افسوس ہائے افسوس
*دارالعلوم کنتھاریہ گجرات کا افسوسناک فیصلہ*
آج صبح سویرے ایک گروپ میں یہ خبر دیکھنے کو ملی کہ دارالعلوم کنتھاریہ نے اپنے تمام ملازمین کو معزول کر دیا ہے. خیال رہے کہ دارالعلوم کنتھاریہ میں اساتذہ و ملازمین کی تعداد 200 ہے ان تمام کو یعنی شیخ الحدیث سے لیکر نیچے تک کے جملہ ملازمین کو یہ فیصلہ سنا دیا گیا ہے کہ جب مدرسہ کھلے گا اس وقت دیکھا جائے گا کہ کن کی ضرورت ہے اور کن کی نہیں. جن کی ضرورت سمجھی جائے گی انھیں بلا لیا جائے گا
ابھی چند روز قبل ہی دارالعلوم حیدرآباد کی خبر آئی تھی کہ مدرسہ کھلنے تک کسی کو بھی تنخواہ نہیں ملے گی اور بعد میں بھی گذشتہ مہینوں کی تنخواہیں نہیں دی جائیں گی....... جب یہ خبر آئی تھی تو بیشتر افراد نے اظہار افسوس کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سراسر ظلم ہے....... لیکن دارالعلوم کنتھاریہ نے تو دارالعلوم حیدرآباد کو بھی مات دے دی...... اس لئے کہ دارالعلوم کنتھاریہ نے تو سبھوں کی ملازمت ہی ختم کردی ہے. دارالعلوم حیدرآباد نے اگر ستم ڈھایا ہے تو صرف تنخواہوں پر ڈھایا ہے مگر دارالعلوم کنتھاریہ نے تو اپنے جملہ ملازمین کی ملازمت بھی جلا کر خاک کردی ہے ......... افسوس صد افسوس.......
یہ دونوں ہی ادارے ملک کے ممتاز ادارے ہیں. اپنے اپنے علاقوں میں ان اداروں کی طوطی بولتی ہے اس کے باوجود ایسا ظالمانہ فیصلہ..... یقیناً سمجھ سے بالاتر ہے..... کیا وہ نہیں جانتے کہ مدارس اسلامیہ کا وجود سنگ و خشت پر منحصر نہیں اور فلک بوس عمارتوں کا نام مدرسہ نہیں بلکہ مدرسہ نام ہے طلبہ و اساتذہ کا. مدرسہ کا وجود منحصر ہے استاد و شاگرد پر. اور مدرسہ کی روح مضمر ہے پڑھنے اور پڑھانے والوں میں........ گویا پڑھنے والے ایک بازو ہیں تو پڑھانے والے دوسرے بازو ہیں..... اور موجودہ لاک ڈاؤن کی جو حقیقت ہے وہ کسی سے مخفی نہیں. ہر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ساری منصوبہ بندی صرف اور صرف مدارس اسلامیہ پہ قدغن لگانے کے لئے ہے. گوکہ مسلمانوں کے دوسرے شعبے بھی نشانے پہ ہیں لیکن وہ سب ضمناً اور بالواسطہ ہیں جبکہ مدارس اسلامیہ اولین نشانہ ہیں کیونکہ ان کے متاثر ہوجانے سے مساجد بھی متاثر ہونگی اور مسلمانوں کا اسلام بھی........ الغرض ہمارے دشمنوں کا خاص نشانہ یہی مدارس اسلامیہ ہیں...... اس کے باوجود پتہ نہیں ہمارے ذمہ داروں کو کیا ہوگیا ہے؟ کہ اپنے ظالمانہ فیصلے کے ذریعے براہ راست دشمنوں کو کامیاب بنارہے ہیں اور ایک بازو کاٹ کر دوسرے بازو کو بھی متاثر کررہے ہیں.......
اگر مالیات کی عدم فراہمی آپ کو ستارہی ہے تو اس کا حل وہ نہیں ہے جو دارالعلوم کنتھاریہ یا دارالعلوم حیدرآباد نے نکالا ہے کیونکہ اساتذہ کی ملازمت از روئے شرع عقد اجارہ ہے اور اجارہ میں تن تنہا مستاجر کو یہ حق نہیں کہ ان کی مزدوری منسوخ کردے بلکہ اجیر سے بھی مشورہ کرنا ضروری ہے اسی طرح جب اجیر اپنے آپ کو مستاجر کے حوالے کرچکا ہو تو اس وقت مستاجر کو یہ حق نہیں ہے کہ بلا کسی جرم کے محض اپنی مجبوری کی بناء پر اجیر کو چلتا کردے.
ہم مانتے ہیں کہ عدم فراہمی کی وجہ سے یقیناً مدارس اسلامیہ پہ سَنکَٹ کےبادل ہیں لیکن کیا اساتذہ کرام اسے نہیں سمجھتے؟ اور کیا انھیں اس کا احساس نہیں ہے؟ بیشک ہے اور خوب ہے بلکہ اساتذہ بھی ہر طرح سے معاونت پہ آمادہ نظر آتے ہیں... اس لئے موجودہ صورتحال کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اپنے ملازمین سے گفتگو کے بعد سبھوں کو اس وقت تک آدھی تنخواہ دی جائے جب تک کہ مدرسہ نہ کھل جائے..... یا یہ کہ ابھی سب کی تنخواہیں موقوف کردی جائیں اور یہ کہا جائے کہ مدرسہ کھلنے کے بعد تھوڑا تھوڑا کر کے پوری ادائیگی کردی جائے گی. اس صورت میں ملازمیں کے لیے قدرے دشواری ضرور ہے مگر مجبوری میں یہ بھی ایک حل ہوسکتا ہے............ لیکن یہ کوئی حل نہیں کہ سبھوں کو ملازمت ہی سے برطرف کر دیا جائے. یا سبھوں کی تنخواہیں معطل کردی جائیں...... ایسا کرنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے جو خود ذمہ داروں کے لئے بھی وبال دارین ہے
اللھم احفظنا منہ
فقط
رضوان احمد قاسمی منوروا شریف سمستی پور بہار
27 جون 2020ء
Comments
Post a Comment