وہ لاش میرے بیٹے کی تھی

"وہ لاش میرے بیٹے کی تھی"
          
                مہدی حسن عینی

       مولانا امداد اللہ رشیدی امام و خطیب نورانی مسجد آسنسول کے چھوٹے فرزند
مرحوم حافظ صبغت اللہ رشیدی کی ماب لنچنگ میں دردناک شہادت کے بعد میڈیا اور اور مسلمانوں نے امام صاحب کی صرف اس بات کو نقل کیا جس میں انہوں نے امن قائم کرنے کی اپیل کی اور جوابی رد عمل سے روکا  لیکن ان کے اس درد کو نا تو کسی نے محسوس کیا اور نا ہی کسی نے اسے نقل کیا جو ایک باپ ہونے کی حیثیت سے انہوں بیان کیا تھا
   انہوں نے اپنے نابالغ بچے کی دردناک موت کا
واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 28 تاریخ کو وہ قرآن پڑھنے کے لئے گیا تھا جب شور ہنگامہ ہو رہا تھا وہ دیکھنے کے لئے باہر چلا گیا کہ کیا ہورہا ہے ؟ پر بھیڑ اسے اپنے ساتھ کھینچ لے گئی،
امام صاحب نے بتایا کہ میرا بڑا بیٹا اپنے بھائی کو چھڑانے کے لئے پولیس اسٹیشن شکایت درج کرانے گیا تو پولیس نے پہلے چھوٹے بیٹے کی تصویر کی شناخت کی اور اس کے بعد مدد کرنے کے بجائے اس کی ساتھ قابل اعتراض حرکتیں کی اور میرے بڑے بیٹے کو ہی لاک اپ میں بند کردیا رات میں ہمارے کاؤنسلر صاحب اسے چھڑا کر لائے

"سویرے پتہ چلا کہ اسپتال میں ایک لاش آئی ہے وہ لاش میرے بیٹے کی تھی"

امام صاحب کہتے ہیں کہ میں کوشش کررہا ہوں  کہ نا روؤں لیکن آنسوں خود ہی آنکھوں میں تیرنے لگتے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ میرے بیٹے کی انگلیوں کے ناخون کھینچ لئے گئے اسے جلادیا گیا اس کے بدن پر چاقو سے وار کئے گئے
اس کا خون مرنے کے بعد بھی مستقل بہتا رہا

"میرے بیٹے کو مارا کوئی بات نہیں لیکن اسے جلانا نہیں چاہئے تھا"

  اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی امام صاحب نے مشتعل بھیڑ کو قابو میں کیا اور عمل کے  منفی رد عمل سے روکا یہ ان کی پہاڑ جیسے ثبات و استقلال اور صبر و عزیمت کی بے نظیر مثال تھی
 
لیکن کیا ان کی اپیل کے بعد صبغت اللہ رشیدی پر کئے گئے ظلم کی فائل بند ہوجانی چاہئے؟
کیا اس معصوم بچے کو انصاف دلائے بغیر صبر کرلینا چاہئے؟
اس پورے واقعہ میں پولیس کا رویہ کتنا شرمسار کرنے والا اور دوغلا تھا کیا اس پر سوال نہیں اٹھنے چاہئے؟
کیا اس معصوم بچے کی موت کی ذمہ داری اور جواب دہی طے نہیں ہونی چاہئے؟
انصاف کے لئے جد و جہد کرنے والی تنظیمیں اس مسئلہ پر کیوں خاموش ہیں؟
پولیس نے معاملہ درج ضرور کیا ہے کیس بھی بن چکا ہے لیکن اگر اس پر مضبوط طریقہ
سے پیروی نہیں کی گئی تو ناجانے کتنے اور معصوم بچے بھیڑ کی دہشت گردی کا شکار ہونگے

اس لئے ہماری ملی تنظیموں کی ذمہ داری ھیکہ امام صاحب کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے
انصاف کے تقاضوں پر عمل کریں اور پولیس و انتظامیہ پر دباؤ بنائیں تاکہ جلد از جلد مرحوم کے قاتل کیفر کردار تک پہونچیں انہیں اغواء  کرنے پھر اجتماعی قتل کرنے اور پھر جلانے کی سزا میں سزائے موت ملے تاکہ پھر کوئی صبغت اللہ بھیڑ کی سفاکیت کا شکار نا ہو پھر کسی باپ امداداللہ کو آنسو نا بہانے پڑھیں پھر کسی بھائی عطاءاللہ کو ایک بھائی کھونے کا صدمہ نا اٹھانا پڑے. اللہ حضرت مولانا امداد اللہ رشیدی صاحب کو صبر جمیل عطا فرمائے مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین 

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟