عظمت والی رات
🌹الســـلام علیــــکم و رحـــمۃ اللــــہ و بــرکاتہ🌹
⚘بســــــــــــــم اللـــــہ الرحـــــمن الرحیــــم⚘
*اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن ۔۔۔۔۔۔ اَمَّابَعد !*
{عظمت والی راتیں}
⭐️اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ماہ ذی الحجہ کے شروع کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے !
⭐️اللہ سبحان تعالیٰ کا فرمان ہے وَ الۡفَجۡرِ ۙ﴿۱﴾ وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ۙ﴿۲﴾ وَّ الشَّفۡعِ وَ الۡوَتۡرِ ۙ﴿۳﴾ (سورہ الفجر آیت نمبر 1 تا 3)
ترجمہ : قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس راتوں کی اور جفت کی اور طاق کی !
⭐️ان آیتوں میں اللہ تبارک و تعالی نے چار قسمیں کھائی ہیں، فجر سے مراد حضرت عبداللہ بن عباسؓ ، اما التفسیر مجاہدؒ اور حضرت عکرمہؒ وغیرہ کے بقول یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کی فجر ہے اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی شروع کی دس راتیں ہیں، جفت سے مراد ذالحجہ کی دسویں تاریخ یعنی قربانی کا دن اور طاق سے مراد نویں تاریخ یعنی عرفہ کا دن ہے ! (تفسیر قرطبی جلد 20 صفحہ 27)
⭐️ماہ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ :/ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سورہ الفجر آیت نمبر 2 میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے !
⭐️حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان دس راتوں میں ایک رات کی عبادت لیلۃ القدر کی عبادت کے برابر ہے ! (جامع الترمذی کتاب الصوم جلد 1 صفحہ 158)
⭐️دس راتوں کی فضیلت :/ ہم نے اوپر حدیث شریف میں پڑھ لیا کہ اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں میں عبادت شب قدر کی طرح فضیلت والی ہے اس سے شب قدر کی امتیازی فضیلت میں کوئی فرق نہیں پڑتا اللہ پاک نے قرآن مجید میں ان دس راتوں کی قسم کھائی ہے !
⭐️تفسیر جلالین میں ہے ولیال عشر ای عشر ذی الحجة (جلالین صفحہ 251)
ترجمہ : یعنی دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں !
⭐️امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں ھو عشر ذی الحجة وقاله ابن عباس (تفسیر القرطبی جلد 20 صفحہ 36)
ترجمہ : دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں اور یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے
Comments
Post a Comment