دور حاضر میں علماء کی تنخواہ اتنی کم کیوں ؟

🐍گھنٹی نہ بجائیں 💐
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معزز علماۓ کرام
(١)موجودہ دور میں علماۓ کرام کی مزید ناقدری کیوں ؟
(٢)دور حاضر میں علماٶں کی تنخواہ اتنی کم کیوں ؟
(٣)کیوں آج کے دور میں متولیان مساجد ہماری تنخواہ پر غور وفکر نہیں کرتے ؟
پہلے سوال کے کئی وجوہات ہیں جو تفصیل طلب ہےمگر اجمالا کہاجاسکتاہے کہ علماء کے مقام کو انہوں نے سمجھاہی نہیں ٠
دوسرے اور تیسرے سوال کے جواب ہم خود ہیں وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کہ جب جب کسی بھی جگہ پر ضرورت امام کا اعلان نکلتا ہے فورا ہم علماء ایک بار فون کرکے اپنی حاضری دیدیتے ہیں جیسے کہ پنجگانہ نماز کی حاضری ہواور اپنے آپ کو اتنا گرادیتے ہیں پہلے والے مولوی سے کم تنخواہ پر کام کرنے کیلۓ کمربستہ ہوجاتے ہیں گویا کہ میں  بیگار آدمی ہوں روزی روٹی کیلۓ میں پریشان ہوں حالانکہ ہم کسی نہ کسی جگہ روزی روٹی کمارہے ہوتے ہیں  الحمد للہ
مولوی کی ذات ایسی ہے کہ چاہے وہ جتنا بھی پڑھاہو کہیں نہ کہیں سیٹ ہی رہتا ہے  الا ماشاء اللہ
اسکے باوجود ہندوستان میں جہاں کہیں امامت کیلۓ خالی جگہ کا اعلان ہوتاہے ہم لوگ گھنٹیاں بجانا شروع کردیتے ہیں کہ ہم آنے کیلۓ کوشاں ہیں بہت خواہشمند ہیں   نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دن بھر میں کئی کئی سو افراد اس خالی جگہ کیلۓ فون کرچکے ہوتے ہیں چاہے ان  کو جگہ کی ضرورت ہو یا نہ ہوکم از کم اس خالی جگہ کے منبرو محراب کے مارکیٹنگ بھاٶ کا پتہ لگانا فرض عین سمجھتے ہیں اور اپنی آواز قرات قرآن اور تقاریر متولیان مساجد کو بھیج کر یہ ثابت کردیتے ہیں کہ ہندوستان میں مولویوں سے زیادہ بے روزگار کوئی نہیں ہے پھر کیا متولیان مساجد کئی کئی ماہ انٹرویو کیلۓ مولویوں کو بلاتے رہتے ہیں اور باری باری حلالہ مولویوں کیطرح مولویوں کے بیانات کو چکھتے رہتے ہیں اور آخر میں معقول تنخواہ سے ہٹ کر معمولی تنخواہ دینے کیلۓ تیار ہوتے ہیں اور متولیان مساجد کے ذہن ودماغ پر یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ منبرو محراب کیلۓ مولویوں کی کمی نہیں ہے اور پھر معمولی معمولی تقصیر پر گرفت کرکے مساجد سے مولویوں کو اخراج کردیاجاتاہے ابھی ایک مولوی کا مسئلہ کلیر بھی نہیں ہوتاہے اس سے پہلے دوسرے صاحب فون پر دستک دینا شروع کردیتے ہیں اسی لئے آج کے دور میں اماموں کی مدت بہت قلیل ہوتی ہے اور انکی تنخواہیں  بھی چپراسیوں سے بدتر ہوتی ہے
معزز علماۓ کرام
اور دیگر وجوہات ہوتے ہیں اور ہوسکتے ہیں جس کا انکار نہیں کیاجاسکتاہے اور میری سوچ سے ہر ایک کا اتفاق بھی محال ہے مگر شوشل میڈیا کے اس دور میں میری نظر میں علماٶں کی تنخواہ کے معیار گرنے کے اسباب میں  سےسب سے  اہم سبب ہے جو میں نے ذکرکیاہے
اس لئے میں سبھوں علماٶں سے گذارش کرتاہوں کہ بلاضرورت کہیں بھی گھنٹی نہ بجائیں اور اپنے مقام ومرتبے کو بلند کریں
اللہ تعالی جمیع مسلمانوں کو صحیح سمجھ کو توفیق دے آمین
خورشید اقبال سلفی بھوبنیشور اڈیشہ

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟