اردو مطلب و مفہوم کے ذریعہ حدیث کی متن تک کیسے رسائ ہو

*سوال : اردو مطلب ومفہوم کے ذریعہ حدیث کی متن تک کیسے رسائی ہو ؟ جو مشہور احادیث ہیں ان تک تو تھوڑی سی کد وکاوش سے رسائی ہو جاتی ہے ، لیکن اس کے علاوہ متون تلاشنے کے لئے الفاظ کا چناؤ کیسے کرنا چاہئے ؟*

یہ ایک اہم سوال ہے ، جو بہت سوں کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے ، اور تخریج حدیث میں دشواری ہونے کی وجہ سے اس کا گر جاننے کا انتظار رہتا ہے ۔

اس کا ایک آسان جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ : تخریج الحدیث کے نئے پرانے جو طریقے اہل علم نے لکھے ہیں ، انہی کی مدد سے تخریج کی کوشش کی جائے ۔
مگر مسئلہ اردو سے ترجمہ کا ہے ، کیونکہ عموما احادیث کے جو بڑے ذخیرے ہیں وہ عربی میں ہیں ، ان تک رسائی بغیر عربی الفاظ کے ممکن نہیں ہے ۔

سوال بالا کا میں یہاں کوئی ٹھوس علمی جواب دینے سے تو عاجز ہوں ، لیکن اپنے محدود تجربات کی روشنی میں مختصرا چند باتیں عرض کرتاہوں ۔

*تو عرض ہے کہ : حدیث کے اردو مفہوم سے متن تلاش کرنا* :

یہ دو طریقوں سے ممکن ہے : (1) الفاظ (2) نفس معنی ومفہوم سے ۔

الفاظ دو طرح کے ہیں : نام ، عام

(1) حدیث کے مفہوم میں اگر کوئی نام مذکور ہو ، مثلا صاحب الواقعہ کا نام ہو ، یا روایت کرنے والے صحابی کا ، یا کسی جگہ کا یا واقعہ کا نام ہو ، تو وہ الفاظ مفتاح البحث بن کر ، متن تک پہنچنے میں مدد کرسکتے ہیں ۔

(2) عام الفاظ میں تو دو باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ، چنیدہ لفظ قلیل الدوران ہو ، اور دوسرے اس کا متبادل عربی لفظ معلوم ہو ۔

معنی ومفہوم کے ذریعے تخریج کے لئے تو کوئی متعین طریقہ نہیں ہے ، بس مختلف طریقوں سے کوشش کی جائے ، کہ کبھی کوئی تیر نشانے پر لگ جائے ۔ مگر آسانی یہ ہے کہ اردو میں عربی الفاظ کا خاصا ذخیرہ ہے ، تو اگر ایسے کوئی لفظ کی مدد سے ڈھونڈیں تو جلدی رسائی حاصل ہوتی ہے ۔

میرا طریقہ یہ ہے کہ میں سب سے پہلے تو مفہوم کا ترجمہ کرکے تلاشنے کی کوشش کرتا ہوں گوگل گے ذریعے ، یا المکتبۃ الشاملہ ، یا مکتبہ جبریل کی مدد سے ۔ اب یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ عربی زبان پر آپ کی جتنی گرفت مضبوط ہوگی ، اتنا ہی کام آسان ہوگا ۔

بعض مرتبہ اردو سے ہی گوگل پر سرچ کرتاہوں ، گوگل کی خصوصیات یہ ہیں کہ : ایک تو اس میں مواد کا ذخیرہ بہت وسیع ہے ، دوسرے بلا ترتیب عبارت لکھنے سے بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ بر آمد ہو جاتا ہے ، یا متن تک رسائی کا کوئی سرا مل جاتا ہے ، تیسرے سرعت ۔ یہی طریقہ مکتبہ جبریل پر بھی آزماتا ہوں ۔

لیکن اردو کے بالمقابل عربی کا کوئی مناسب لفظ اگر مل جاتا ہے تو کام آسان ہوتا ہے ۔

*ایک اہم مشورہ اس سلسلہ میں ہے جس کے بارے میں ، میں متعدد اہل علم سے مذاکرہ بھی کر چکاہوں ، وہ یہ ہے کہ : اس وقت متون حدیث کا سب سے بڑا ذخیرہ (کنز العمال) ہے ، اور اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے ، تو اگر اس کی پی ڈی ایف مکتبہ جبریل میں شامل کر لی جائے ، تو شاید سرچ کرنا آسان ہو ، یا پھر پوری کتاب کے مواد کی معاجم الفاظ کے طریقے پر اردو فہرس تیار کی جائے ، ایک مادے کے ما تحت اس سے متعلق تمام اجزائے متون پیش کردی جائیں ، یا ذیلی عناوین قائم کرکے حوالے لکھدیئے جائیں ، یعنی ( مفتاح کنوز السنہ ) کے طرز پر* ۔

دیگر حضرات بھی اپنے عملی تجربات پیش فرمائیں ، اور اپنے مفید مشوروں سے مدد فرمائیں ، تو لائحہ عمل طے کیا جا سکتا ہے ۔ اور اردو سے تخریج کا کوئی علمی مضمون مرتب کرکے نیا طریقہ دریافت کیا جا سکتا ہے ۔

وکتبہ العاجز محمد طلحہ بلال احمد منیار

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟