وسیلہ کیا ہے
💥💥💥اَلتَّوَسُلُ مَاھُوَ؟💥💥💥
📌وسیلہ کیا ہے؟
کچھ لوگ مصائب و مشکلات میں گِھر کر انبیاء اور اولیا کو پکارتے ہیں......
انکا کہنا یہ ہے کہ ہم مانگتے ﷲ سے ہیں پکار ﷲ کی لگاتے ہیں بس ہم تو انکے وسیلے سے مانگتے ہیں‛ انکے صدقے اور واسطہ ﷲ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
🔹هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّهِ
اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں
یونس۔18ۚ
یہ بزرگ ہیں‛ﷲ کے پیارے ہیں ﷲ انکی بات کو رد نہیں کرتا۔ ہم گنہگار ہیں ﷲ ہماری سنتا نہیں ہے اور انکی موڑتا نہیں ہے۔
اور اپنے اس عمل باطل پر دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر چھت پر پڑھنا ہو تو سیڑھی کی ضرورت پڑتی ہے ‛ بادشاہ سے ملنا ہو تو چپڑاسی کی ضرورت پڑتی ہے۔
قرآن سے دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ دیکھو جی ﷲ فرماتا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَة
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور وسیلہ تلاش کرو۔
المائدہ۔35
مصیبت تو یہ آن پڑی ہے کہ پڑھے لکھے حضرات نے ان پڑھ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اور انھیں مغالطہ میں ڈالنے کے لیے عربی کے لفظ "وسیلہ" کو اردو کے لفظ وسیلہ کو ہم معنی قرار دے دیا۔
وسیلے کا معنی کیا ہے؟
اردو کے لفظ وسیلہ کا معنی ہے ذریعہ‛ واسطہ
عربی کے وسیلے کا معنی ہے قرب‛ نذدیکی
لغت کی کتابیں اٹھا لیجیۓ اس میں یہی معنی لکھا ہے۔
الوسیلہ= التقرب
وسیلے کا معنی ہے نذدیک ہونا‛قرب حاصل کرنا
یہی معنی کیا لغت کے (امام جوہری) نے اپنی کتاب "صحاح" میں......
یہی معنی لکھا لغت کی کتاب "قاموس" (فیروز آبادی) میں......
یہی معنی لکھا لغت کی کتاب "لسان العرب" (منظور افریقی) میں......
یہی معنی لکھا لغت کی کتاب "مفردات"(امام راغب) میں.......
تمام لغت کی کتابوں میں یہی معنی لکھا کہ
🔹الوسیلہ= التقرب
شریعت میں وسیلہ کہتے ہیں۔۔کہ ﷲ کی اطاعت ‛ نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کی اتباع اور اعمال صالحہ کے ذریعہ ﷲ کا قرب حاصل کرنا۔
❗وسیلے کی چار اقسام ہیں آئیے ان کا جائزہ لیں کہ کون سی شرعاً جائز ہیں ۔
🔸١-توسل بلاسماء الحسنہ
(ﷲ کے ناموں کا واسیلہ دینا)
🔸٢-توسل بالاعمال الصالحہ
(اپنے نیک اعمال کا واسیلہ دینا)
🔸٣-توسل باالاحیاء
(یعنی زندہ بزرگوں کو کہہ کہ اپنے حق میں دعا کروانا)
🔸٤- توسل بالاموات
(یعنی فوت شدہ بزرگوں کو اپنی دعا میں وسیلہ بنانا مثلاََ یہ کہنا کے یاﷲ میری دعا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے وسیلے سے قبول کر لے)
1⃣وسیلے کی پہلی قسم (توسل بالاسماء) کے مطلق ﷲ رب العزت فرماتے ہیں
🔸وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ
اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں پس انہی ناموں سے اُسے پکارو۔
العراف۔180
یعنی یہ کہنا کہ یاﷲ تم الرحمن ہے تجھے رحمان ہونے کا واسطہ میری یہ دعا قبول کر لے۔
یاﷲ تو الغفور تجھے غفور ہونے کا واسطہ میری فلاں غلطی کو معاف فرما دے۔
اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ ابوبکرؓ نے نبی صلیﷲ علیہ وسلم سے دعا کا پوچھا تو آپ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا
🔸اللهم إنی ظلمت نفسی ظلما کثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفرلی مغفرة من عندک و ارحمني إنک أنت الغفور الرحيم
صحيح بخاری:834
’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
اس دعا میں اللہ رب العزتٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔
یہ ہے ﷲ کو ﷲ کے ناموں کا واسطہ دینا یہ جائز ہے۔
2⃣وسیلے کی دوسری قسم (توسل بالاعمال الصالحہ) یہ بھی جائز ہے
ﷲرب العزت فرماتے ہیں
🔸وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔
سبا۔37
یعنی اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کرکے ﷲ سے دعا کرنا.......
قرآن میں ﷲ رب العزت نے اسکا ذکر فرما کر ہمیں اعمال صالحہ کے ذریعہ سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا.......
🔸رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ
اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلا رہا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی، پس اے ہمارے رب! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔
العمران۔193
آیت میں دعا سے پہلے اپنے نیک اعمال کا ذکر ہوا پھر دعا مانگی گئ۔
رسول ﷲ صلیﷲ علیہ وسلم نے فرمایا
بنی اسرائیل کے تین آدمی سفر پر تھے موسم خراب ہونے کی وجہ سے انہوں نے غار میں پناہ لے لی۔پتھر سے غار کا منہ بند ہو گیا۔
تینوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کے ذریعہ ﷲ سے دعا مانگی۔
ایک نے اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاؤ کے حوالے سے دعا مانگی۔
دوسرے نے اپنی عفت تامہ اور گناہ کے تمام تر مواقع موجود ہونے کے باوجود خوف الہٰی کا حوالے سے دعا کی مانگی۔
تیسرے نے اپنی دیانت‛امانت اور بہترین برتاؤ اور غریب پروری کا واسطہ پیش کرکے ﷲ سے دعا مانگی۔
تو لہذا اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دے کر دعا کرنا بھی جائز ہے۔
3⃣وسیلے کی تیسری قسم (توسل بالاحیاء) یعنی ذندہ بزرگوں کو کہنا کہ آپ ہمارے حق میں دعا کردیں۔یہ بھی جائز ہے۔
قرآن الکریم میں اسکا ذکر موجود ہے۔
یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے کنوں میں ڈالا.....قافلے والوں نے نکالا......مصر کے بازار میں بیچا..... پھر جیل کی ہوا کھائ...... جب جیل سے رہائ پائ تو مصر کے وزیر خزانہ بن گۓ.....والد کے شہر سے لوگ غلہ لینے آتے ہیں۔ان بھائ بھی آۓ..... یوسف علیہ السلام نے ان کو پہچان لیا مگر انہوں نے نہ پہچانا .......تعارف ہو گیا.....یوسف علیہ السلام نے کہا والد کو بھی لے آئیں اور والدہ بھی آجائیں۔جو یوسف علیہ السلام کی خالہ لگتی تھیں.......جب قصور بھائیوں کا ثابت ہو گیا کہ غلطی ہماری تھی ابّا جی واقعی قصور ہمارا تھا ابّا جان.......آپ ہمارے لیے ﷲ سے بخشش کی دعا کریں۔
بچے اپنے والد سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں اور والد ﷲ کے پیغمبر ہیں۔(یعقوب علیہ والسلام)
🔸قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ
سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"
🔸قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"
یوسف۔97-98
ایسے زندہ آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا کہ جس کی دعا کی قبولیت کی امید ہو۔
احادیث میں ہےکہ صحابہ کرام بارش وغیرہ کی دعا آپؐ سے کرواتے۔
صحيح بخاری :847
عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ عمر اس موقع پر فرماتے ہیں
🔸اللهم إنا کنا نتوسل إليک بنبينا فتسفينا وإنا نتوسل إليک بعم نبينا فاسقنا
اے اللہ! پہلے ہم نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کووسیلہ بناتے (ان سے بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ہم میں موجود نہیں) اس لیے اب ہم نے تیرے نبی کے چچا کو (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔
اس کے بعد عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔
صحيح بخاری:1010
یعنی ذندہ بزرگوں سے کہہ کر اپنے لیے دعا کروانا بھی جائز ہے۔
4⃣وسیلے کی چوتھی قسم (توسل بالاموات)
یعنی فوت شدہ نبی یا ولیوں کو یہ کہنا کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں یا یہ کہنا کہ یاﷲ فلاں رسول یا ولی کے ذریعہ سے ہماری دعا قبول کر لے.....یہ شرک ہے۔
ﷲ رب العزت فرماتے ہیں
🔸وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ
وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں،
الزمر۔3
سورت یونس میں ﷲ رب العزت فرماتے ہیں۔
🔸قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُون
کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟" پاک ہے وہ اور بلند اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
یونس۔18
توسل بالاموات کے ذریعہ سے دعا کرنا شرک ہے۔
اس میسیج کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں
Comments
Post a Comment