افسوسناک خبر
➿۔۔۔غمناک خبر۔۔۔۔۔۔
#خبر۔۔۔۔۔ افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ایک دینی مدرسے پر امریکا کا ڈرون حملہ، ہزاروں طلبہ، علما اور عوام شہید۔۔۔۔۔
تفصیلات کےمطابق افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے بڑے دینی مدرسے میں سالانہ تقریب ختم بخاری جاری تھی، اور مدرسے میں بہت بڑی تعداد میں علما، طلبہ اور والدین وعام عوام شریک محفل تھی کہ یکا یک امریکی ڈرون نے حملہ کردیا جس کے نتیجے دیکھا دیکھی ہزاروں علما، معصوم طلبا او عوام الناس شہید ہوگئے۔
یہ خبر کسی میڈیا نے نہیں چلائی۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
کیونکہ۔۔۔۔۔ ہائے یہ مدرسےکےبچے تھے۔۔۔۔ اللہ کی کتاب قرآن پڑھنے والے تھے۔۔۔۔۔ ان میں ایسے علما اور حفاظ بھی تھے جن کی سالہاسال کی محنت کے بعد گزشتہ کل تعلیمی فراغت ان کیلئیے شادی کی خوشی سے بڑھ کر خوشی کا دن تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ فرشتہ صفت نیک اور پاکباز لوگ جن کے وجود زمین کیلئیے اور اہل زمین کیلئیے فخر کا باعث تھے۔۔۔۔۔۔یہ آج معصوم ذہن اور وجود کے ساتھ مضبوط حفظ قرآن کی سند حاصل کررہے تھے۔۔۔۔ اور دن رات کی سالہا سال کی جدوجہد کے بعد ان کی شادی سے بڑھ کر شادی کی محفل تکمیل درس نطامی کی ختم بخاری کی صورت سجی تھی۔۔۔۔۔ یہ سب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک عمامہ سجائے سبھی کی آنکھوں کی رونق بنے ہوئے تھے۔۔۔۔ ان سب کے والدین اپنے بچوں کیلئیے تقریب کے اختتام پر گلے میں ہار ڈالنے کیلئیے۔۔۔۔ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ بے تابی کی کیفیت سے انتظار کررہے تھے۔۔۔۔ گھروں میں ان سب معصوم اللہ کے ولیوں کی باپردہ مائیں اور محبت والی بہنیں خوشی اور فخر کیفیت سے گھر سجائے ہوئے تھیں۔۔۔۔ گھروں میں مہمان اور علاقہ کی آمدورفت جاری تھی۔۔۔۔ اس مبارک خوشی کی نسبت ان باکردارطلبہ اور ان کے والدین نے مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام بھی کیا ہوا تھا۔۔۔ کہ تقریب کا اختتام ہوگا۔۔۔ دعا ہوگی اور علما اور حفاظ جنتی دلہے بن کر اپنے اپنے گھروں میں اپنے اپنے قافلوں کی بارات کی صورت میں اپنے مدرسے سے نکل کر اپنی پیاری ماؤں کے ساتھ جا کر ملیں گے۔۔۔ ان کے گلے لگیں گے ۔۔۔۔ ان سے خوب جی بھر کر داد، دعا مبارک بادی کے بوسے لیں گے اور ان کی آنکھوں سے تشکرالہیہ کے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے پونچھیں گے۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ صبح سے اپنے گھروں میں اپنے لعلوں کی منتظر تھیں ۔۔۔۔ آج ہم حافط اور عالم کی مائیں بن کر اپنی آنکھوں سے اپنے پیارے معصوموں کی خوشیوں کو دیکھنا چاہتی ہیں۔۔۔
مگر ادھر منظر کچھ اور ہی ہوگیا۔۔۔۔۔۔
تفصیلات کےمطابق افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے بڑے دینی مدرسے میں سالانہ تقریب ختم بخاری جاری تھی، اور مدرسے میں بہت بڑی تعداد میں علما، طلبہ اور والدین وعام عوام شریک محفل تھی کہ یکا یک امریکی ڈرون نے حملہ کردیا جس کے نتیجے دیکھا دیکھی ہزاروں علما، معصوم طلبا او عوام الناس شہید ہوگئے۔
یہ خبر کسی میڈیا نے نہیں چلائی۔۔۔۔
کیوں۔۔۔۔۔؟
کیونکہ۔۔۔۔۔ ہائے یہ مدرسےکےبچے تھے۔۔۔۔ اللہ کی کتاب قرآن پڑھنے والے تھے۔۔۔۔۔ ان میں ایسے علما اور حفاظ بھی تھے جن کی سالہاسال کی محنت کے بعد گزشتہ کل تعلیمی فراغت ان کیلئیے شادی کی خوشی سے بڑھ کر خوشی کا دن تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ فرشتہ صفت نیک اور پاکباز لوگ جن کے وجود زمین کیلئیے اور اہل زمین کیلئیے فخر کا باعث تھے۔۔۔۔۔۔یہ آج معصوم ذہن اور وجود کے ساتھ مضبوط حفظ قرآن کی سند حاصل کررہے تھے۔۔۔۔ اور دن رات کی سالہا سال کی جدوجہد کے بعد ان کی شادی سے بڑھ کر شادی کی محفل تکمیل درس نطامی کی ختم بخاری کی صورت سجی تھی۔۔۔۔۔ یہ سب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک عمامہ سجائے سبھی کی آنکھوں کی رونق بنے ہوئے تھے۔۔۔۔ ان سب کے والدین اپنے بچوں کیلئیے تقریب کے اختتام پر گلے میں ہار ڈالنے کیلئیے۔۔۔۔ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ بے تابی کی کیفیت سے انتظار کررہے تھے۔۔۔۔ گھروں میں ان سب معصوم اللہ کے ولیوں کی باپردہ مائیں اور محبت والی بہنیں خوشی اور فخر کیفیت سے گھر سجائے ہوئے تھیں۔۔۔۔ گھروں میں مہمان اور علاقہ کی آمدورفت جاری تھی۔۔۔۔ اس مبارک خوشی کی نسبت ان باکردارطلبہ اور ان کے والدین نے مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام بھی کیا ہوا تھا۔۔۔ کہ تقریب کا اختتام ہوگا۔۔۔ دعا ہوگی اور علما اور حفاظ جنتی دلہے بن کر اپنے اپنے گھروں میں اپنے اپنے قافلوں کی بارات کی صورت میں اپنے مدرسے سے نکل کر اپنی پیاری ماؤں کے ساتھ جا کر ملیں گے۔۔۔ ان کے گلے لگیں گے ۔۔۔۔ ان سے خوب جی بھر کر داد، دعا مبارک بادی کے بوسے لیں گے اور ان کی آنکھوں سے تشکرالہیہ کے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے پونچھیں گے۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ صبح سے اپنے گھروں میں اپنے لعلوں کی منتظر تھیں ۔۔۔۔ آج ہم حافط اور عالم کی مائیں بن کر اپنی آنکھوں سے اپنے پیارے معصوموں کی خوشیوں کو دیکھنا چاہتی ہیں۔۔۔
مگر ادھر منظر کچھ اور ہی ہوگیا۔۔۔۔۔۔
تقریب ختم بخاری سج چکی ہے۔۔۔۔ بخاری کی حدیث کلمتان حبیبتان پڑھائی جاچکی ہے۔۔۔۔ دستار فضیلت یعنی عمامے پہنادئیے گئے۔۔۔۔۔ ہار پہنائے جارہے ہیں۔۔۔۔ ہر طرف سے خوشی اور محبت کے پھول نچھاور ہورہے ہیں۔۔۔۔ باپ اپنے جگر گوشوں اور اپنے جنتی شہزادوں کو اپنے سینے سے لگارہے ہیں۔۔۔۔۔خوشی اور فرحت کے جذبات دونوں طرف ابالے کھارہے ہیں۔۔۔۔
ایسے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
یک دم دنیاکا ظالم نمبر ون۔۔۔۔ کافر نمبر ون امریکا کو خبر ملتی ہے۔۔۔۔ کہ تم سے ایک ملا عمر اور اس کا نطریہ نہیں سنبھالا گیا تو۔۔۔۔ اس کے دئیے ہوئے نظریے نے تمہیں شکست دے دی۔۔۔۔ تم زندہ رہ کر مردار بن گئے ہو۔۔۔۔ مگر ادھر تو ملاؤں کی قرآن وحدیث کے علم کو حاصل کرنے بعد ایک کھیپ تیار ہوچکی ہے۔۔۔۔۔ یہ سب علما اور حفاظ بڑے دجال اور اس کے حواریوں کے لئیے ایٹم بم سے زیادہ صلاحیت لے کر معاشرے میں رہ کر تمہیں تمہارے دئیے ہوئے نظرئیے کی شکست سے مزید دوچار کریں گے ۔۔۔۔ اس نے فورا اپنا ڈرون دوڑایا۔۔۔۔ میزائل برسائے ۔۔۔۔۔ ان امید کے روشن دیوں کو بجھانے کیلئیے ۔۔۔۔ علوم نبوت کے ان وارثوں کو یکا یک خون میں نہلادیا گیا۔۔۔۔۔ ہر طرف جسم کے پرخچے جاگرے۔۔۔۔ زمین ان علمااور حفاط کے لہو سے رنگین کردی گئی۔۔۔۔ یہ سب اپنے پہنے ہوئے سفید کپڑوں اور اپنے جسموں کو خون کی لال مہندی لگاکر حافط، عالم، اور شہید کا عہدہ اور تاج سر پر سجاکر جنت بساگئے۔۔۔۔حوروں کے دلہے بن گئے۔۔۔۔۔ ظاہرا والدین اور امت سے چھن گئے۔۔۔۔۔ مگر ظالم کافر امریکا کو اس کی خوشی کے اس موقع پر یہ غمناک اور حقیقت پر آسمانی حقیقی خبر دے گئے۔۔۔۔۔ ہم تھے تھے تو ایک تھے۔۔۔۔ ایک سیر تھے۔۔۔۔ چلے گئے سوا سیر ہوگئے۔۔۔۔اپنے پیچھے اپنے خون کی لالی سے لکھی یہ داستان چھوڑ گئے ہیں کہ اب۔کی بار تو بس ہی ہوگئی۔۔۔۔۔ اب تجھ پرہم ابابیلوں کے وارث کنکر بن کر گریں گے۔۔۔۔ ہمارے بھی تیرے کئی کئی کو گرائے گا اور تڑپائے گا۔۔۔۔ ذرا انتظار کر بس دیکھتا جا اور پھر ہم شہید ہوکر حقیقی جو زندہ ہوچکے ہیں۔۔۔۔ ہم زندوں کے مقابلے اپنے مرداروں کی تعداد بھی گنتا جا۔۔۔ اے ظالم امریکا تجھ سے بڑی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ اب تیار رہنا بھگتنے کیلئیے۔۔۔۔۔ ہم ابابیلوں کے چہرے کی معصومیت اور ہم جنتی شہزادوں کے چہرے کا نور تیری بربادی کیلئیے کافی ہے۔۔۔۔
بس میڈیا سے یہی کہنا ہے کہ یہ کافروں کی حلالہ ملالہ نہیں ہے۔۔۔ یہ صرف مدرسوں کے معصوم بچے ہیں۔۔۔۔ آپ آواز انہ اٹھانا تکلیف ہوگی۔۔۔۔
اللہ تبارک و تعالی تمام ہی مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور انکے والدین کو اور انکے رشتہ دار دوست و احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
اللہ تبارک و تعالی تمام ہی مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور انکے والدین کو اور انکے رشتہ دار دوست و احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین
Comments
Post a Comment