتے ہوئے فتوی دیتے ہیں، ایسانہی ہے کہ وہ رامائن اور مہابھارت کی روشنی میں فتوی دیں، جب مفتی قرآن وحدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے فتوی دیتاہے تودنیا کے کسی بھی ملک سے فتوی لو جواب وہی ملے، ایسے ہی موسی علیہ السلام کی شان میں بے ادبی کو الجزائر، مراکش، لیبیا، مصر کے دارالافتاء بھی غلط ہی کہیں گے جیساکہ دارالعلوم دیوبند نے کہا، اسی لئے ہم نے کہا دارالعلوم دیوبند کاموقف اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے،لہاذا کسی کایہ کہنا کہ یہ ایک حلقہ کافتوی ہے، پلہ درجہ کی جہالت اورنادانی ہے،فتوی ایک حلقہ کانہی بلکہ اسلامی شریعت کی ترجمانی ہے، فتوی قرآن وحدیث سے مستنبط حکم ہوتاہے، اسی لئے مفتیان کرام نے یہاں تک لکھا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اس فتوی کونہی مانتا تووہ اسلام کی سرحد سے نکل جاتاہے، کیونکہ فتوی قرآن وحدیث کاایک حکم ہے، اور قرآن وحدیث کے حکم کاجوانکار کرے، وہ مسلمان نہی، یہ تب ہے جب کوئی چیز قرآن سے صراحہ ثابت ہو اس کاانکار کرے،*
*وقت کی نزاکت کوسمجھنے کی ضرورت*
*دارالعلوم دیوبند اور ندوہ العلماء اہل سنت والجماعت کے دومعتبر ادارہ ہیں، روز اول ہی سے دونوں جہاں کے اکابرین کا آپس میں غیر معمولی تعلق رہاہے، ندوہ اور قاسمی کے نام پر کسی قسم کی تعصب کی چنداں ضرورت نہی، بلکہ ندوہ اوردارالعلوم دونوں کامسلک ایک ہے، مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ دارالعلوم دیوبند کے مجلس تعلیمی کے رکن رہے، اور حضرت مدنی رحمہ اللہ سے فیض حاصل کیا، لہاذا میں ندوہ العلماء اور دارالعلوم دیوبند کے فضلاء سے عاجزانہ درخواست کرتاہوں کہ ندوی وقاسمی کے تعصب کوبالائے طاق رکھو، وقت کی نزاکت کوسمجھو، آپس میں ٹکراکر خود کوکمزور نہ کرو، اس امت کا وصف خاص اعتدال پر قائم رہو، متحد ہوکر داخلی وخارجی فتنوں سے مقابلہ کرو، اور دونوں ادارہ اور اس کے اکابرین کامکمل احترام کرو، ندوہ اوردارالعلوم دیوبند میں کوئی فرق نہ کرو، اللہ تعالی سے دعاہے کہ اللہ تعالی ان دونوں اداروں کو یوں ہی پھلتاپھولتارکھے...آمین...*
🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰
Comments
Post a Comment