بھارت کے لوگوں کو جاگنا ہوگا

شہریوں کو جاگنا ہوگا
ہندوستان کی زرخیز زمین میں کسان کھاد ڈالتے رہے اور سیاست دان فساد۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اس دیس کی مٹی سونا ، ہیرے ، موتی،چاول گیہوں اور مسور اگلنے کی جگہ مراد آباد ، ملیانہ ،  گجرات اور بھاگلپور اگلنے لگی۔ کھیتوں میں گوبھی کی جگہ انسانوں کی لاشیں دفنائی جانے لگیں۔
بھارت میں فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے کہ گنوائوں تو گنوا نہ سکوں۔ ہندو -مسلم فسادات کی اتنی  روح فرساں داستانیں  تاریخ کے پنوں اور فرشتوں کے پنکھوں میں محفوظ ہیں کہ اسے دہرانا بھی ہیبت ناک سماں پیدا کر دیتا ہے۔
  فساد کہنے سے ہی اس بات کا پتہ چل جاتا ہے کہ ہندئوں نے مسلمان کو اور مسلمانوں نے ہندوئوں کو مارا۔ صرف ایک فساد ایسا ہے جسے  اینٹی سکھ رائٹس  کہتے ہیں جو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں ہوا تھا، یعنی 1984کا سکھ مخالف فساد ہے۔
یہ بات اب تک سمجھ میں نہیں آئی کہ سکھ مارے گئے تو اسے اینٹی سکھ فساد کیوں کہا گیا اور ہزاروں فسادات میں مسلمان مارے گئے بلکہ گجرات میں تو مسلم کشی کی گئی مگر اینٹی مسلم رائٹس کیوں نہیں کہا گیا۔ یعنی فساد میں بھی فساد کی سیاست ہے۔
جس طرح  بھارت میں بے روزگاری  کا  ایشو کچھ دن تک چلتا ہے ، اسی طرح فساد کا ایشو بھی کچھ لمحوں کی طرح اٹھتا رہا ہے۔
فکر تونسوی صاحب نے فساد کے بارے میں دلچسپ بات لکھی ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون کے لیے نکلے ، اچانک  شہر کرفیو زدہ ہو گیا۔ بسیں اور ٹرینیں رد ہو گئیں۔ فکر نے بیگم سے کہا’ گھر واپس جانا ہوگا۔ فساد ہو گیا ہے‘۔ بیوی نے فکرمندی سے پوچھا ’یہ فساد کیا ہوتا ہے۔‘ فکر تونسوی بولے ’ یہ بھی ایک طرح کا ہنی مون ہوتا ہے جو گاہے بگاہے ہندو اور مسلمان مناتے رہتے ہیں۔‘
گویا ہندوستان میں فساد ایک روٹین کی چیز ہے۔ اسے ہونا ہی ہے۔
اور اسے اس لیے ہونا ہوتا ہے کہ یہی ایک ایسی چیز ہے جس سے سیاست دانوں کو  بالواسطہ فائدہ  اور عوام کو بلاواسطہ نقصان ہوتا ہے۔ تو اتنی پیاری چیز اگر نہ ہو تو پھر سیاست چلے کیسے۔
بنگال کے بعد اب بہار فساد کی آگ میں جل اٹھا ہے۔ تقریباً 9اضلاع نفرت کی رام نومی منا رہے ہیں۔ الیکشن قریب ہے اور سوشاسن بابو کو بھی لگ رہا ہے کہ جب تک کشاسن نہیں پھیلے گا وہ جیت نہیں پائیں گے۔
میرا شہر مونگیر بھی بارود کی ڈھیر پر بیٹھا ہے۔
امی کا فون آیا تھا۔’ بیٹا ہم سب سہمے ہوئے ہیںِ اللہ خیر کرے۔ سب کو محفوظ رکھے۔
بات کیا ہوئی جب ابو سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ پہلے تو رام نومی کے جلوس کے روٹ کو لے کر جھڑپ ہوئی۔ زبردستی مسلم محلے سے نکالنے کی ضد میں پتھرائو ہوا۔ پولیس نے حالات کو قابو میں لیا تو اب ایک ایسی کہانی شروع ہوئی ہے کہ اللہ ہی خیر کرے۔ کیا ہوا ہے ، میں نے پھر پوچھا۔ ایک  مسلم  شخص کے بند پڑے گھر سے ایک مورتی برآمد ہوئی ہے۔ جسے وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھگوان پرکٹ ہوئے۔ ہم مندر وہیں بنائیں گے۔، ابو کے جواب  میں تشویش کا پہلو نمایاں تھا۔ ظاہر ہے کہ اب یا تو وہاں مندر بنے گا یا پھر فساد ہوگا۔
آنکھوں کے سامنے 1989کا بھاگلپور گھوم گیا ۔ جہاں 2ماہ تک مسلمانوں کو کاٹا گیا۔ سرکاری اعدادو شمار تو 1000کے ہیں ، لیکن برسوں تک کھیتوں میں دبی لاشیں کسانوں کے ہل کے نیچے آتی رہی تھیں۔ بھاگلپور جلتا رہا اور وہاں کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ، سیاست داں اور  انتظامیہ بانسری بجاتے  رہے ۔ بڑی مشکل سے شہر اپنے پیر پر کھڑا ہوا تھا کہ اب پھر وہیں سے فساد کی شروعات ہوئی۔ کیوں ہوئی؟
جلتے ہوئے بھاگلپور کو مسکراتے ہوئے دیکھنے والے  ایس پی کے ایس دیویدی اب پورے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے منصب پر براجمان کر دئے گئے ہیں۔ انہیں راجیو گاندھی سرکار نے برطرف کر دیا تھا ، لیکن اب بھی  وہ اسی آب و تاب کے ساتھ پرموٹ ہوتے ہوئے نتیش کمار کے ہاتھوں ڈی جی پی کے عہدے تک پہنچے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بھاگوت جی کی خصوصی سفارش کا انہیں صلہ ملا ہے۔
تو اب وہ اپنے  ہنر کو  بروئے کار لاتے ہوئے پورے بہار کو فساد میں جاتا دیکھ رہے ہیں۔
بہار کوعہد لالو سےقبل کا بہار بنایا جارہا ہے۔ جب دلتوں کے منہ میں زبان نہیں ہوا کرتی تھی اور درج فہرست ذات  کے لوگ ججمانوں کے گھر مفت میں کام کیا کرتے تھے۔ لالو نے انتہائی مشقت کے ساتھ  دبے کچلے لوگوں کو حوصلہ دیا تھا، جس سے انتہائی کم  تعداد میں موجود اعلیٰ طبقہ بیک فٹ پر آیا تھا۔ مسلمانوں نے بھی مظلوموں کے ساتھ مل کر  صحت مند بہار کی تعمیر کی تھی ، لیکن اب پھر وہی زمانہ آ پہنچا ہے۔ الیکشن قریب ہے اور سب لوگ جانتے ہیں کہ  برسر اقتدار پارٹی سوائے ہندو مسلم کئے الیکشن جیت ہی نہیں سکتی تو اس کی شروعات  کے لیے زمینیں تلاش کی جارہی ہیں اور ماحول بنایا جا رہا ہے۔
رام نومی کا تیوہار اتنا بڑا تہوار کبھی نہیں ہوا کرتا تھا، مگر معاملہ رام مندر کا بھی ہے ، اس لیے اسے اہمیت دی جا رہی ہے۔ بقول ممتا بنرجی کہ ’ میں نے کبھی بھی رام نومی کے جلوس میں بچوں کے ہاتھوں میں تلواریں نہیں دیکھیں ‘ ۔
اور راجستھان میں رام جی کی جگہ شیطان شمبھوناتھ ریگر کی شکل کے آدمی کو بیٹھا دیکھ کر ساری کہانی  سمجھنا آسان ہے۔ باشعور ہندوئوں جاگو کہ سرکار بنانے کے لیے مقدس رام جی کو بھی رسواکیا جا رہا ہے۔
ہندوتو کی اس لہر نے ہندوازم کو سنگسار کر دیا ہے۔ ہندوئوں کی بڑی تعداد بھی مذہب اور بھگوان  کے نام پر ہونے والی اس سیاست سے نہ صرف خفا ہے ، بلکہ خوفزدہ  ہیں۔ یہ ایک ایسا خطرناک رجحان ہے جو ہندوازم کے اس پرمپرا کو ختم کر رہی ہے ، جس کی فراخدلی اور رواداری کے قصے پوری دنیا میں مشہور ہوا کرتے تھے۔
ہم آہنگی تو یہ تھی کہ ہم نے بھی  دسہرہ اور دیوالی کا میلہ اپنے چچا اور ماموں کے کاندھوں پر بیٹھ کر دیکھا ہے اور اب یہ عالم ہے کہ اورنگ آباد میں ایک حافظ لڑکا ہندوئوں کی بستی میں پھنس گیا تو دوسرے دن اس کی لاش ملی۔ ایسے میں ہم کیسے کہیں کہ دیوالی ، دسہرہ ، رام نومی ہمارا بھی تہوار ہے۔
مگر امیدیں باقی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ مسجدوں کو بچانے کے لیے ہندوئوں کا ہجوم باہر نکلا۔ دراصل ہندوستانی تہذیب کو  ختم کرنا آسان تو نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سرکاریں ملک کے عوام کو بے روزگار کر کے انہیں خوفناک کھیل کا حصہ بنا رہی ہیں۔
بہار کو بچانے کے لیے اب بس یہی کرنا ہوگا کہ ہر شہر میں ہندو اور مسلم کا ایک امن دستہ  قائم کیا جائے جو تہواروں اور دیگر تقاریب میں فعال رول نبھائے اور شرپسندوں کی سازشوں کو ناکام کرے۔ فساد میں رحمان کا بھائی مرتا ہے تو رنویر کا بیٹا بھی مارا جاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی خاص کمیونٹی کا زیادہ نقصان ہوتا ہے ، لیکن نقصان تو نقصان ہی ہے۔ کم ہو یا زیادہ۔ بھارت کے عوام اب تک یہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ فساد سیاستدانوں کاترپ کا پتہ یعنی ماسٹر کارڈ ہے۔ لڑتا کوئی اور ہے اور دودھ ملائی کسی اور کے نصیب میں ہوتی ہے۔ آزادی کے اتنے دن گذر جانے کے بعد بھی مندر اور مسجد کی ہی لڑائی ہوگی تو یہاں اسٹیفن ہاکنگ تو کیا خاک پیدا ہوں گے۔ لاتعداد شمبھو ریگر سماج کو نوچ کر کھا جائے گا۔ لیڈران بھی اس بھلاوے میں نہ رہیں کہ ان کی عیاشی جاری رہے گی ۔ جیسا سماج بنے گا ویسا ہی لیڈر بھی آئے گا۔ آج غنڈوں کو سر پر بٹھائوگے کل وہ آپ کی کرسی پر بیٹھ جائے گا۔
ہندو اور مسلمانوں سے اپیل ہے کہ  لڑنا ہے تو بے روزگاری اور بدعنوانی سے لڑیئے آپس میں لڑ کر اپنا اور دیش کا نقصان مت کیجئے۔ بھارت  عظیم ہے اور اس کی عظمت میں محبت کی نشانیاں ہیں۔کسی طرح
کی افواہ کا حصہ نہ بنیں۔ ووٹ کی سیاست کے لیے اپنی ریاست کو تباہ ہونے سے بچائیں۔
سویلین کا جاگنا ہوگا۔یہ سوچ کر کہ  اب ہمیں ہی بھارت کو بچانا ہے۔ پولیس ، نیتا اور دیگر سسٹم  پر بھروسہ بے معنی ہے۔
(نوٹ :لکھنا تو ہندی میں چاہتا تھا لیکن مشکل جان پڑا۔کوئی بھائی ہو تو اس پوسٹ کو ہندی میں کرنے کی کرپا کریں۔کرتگیہ رہوں گا)
زین شمسی
2019 کا الیکشن بالکل قریب ہے تمام ہی حضرات سے گزارش کی جاتی ہے کہ 2019 ایسے نیتا کو سلیکٹ کیجئے جو ہمارے لئے مفید ثابت ہو  اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟