چل ‏بیٹی

*چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔*

بابا بولے چل بیٹی۔۔
اپنے گاؤں جائیں گے۔۔
چٹنی روٹی ملےگی ۔۔۔۔
اپنوں کے ساتھ کھائیں گے۔۔۔

یہاں کھانا بھی ملنا مشکل ہے۔۔
زندہ رہنا مشکل ہے۔۔۔
اگر کچھ روٹی لانا چاہتا ہوں۔۔
پولیس کے ڈنڈے کیسے کھائیں گے۔۔۔۔
چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔۔

بس کا کرایا نہیں میرے پاس۔۔
ریل کا کرایا نہیں میرے پاس۔۔
کچھ آٹا ہے ۔۔۔اس کی روٹی بنائیں گے۔۔۔
پیدل چلتے اپنے گاؤں جائیں گے۔۔

چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔

ہم نے سب سامان سمیٹا۔۔۔
امی نے چھوٹی کو گود میں گھسیٹا۔۔
ابا نے زیادہ بوجھ خود لپیٹا۔۔۔
اب ریل کی پٹریوں پر چلتے جائیں گے۔۔۔

چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔

دن بھر دھوپ میں جلتے رہے۔۔۔
بھوک پیاس میں چلتے رہے۔۔۔۔
معصوم پیروں سے پتھر کنکر 
مسلتے رہے۔۔۔
رات ہوئی سب نے کہا اب آرام فرمائیں گے۔۔۔۔

چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔۔

سو گئے پٹریوں پر تھک کر سارے۔۔
پتا نہیں تھا موت کھڑی پیر پسارے۔۔۔
چھوٹی نے رات میں ابا سے پوچھا۔۔۔۔
ہم اپنے گھر کب جائیں گے۔۔۔

چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔۔

صبح آنکھ کھلی تو کیا دیکھا۔۔۔
امی ابا کو ٹکڑوں میں بٹا دیکھا۔۔
چھوٹی کا دھڑ یہاں تو سر وہاں دیکھا۔۔۔
اب سوچتی ہوں وہ الفاظ کہاں سے آئیں گے۔۔

چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔۔۔

ابا کے کٹے ہاتھ میں سو کا نوٹ تھا۔۔۔
شاید اسی ہاتھ نے کبھی دیا ووٹ تھا۔۔
اک آس تھی۔۔اچھے دن آئیں گے۔۔۔
اب وہ سو کا نوٹ۔۔پی۔ایم فنڈ والے لے جائیں گے۔۔۔
چل بیٹی اپنے گاؤں جائیں گے۔۔۔۔
ساحل

منقوووووول
😢😢😢😢😢

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟