جنگ آزادی 1857
جنگ آذادی1857ء میں غیرمقلدین کا کردار
جب مسلمان انگریز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، اپنی جان مال اور تن من دھن کی قربانیاں دے رہے تھے، ان حالات میں میاں نذیر حسین صاحب دہلوی سے یہ تو نہ ہوسکا کہ کسی بیمار داری کرتے اس کے بجائے میاں صاحب جنگ آزادی کے دوران یہ گھناؤنا کردار ادا کرتے ہیں کہ انگریز کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لئے اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر رات کی تاریکی میں سناٹے میں ایک زخمی انگریز خاتون کو اٹھوا کر اپنے گھر میں چھپائے رکھتے ہیں، جب وہ انگریز خاتون تندست اور صحت یاب ہو جاتی ہے تو اس کو انگریزی کیمپ میں پہنچا کر مبلغ اہک ہزار تین صد روپیہ نقد اور وفاداری کا سرٹفکیٹ حاصل کرتے ہیں۔
اس واقعہ کی تفصیل موصوف کے سوانح نگار غیرمقلد عالم مولوی فضل حسین بہاری کی زبانی سنیئے۔ موصوف لکھتے ہیں:۔
عین حالت غدر میں (جہاد حریت کو غدر سے تعبیر کیا جا رہا ہے فوااسفا !) جبکہ ایک ایک بچہ انگریزوں کا دشمن ہو رہا تھا (سوائے غیرمقلدوں کے) سزلیسنس ایک زخمی میم کو میاں صاحب رات کے وقت ا ٹھوا کر اپنے گھر لے گئے، پناہ دی، علاج کیا، کھانا دیتے رہے، اس وقت اگر ظالم باغیوں کو ذرا بھی خبر ہو جاتی تو آپ کے قتل اور خانماں بربادی میں مطلق دیر نہ لگتی۔ (الحیات بعد الممات ص۱۲۷)
مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی اس بارہ میں رقمطراز ہیں:۔
“غدر ۱۸۵۷ء میں کسی اہل حدیث نے گونمنٹ کی مخالفت نہیں کی ( کیوں کرتے اس کے وفادار اور جان نثار جو تھے) بلکہ پیشوا یان اہل حدیث نے عین اس طوفان بے تمیزی میں ایک زخمی یورپین لیڈی کی جان بچائی اور عرصہ کئی مہینے تک اس کا علاج معالجہ کر کے تندرست ہونے کے بعد سرکاری کیمپ میں پہنچا دی”۔(اشاعت السنۃ صفحہ۲۶ شمارہ ۹ جلد ۸)
مولوی فضل حسین بہاری لکھتے ہیں:۔
“ڈاکٹر حافظ مولوی نذیر احمد صاحب (جو کہ میاں صاحب کے قریبی رشتہ دور ہیں) فرماتے تھے کہ زمانہ غدر میں مسزلیسنس زخمی میم کو جس وقت میاں (نذیر حسین صاحب) نے نیم جان دیکھا تو (زار وقطار) روئے اور اہنے مکان میں اٹھالائے، اپنی اہلیہ اور عورتوں کو ان کی خدمت کیلئے نہایت تا کید کی ۔ ۔ ۔ اس وقت اگر باغیوں (مسلمانوں) کو ذرا بھی خبر لگ جاتی تو آپ کی بلکہ سارے خاندان کی جان بھی جاتی اور خانماں بربادی میں بھی کچھ دیر نہ لگتی۔۔۔ امن قائم ہونے کے بعد میم کو انگریزی کیمپ میں پہنچا یا، جس کے نتیجہ میں آپ کو اور آپ کے متو سلین کو گونمنٹ انگریزی کی طرف سے امن و امان کی چھٹی ملی چنانچہ انگریزوں کے تسلط کے بعد جب سارا شہر غارت کیا جانے لگا تو صرف آپ کا محلہّ آپ کی (انگریزی خدمات) کی بدولت محفوظ رہا”۔
(الحیات بعد الممات ص۲۷۶-۲۷۵ سوانح میاں نذیر حسین دہلوی)
ناظرین کرام !
ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ ایک زخمی نیم جان میم کو دیکھ کر تو میاں صاحب کے دل میں ہمدردی، خیر خواہی اور غم خواری کا دریا موجزن ہوتا ہے، میاں صاحب کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگتا ہے اور میاں صاحب اس زخمی میم کو اٹھوا کر گھر لے جاتے ہیں، اس کا علاج معالجہ کرتے ہیں اور اس پر خصوصی نوازشات کی بارش برساتے ہیں، اب تصویر لا دوسرا رخ ملاحظہ فرمایئے۔
میاں صاحب کے سامنے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاذ توڑے جاتے ہیں، وحشت و بربریت کے رکارڈ قائم کئے جاتے ہیں، عورتوں کی عصمتیں لوٹی جاتی ہیں، ان کے پستان کاٹے جا رہے ہیں، بوڑھوں اور بچوں کو ٹھوکروں سے پامال کیا جاتا ہے مسلمانوں کی لاشیں درختوں کی شخوں سے لٹکائی جا رہی ہیں اور میاں صاحب کئی دن تک نیم جان عورتوں،زخمی مردوں اور کٹے پھٹے اعضاء والے بچوں کو دیکھتے ہیں لیکن ان کی آنکھوں سے ایک آنسو تک نہیں ٹپکتا، مسلمان عورتوں کے گھاؤ دیکھ کت ان کا دل ذرہ بھر پگھلتا اور بوڑوں کو نا گفتہ بہ حالت میں دیکھ کر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ایک انگریز خاتون کے لئے تو میاں صاحب کے دل میں ہمدردی کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں اور خیر خواہی اور غم خواری کے سوتے بہنے لگتے ہیں مسلمانوں کے لئے چشمے خشک اور یہ سوتے بند ہو جاتے ہیں اور آنکھوں سے ایک آنسو بہانے کی تو فیق نہیں ہوتی، آخر کیوں؟ کس لئے؟ کس بناء پر؟
بسخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجییت
میاں صاحب کو انگریز سرکار نے اپنی وفاداری کے سلسلہ میں نمایاں خدمات انجام دینے اور مجاہدین ۱۸۵۷ء سے غداری کے صلہ میں اپنی وفاداری اور خوشنودی کے سرٹفیکیٹ عطا کئے اور تیرہ صد روپے نقد انعام دیا اور شمس العلماء کے خطاب سے سرفراز کیا، اب احقر ذیل میں خوشنودی کے سرٹفیکیٹ کے تراجم پیش کرتا ہے۔ (ترجمہ سرٹیفکیٹ وفاداری و خوشنودی از جناب جی ڈبلیو جی وائر فیلڈ صاحب بہادر قائم مقام کمشنر سابق دہلی، سومولوی نذیر حسین اور اس کے پسر مولوی شریف حسین صاحب نے مع دیگر مرحوم خاندان کے مسٹر لیسنس کی میم کی غدر میں جان بچائی تھی، اس وقت میں یہ اس کو اپنے گھر لے گئے تھے جس وقت وہ زخمی پڑی تھیں، اپنے مکان میں ساڈھے تین مہینے تک رکھا آخر سرکاری کیمپ میں پہنچایا۔ ۔ ۔ ان کو دو سو روپیہ ایک مرتبہ اور چار صد روپیہ ایک مرتبہ انعام ملا اور سات صد روپیہ بوجہ گرنے مکانات کے ملا پس یہ خاندان قابل لحاظ و مہربانی کے ہے۔)
(دستخط ڈبلیو جی وائر فیلڈ قائم مقام کمشنر رسالہ اشاعت السنہ ص۲۹۳ شمارہ ۱۰ جلد ۸ الحیات بعد الممات ص۱۳۳-۱۳۲)
(ترجمہ) سرٹفکیٹ وفاداری ازجے ڈی ٹریملٹ بنگال سروس کمشنر دہلی کا سپر نٹنڈنٹ۔
“مولوی نذیر حسین دہلوی کے ایک بڑے مقتدر عالم ہیں جنہوں نے مشکل اور نازک وقتوں میں اپنی وفاداری اور نمک حلالی گونمنٹ برطانیہ پر ثابت کی ہے۔ اب وہ اپنے فرض زیارت کعبہ کے ادا کتنے کو جاتے ہیں۔
امید کرتا ہوں کہ جس کسی افسر برٹش گورنمنٹ کی وہ مدد چاہیں گے وہ ان کو مددے گا کیونکہ وہ کامل طور سے اس مدد کے مستحق ہیں۔ دسخط جی ڈی ٹریملٹ بنگال سروس کمشنر دہلی ۱۰ اگست ۱۸۵۷ءاشاعت السنہ صفحہ ۲۹۴ شمارہ۱۰، ج۸، الحیات بعد الممات صفحہ ۱۴۰ مطبوعہ کراچی۔ا
Comments
Post a Comment