قربانی کے مسائل

🌹الســـلام علیــــکم و رحـــمۃ اللــــہ و بــرکاتہ🌹

⚘بســــــــــــــم اللـــــہ الرحـــــمن الرحیــــم⚘

*اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن ۔۔۔۔۔۔ اَمَّابَعد !*

               {مـســــائــــل قــــربــــانــــی}
          {کل 20 قسطیں ہیں ! قسط نمبر 8}

از قلم ✒..... مفتی صاحب ایک مسئلہ کی وضاحت فرمائیں نوازش ہوگی !

⭐️مسئلہ : قربانی کے کتنے جانور ہے !

کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام و حضرات مفتیان کرام شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ قربانی کے کتنے جانور ہے؟

⭐️باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق

آیت : قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ۚ مِنَ الضَّاۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡمَعۡزِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ نَبِّـُٔوۡنِیۡ بِعِلۡمٍ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ (سورہ الانعام آیت نمبر 143)
ترجمہ : مویشیوں کے کل آٹھ جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں، دو صنفیں نر اور مادہ بھیڑوں کی نسل سے اور دو بکریوں کی نسل سے۔ ذرا ان سے پوچھو کہ : کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ اگر تم سچے ہو تو کسی علمی بنیاد پر مجھے جواب دو۔

تفسیر : مطلب یہ ہے کہ تم لوگ کبھی نر جانور کو حرام قرار دے دیتے ہو کبھی مادہ جانور کو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ جوڑے پیدا کرتے وقت نہ نر کو حرام کیا تھا نہ مادہ کو، اب تم ہی بتاؤ کہ اگر نر ہونے کی وجہ سے کوئی جانور حرام ہوتا ہے تو ہمیشہ نر ہی حرام ہونا چاہیے اور اگر مادہ ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو ہمیشہ مادہ ہی حرام ہونا چاہیے، اور اگر کسی مادہ کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو پھر بچہ نرہویامادہ ہر صورت میں حرام ہونا چاہیے، لہذا تم نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ رکھے ہیں نہ ان کی کوئی علمی یا عقلی بنیاد ہے اور نہ اللہ کا کوئی حکم ایسا آیا ہے ! (آسان ترجمۂ قرآن)

آیت : قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ : وَ مِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَیۡنِ وَ مِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّکَرَیۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَیَیۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَیۡہِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ؕ اَمۡ  کُنۡتُمۡ شُہَدَآءَ اِذۡ وَصّٰکُمُ اللّٰہُ بِہٰذَا ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ (سورہ الانعام آیت نمبر 144)
ترجمہ : اور اسی طرح اونٹوں کی بھی دو صنفیں نر اور مادہ اللہ نے پیدا کی ہیں، اور گائے کی بھی دو صنفیں۔ ان سے کہو کہ : کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے، یا دونوں مادہ کو ؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو ؟ کیا تم اس وقت خود حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اگر نہیں، اور یقینا نہیں تو پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لیے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرسکے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ! (سورہ الانعام آیت نمبر 144)

🗒🖋نوٹ : بھینس گائے کے حکم میں ہے اور بھینس کی قربانی جائز ہے !

⭐️فقط واللہ تعالیٰ اعلم
واللہ اعلم بالصواب

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟