محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا
محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر اور ہے اللہ سب چیزوں کا جاننے والا۔
خلاصہ تفسیر
(پہلی آیات میں نکاح زینب کا تبلیغ عملی ہونے اور سنت انبیاء ہونے کی حیثیت سے محمود ہونا بتلایا گیا تھا، آگے ان معترضین کا جواب ہے جو اس نکاح کو مذموم سمجھ کر طعنہ زنی کرتے تھے، یعنی) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں (یعنی جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے علاقہ اولاد نہیں رکھتے، جیسا کہ اس آیت میں عام صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا رجالکم یعنی تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ اس میں نسبت عام لوگوں کی طرف دی گئی، اور آنحضرت ﷺ سے نسبت قطع کی گئی۔ اس لئے اپنے خاندان کے افراد میں سے کسی مرد کا باپ ہونا اس کے منافی نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ عام امت کے لوگوں کے ساتھ آپ کو ایسی ابوت حاصل نہیں جو کسی دلیل صحیح سے ان کی مطلقہ بیوی کے ساتھ نکاح حرام ہونے کا موجب ہو) لیکن (ہاں ایک دوسری قسم کی ابوت روحانی ضرور حاصل ہے، چنانچہ) اللہ کے رسول ہیں (اور ہر رسول روحانی مربی ہونے کی وجہ سے امت کا روحانی باپ ہوتا ہے) اور (اس ابوت روحانیہ میں اس درجہ کامل ہیں کہ سب رسولوں سے افضل واکمل ہیں، چناچہ آپ) سب نبیوں کے ختم پر ہیں (اور جونہی ایسا ہوگا وہ ابوت روحانیہ میں سب سے بڑھ کر ہوگا، کیونکہ آپ کی ابوت روحانیہ کا سلسلہ قیامت تک چلے گا، جس کے نتیجہ میں آپ کی روحانی اولاد سب سے زیادہ ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ امت کے لئے آپ کی ابوت جسمانی اور نسبی نہیں ہے جس سے حرمت نکاح متعلق ہوتی ہے بلکہ ابوت روحانی ہے۔ اس لئے متبنیٰ بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کوئی قابل اعتراض نہیں، بلکہ اس روحانی ابوت کا تقاضا یہ ہے کہ سب لوگ آپ پر مکمل اعتماد و اعتقاد رکھیں، آپ کے کسی قول و فعل پر شک و شبہ نہ کریں) اور (اگر یہ وسوسہ ہو کہ یہ نکاح ناجائز تو نہیں تھا، لیکن اگر نہ ہوتا تو بہتر ہوتا تاکہ لوگوں کو اعتراض اور طعن کا موقع ہی نہ ملتا تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ) اللہ تعالیٰ ہر چیز (کے وجود یا عدم کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے۔
معارف ومسائل
آیت مذکورہ میں لوگوں کے خیال کا رد ہے جو اپنی رسم جاہلیت کے مطابق زید بن حارثہ کو رسول اللہ ﷺ کا بیٹا کہتے تھے، اور ان کی طلاق کے بعد حضرت زنیب سے آنحضرت ﷺ کے نکاح پر طعن کرتے تھے، کہ بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے رد کے لئے یہ کہہ دینا کافی تھا کہ رسول اللہ ﷺ زید کے باپ نہیں بلکہ زید کے باپ حارثہ ہیں، مگر اس میں مبالغہ اور تاکید کیلئے ارشاد فرمایا (آیت) ماکان محمد ابا احدمن رجالکم

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟