جمعہ مبارک کہنا کیسا ہے
*سوال :-*کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ جمعہ مبارک کہنا کیسا ہے جیسا کہ آج کل واٹس ایپ فیس بک پر گردش کر رہا ہے...؟
احقر محمد شوقین کاشفی
جواب نمبر 825
باسمہ سبحانہ و تعالٰی :-
*الجواب حامداََ و مصلیاََ و مسلما :-*
جمعہ مبارک باد دینا چونکہ صحابہ کرام و سلف صالحین سے منقول اور ثابت نہیں ہے اسلئے فقہاء کرام و اکابرین نے اس سے منع کیا ہے مزید اس بارے میں دار العلوم دیوبند کا فتوی ملاحظہ فرمائیں - 👇🏻
United Arab Emiratesسوال # 33213
ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہم جمعہ کے دن مبارک بادی دے سکتے ہیں، مثلاً ’’جمعہ مبارک‘‘ اور مصافحہ کرسکتے ہیں جیسے عید کے ایام میں کرتے ہیں، کہیں یہ بدعت میں شامل تو نہیں؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔
Published on: Jul 17, 2011 جواب # 33213
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(د): 1309=830-8/1432
عیدین وجمعہ کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا بدعت ومکروہ ہے، اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے،
نقل في تبیین المحارم عن الملتقط أنہ تکرہ المصافحۃ بعد أداء الصلاۃ بکل حال؛ لأن الصحابۃ رضي اللہ عنہم ما صافحوا بعد أداء الصلاۃ۔۔۔ ثم نقل عن ابن جریر عن الشافعیۃ أنہا بدعۃ مکروہۃ لا أصل لہا في الشرع (رد المحتار: ۹؍۵۴۷، ط: زکریا دیوبند)
عیدین کی مبارک باد دینا صحابۂ کرام سے منقول وثابت ہے، اس لیے اس کی مبارک باد دے سکتے ہیں لیکن جمعہ میں منقول نہیں۔
عن جبیر بن نفیر قال: کان أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سولم إذا انفقوا یوم العید یقول لبعض: تقبل اللہ منا ومنکم۔ (الحاوي للفتاویٰ: ۱؍۱۱۶: بیروت)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
Comments
Post a Comment