علم دنیوی اور علم اخروی
علم دنیوی اور علم اخروی کہنا صحیح یا غلط
نشریہ ٣٥ 2019 1 28
حالیہ زمانے میں علم کے تعلق سے تین اصطلاح راٸج ہیں ۔
١ علم نافع اور علم ضار
٢ دنیوی علم اور اخروی علم یا عصری تعلیم اور دنیوی تعلیم
٣علم اور فن
پہلی قسم :
یہ رسول اکرمﷺ کی زبانِ نبوت کی عطا کردہ ہےاوریہی علم کی اصل بحث بھی ہے اور اسی پر صلاح وفلاح کا دارومدار بھی ۔ اس علم کے اصل عناصر ایمان بالغیب پریقینِ کامل ۔ عبادات پر استقامت اور خلوص نیت ہیں ۔
اس حقیقی نصاب کی کتا بیں قرآن وحدیث ہیں نبٸ کریم ﷺ کا ارشادِگرامی ہے ”ترکت فیکم أمرین لن تضلواما تمسکتم بھما کتا ب اللہ وسنة نبیہ۔
اسلامی فتوحات کی بدولت علاقوں کی ہونے والی وسعت اور غیر عربوں کےاسلام میں داخلے کی بنا پر نیۓ نیۓ علوم کی ایجادبرپا ہوٸی ۔اصولِ حدیث اصولِ فقہ تدوین فقہ وغیرہ اسی احتیاج کی رہین منت ہیں ۔ گردش ِایام کےابن الوقت لوگوں کے ہاتھوں نت نیۓ فرقے وجود پذیر ہوۓ ان کی اسلام بیزاری اور غلط تشریحات کی جواب دہی کے لیۓ جن علوم کی تصنیف ہوٸی وہ بھی علم کی اسی قسم میں دخیل قرارپاۓ ۔۔تاہم مذکورہ تمام علوم مقاصد سے اگر خالی ہوں تو وہ ”علمِ نافع “نہیں بلکہ ”علم ِضار “ کہلایٸنگے۔
دوسری قسم:
یہ محض بندوں کی ایجاد کردہ ہے۔ قرآن وحدیث کی تعبیر نہیں ہے ۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک زمانے میں مدارس عربیہ کے مدِّمقابل اسکول کالجز اور یونیور سٹیز کی ابتلا ٕعام ہوٸی جنکا مقصد اسلام بیزاری اور الحاد پرستی کی ہمواری تھی تو اٗس وقت مدارس اسلامیہ میں پڑھاۓ جانے والے ”نصاب“ دینی اور” اخروی علم“ سے متعارف ہوۓ اسلیۓ کہ مدارس کے قیام کا مقصد” اقرأبإسم ربک اللذی خلق “ ”الرحمن علّم القرآن “کی بنیاد ”بعثت معلماً“ کے پیغام اورنبی آخرﷺ کی سرمدی آفاقی وراثت کی دعوت وترسیل کی کافرماٸی ہے۔جبکہ کالجس وغیرہ کے اغراض مدارس کے مخالف عناصر کو بروۓ کار لانا ہے ۔تشکییک وتردید پرمشتمل نصابی کاز نے کٹر مذھب پرست عیساٸیوں کو مذھب کے بندھن سے گلو خلاصی کرادی اور وہ اپنے ہی مذہب سے بیرازہوگیۓ البتہ چند رسوم ورواج کے مجموعہ پر یقین رکھ کر اس پر عمل پیرا ہیں، جن کا اصل ِتورات سے کوٸی واسطہ نہیں ہے۔
اسلام کےپیرو کاروں نے اس فتنہ سے بر سر پیکاری اوراسلام کی امتیازی شان برقراررکھنے کےلیۓ اس تقسیم کے ذریعہ ”حد فاصل “قاٸم کردی۔ جس نے بہت حد تک اسلام کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا گیا۔
واضح رہے۔اغراض ومقاصد کےپاس ولحاظ کے بغیربہت سے طالبان ِعلوم نبوت دنیوی منفعت بحث ومجادلہ اور فاسد نیت کی واسطے حصول علم میں کوشاں نظر آتے ہیں اور بہت سےایسے بھی ہیں جو علم العقاٸداور علم الکلام کی موشگافیوں میں پڑکر معتزلہ قدریہ جھمیہ اور خوارج کی طرح اسلام کواپنے انداز سے سوچنے لگتے ہیں نتیجتہ ًپھر صفات باری میں شکوک وشبھا ت کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔ظاہرہےکہ ایسی تعلیم جو خدا اور اسکے احکام سے دور کردے وہ یقیناً دینی علم نہیں ہوسکتا۔ ابو الفضل فیضی عبد اللہ چکڑالوی پرویز قادیانی اور دیگر منکرین قرآن وحدیث وغیرہ اسی زمرہ میں آتے ہیں ۔ایک عالمِ ربانی کا مقولہ ہے کہ” جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں ان سب کے محرکین وبانیان علما ٕ ہیں ان کو علم کی بدغرضی نے اس روش پر ابھارا اور گمراہی کی راہ پر لاکھڑاکیا“۔ اس لیۓ ان لوگوں کو علماۓ دین کے لقب سے معنون نہیں کیا جاتا ہے۔تاہم راٸج الوقت کے تعلق سے وہ نصاب” دینی نصاب“ کہلایا جاتاہے۔
مزید براں یہ کہ عصری تعلیم کے نصاب اور نظام میں نہ اسلام پر مشتمل نصاب ہے اور نہ ہی اسلامی طرز ِزندگی
سلام و کلام غیر اسلامی، ادابِ خورد ونوش غیر دینی، مخلوط تعلیم کے باعث بے حیاٸی کا فروغ ، حیا سوز ماحول ، عشق ومعاشقہ پر مشتمل فنکشن اور ڈرامے، لا شعوری طور پر ایک مذھب کی ذھنیت سازی ,کفر یہ پراتھناٸیں شرکیہ سوریہ نمسکار ، نیم برہنہ ڈریس اور یونیفارم اور ارتداد پر مبنی مقالے اور لیکچرس وغیرہ انھیں وجوہا ت کے تٸیں عصری اور دینی تعلیم کا فرق ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔
تیسری قسم :
یہ قسم دعوت وتبلیغ کی تیسری صفت” علم وذکر“کے مذاکرہ میں استعمال ہوتی ہے ۔ ان کو سکھایا اور یقین پیدا کرا یاجاتا ہے کہ ” علم وہ ہےجو قبر اور عند اللہ پوچھے جانے سوالات میں معین و مددگار ہوں“ اوراس کےعلاوہ جو علوم ہیں وہ در اصل” فن“ ہیں اورفن و مہارت کا تعلق دنیوی امور سے ہے ۔چوں کہ اس کی بنیاد استحضارآخرت پرہے ۔اس لیۓ اس کی ”جامعیت ومانعیت “لفظیت ومعنویت“ سے بحث اس وقت غیر مناسب امر ہے ۔
الحاصل : مذکورہ تینوں اصطلاحات میں پہلی قسم حقیقت پر مشتمل ہے ۔اس قسم کی بابت حدیث شریف کا بیان ہے:
”العلم علمان علم فی القلب فذاک العلم النافع وعلم علی اللسان فذاک حجة اللہ علی ابن آدم “
علم نافع وہ ہے جو یقین کا محرک ہو اور ”علم ضار “وہ ہے جو علم زبان پر جاری ، یقین سے ماورا ٕ اور قیامت میں رسواٸی کا باعث ہو۔ اسلیۓ یہ کتب نصاب اور مقاصد پر محیط ہے ۔
دوسری قسم عرفی ہے جو حالات کے تناظر میں وجود پذیر ہوٸی ہے ۔ تاکہ امت بے راہروی سے محفوظ رہے ۔ یہ کتابی نصاب پر مشتمل احوال وکیفیات کے مد ِنظر جزوی تبدیلی کا متقاضی ہے ۔
تیسری قسم کا تعلق چوں کہ عوام الناس سے ہے اور اس کا مفہوم مذکورہ حدیث سے مستفاد ہے ۔اس لیۓ اس کا مقصد عوام میں تر غیب وتشکیل ہے ۔ ۔
اس لیۓ ان کے استعمال میں کوٸی حرج نہیں ہے کیو ن کہ ہر ایک کا محور الگ الگ ہے
✏ عبید الرحمن عبید اللہ قاسمی 7026796531
ufbqasmi5@gmail.com
نشریہ ٣٥ 2019 1 28
حالیہ زمانے میں علم کے تعلق سے تین اصطلاح راٸج ہیں ۔
١ علم نافع اور علم ضار
٢ دنیوی علم اور اخروی علم یا عصری تعلیم اور دنیوی تعلیم
٣علم اور فن
پہلی قسم :
یہ رسول اکرمﷺ کی زبانِ نبوت کی عطا کردہ ہےاوریہی علم کی اصل بحث بھی ہے اور اسی پر صلاح وفلاح کا دارومدار بھی ۔ اس علم کے اصل عناصر ایمان بالغیب پریقینِ کامل ۔ عبادات پر استقامت اور خلوص نیت ہیں ۔
اس حقیقی نصاب کی کتا بیں قرآن وحدیث ہیں نبٸ کریم ﷺ کا ارشادِگرامی ہے ”ترکت فیکم أمرین لن تضلواما تمسکتم بھما کتا ب اللہ وسنة نبیہ۔
اسلامی فتوحات کی بدولت علاقوں کی ہونے والی وسعت اور غیر عربوں کےاسلام میں داخلے کی بنا پر نیۓ نیۓ علوم کی ایجادبرپا ہوٸی ۔اصولِ حدیث اصولِ فقہ تدوین فقہ وغیرہ اسی احتیاج کی رہین منت ہیں ۔ گردش ِایام کےابن الوقت لوگوں کے ہاتھوں نت نیۓ فرقے وجود پذیر ہوۓ ان کی اسلام بیزاری اور غلط تشریحات کی جواب دہی کے لیۓ جن علوم کی تصنیف ہوٸی وہ بھی علم کی اسی قسم میں دخیل قرارپاۓ ۔۔تاہم مذکورہ تمام علوم مقاصد سے اگر خالی ہوں تو وہ ”علمِ نافع “نہیں بلکہ ”علم ِضار “ کہلایٸنگے۔
دوسری قسم:
یہ محض بندوں کی ایجاد کردہ ہے۔ قرآن وحدیث کی تعبیر نہیں ہے ۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ایک زمانے میں مدارس عربیہ کے مدِّمقابل اسکول کالجز اور یونیور سٹیز کی ابتلا ٕعام ہوٸی جنکا مقصد اسلام بیزاری اور الحاد پرستی کی ہمواری تھی تو اٗس وقت مدارس اسلامیہ میں پڑھاۓ جانے والے ”نصاب“ دینی اور” اخروی علم“ سے متعارف ہوۓ اسلیۓ کہ مدارس کے قیام کا مقصد” اقرأبإسم ربک اللذی خلق “ ”الرحمن علّم القرآن “کی بنیاد ”بعثت معلماً“ کے پیغام اورنبی آخرﷺ کی سرمدی آفاقی وراثت کی دعوت وترسیل کی کافرماٸی ہے۔جبکہ کالجس وغیرہ کے اغراض مدارس کے مخالف عناصر کو بروۓ کار لانا ہے ۔تشکییک وتردید پرمشتمل نصابی کاز نے کٹر مذھب پرست عیساٸیوں کو مذھب کے بندھن سے گلو خلاصی کرادی اور وہ اپنے ہی مذہب سے بیرازہوگیۓ البتہ چند رسوم ورواج کے مجموعہ پر یقین رکھ کر اس پر عمل پیرا ہیں، جن کا اصل ِتورات سے کوٸی واسطہ نہیں ہے۔
اسلام کےپیرو کاروں نے اس فتنہ سے بر سر پیکاری اوراسلام کی امتیازی شان برقراررکھنے کےلیۓ اس تقسیم کے ذریعہ ”حد فاصل “قاٸم کردی۔ جس نے بہت حد تک اسلام کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا گیا۔
واضح رہے۔اغراض ومقاصد کےپاس ولحاظ کے بغیربہت سے طالبان ِعلوم نبوت دنیوی منفعت بحث ومجادلہ اور فاسد نیت کی واسطے حصول علم میں کوشاں نظر آتے ہیں اور بہت سےایسے بھی ہیں جو علم العقاٸداور علم الکلام کی موشگافیوں میں پڑکر معتزلہ قدریہ جھمیہ اور خوارج کی طرح اسلام کواپنے انداز سے سوچنے لگتے ہیں نتیجتہ ًپھر صفات باری میں شکوک وشبھا ت کی راہیں کھل جاتی ہیں ۔ظاہرہےکہ ایسی تعلیم جو خدا اور اسکے احکام سے دور کردے وہ یقیناً دینی علم نہیں ہوسکتا۔ ابو الفضل فیضی عبد اللہ چکڑالوی پرویز قادیانی اور دیگر منکرین قرآن وحدیث وغیرہ اسی زمرہ میں آتے ہیں ۔ایک عالمِ ربانی کا مقولہ ہے کہ” جتنے بھی گمراہ فرقے ہیں ان سب کے محرکین وبانیان علما ٕ ہیں ان کو علم کی بدغرضی نے اس روش پر ابھارا اور گمراہی کی راہ پر لاکھڑاکیا“۔ اس لیۓ ان لوگوں کو علماۓ دین کے لقب سے معنون نہیں کیا جاتا ہے۔تاہم راٸج الوقت کے تعلق سے وہ نصاب” دینی نصاب“ کہلایا جاتاہے۔
مزید براں یہ کہ عصری تعلیم کے نصاب اور نظام میں نہ اسلام پر مشتمل نصاب ہے اور نہ ہی اسلامی طرز ِزندگی
سلام و کلام غیر اسلامی، ادابِ خورد ونوش غیر دینی، مخلوط تعلیم کے باعث بے حیاٸی کا فروغ ، حیا سوز ماحول ، عشق ومعاشقہ پر مشتمل فنکشن اور ڈرامے، لا شعوری طور پر ایک مذھب کی ذھنیت سازی ,کفر یہ پراتھناٸیں شرکیہ سوریہ نمسکار ، نیم برہنہ ڈریس اور یونیفارم اور ارتداد پر مبنی مقالے اور لیکچرس وغیرہ انھیں وجوہا ت کے تٸیں عصری اور دینی تعلیم کا فرق ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔
تیسری قسم :
یہ قسم دعوت وتبلیغ کی تیسری صفت” علم وذکر“کے مذاکرہ میں استعمال ہوتی ہے ۔ ان کو سکھایا اور یقین پیدا کرا یاجاتا ہے کہ ” علم وہ ہےجو قبر اور عند اللہ پوچھے جانے سوالات میں معین و مددگار ہوں“ اوراس کےعلاوہ جو علوم ہیں وہ در اصل” فن“ ہیں اورفن و مہارت کا تعلق دنیوی امور سے ہے ۔چوں کہ اس کی بنیاد استحضارآخرت پرہے ۔اس لیۓ اس کی ”جامعیت ومانعیت “لفظیت ومعنویت“ سے بحث اس وقت غیر مناسب امر ہے ۔
الحاصل : مذکورہ تینوں اصطلاحات میں پہلی قسم حقیقت پر مشتمل ہے ۔اس قسم کی بابت حدیث شریف کا بیان ہے:
”العلم علمان علم فی القلب فذاک العلم النافع وعلم علی اللسان فذاک حجة اللہ علی ابن آدم “
علم نافع وہ ہے جو یقین کا محرک ہو اور ”علم ضار “وہ ہے جو علم زبان پر جاری ، یقین سے ماورا ٕ اور قیامت میں رسواٸی کا باعث ہو۔ اسلیۓ یہ کتب نصاب اور مقاصد پر محیط ہے ۔
دوسری قسم عرفی ہے جو حالات کے تناظر میں وجود پذیر ہوٸی ہے ۔ تاکہ امت بے راہروی سے محفوظ رہے ۔ یہ کتابی نصاب پر مشتمل احوال وکیفیات کے مد ِنظر جزوی تبدیلی کا متقاضی ہے ۔
تیسری قسم کا تعلق چوں کہ عوام الناس سے ہے اور اس کا مفہوم مذکورہ حدیث سے مستفاد ہے ۔اس لیۓ اس کا مقصد عوام میں تر غیب وتشکیل ہے ۔ ۔
اس لیۓ ان کے استعمال میں کوٸی حرج نہیں ہے کیو ن کہ ہر ایک کا محور الگ الگ ہے
✏ عبید الرحمن عبید اللہ قاسمی 7026796531
ufbqasmi5@gmail.com
Comments
Post a Comment