کیا جمعہ کا حج ستر حج کے برابر ہوتا ہے؟

🌹الســـلام علیــــکم و رحـــمۃ اللــــہ و بــرکاتہ🌹

⚘بســــــــــــــم اللـــــہ الرحـــــمن الرحیــــم⚘

*اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن ۔۔۔۔۔۔ اَمَّابَعد !*

     {کیا جمعہ کا حج 70 حج کے برابر ہوتا ہے؟}

سوال) ایک روایت فقہ و شروحات حدیث کی کتابوں میں ذکر کی جاتی ہے کہ : جمعہ کا حج فضیلت کے اعتبار سے ستر حج کے برابر ہے، تو کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟

⭐️باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق

جی ہاں ایک روایت علامہ ابن الاثیر نے (جامع الاصول 9/ 264) میں امام رَزِین بن معاویہ عَبدری (متوفی 535ھ) کے حوالے سے ذکر کی ہے، وہ یہ ہے : 6867- (ط) طلحة بن عُبيد الله بن كَرِيز : أن رسول الله ﷺ قال : ﴿أفضلُ الأيام يوم عرفة وافقَ يومَ جمعة ، وهو أفضل من سبعين حجة في غير جُمعة ، وأفضل الدعاء دعاءُ يوم عرفة، وأفضل ماقلتُ أنا والنبيون من قبلي:لا إله إلا الله وحده لا شريك له﴾ قال ابن الأثير : أخرج «الموطأ» من قوله «أفضل ...» والحديثَ بطوله ذكره رزين

تجزیۂ حديث : اس حدیث كے دو جزء ہیں :

1) ﴿أفضل الأيام يوم عرفة وافَقَ يوم جمعة وهو أفضلُ من سبعين حجةً في غير جمعة ﴾

2) ﴿ أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة ، وأفضل ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له﴾

تخریج حدیث : حدیث کا دوسرا جزء ﴿أفضل الدعاء ...﴾ یا ﴿خير الدعاء دعاء يوم عرفة ...﴾ یہ تو متعدد اسانید سے مرفوعا و مرسلا منقول ہے !

مرفوعا بمعناہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے [ترمذی 3585] میں اور حضرت علیؓ سے [طبرانی کتاب الدعاء 874] میں اور حضرت ابن عمرؓ سے [طبرانی کتاب الدعاء 875] میں اور حضرت ابوہریرہؓ سے (شعب الایمان 3778) میں ہے !

جبکہ مرسل روایت امام مالکؒ کی (موطأ) کی متعدد روایات میں مندرجہ ذیل ایک ہی سند سے وارد ہے : ﴿مالك، عن زياد بن أبي زياد، عن طلحة بن عُبيد الله بن كَرِيز، أن رسول الله ﷺ قال : أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة، وأفضل ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له﴾ طلحہ بن عبید اللہ بن کریز تابعی ہیں ، مشہور صحابی نہیں ہیں کما ظن علی القاری فی ’’الحظ الاوفر‘‘ ، اس لئے یہ روایت منقطع ہے !

دیکھئے : موطأ مالك روایۃ  یحیی اللیثی (رقم246,32) موطأ مالك روایۃ  ابى مصعب الزہرى (رقم621) موطأ مالك روایۃ  یحیی بن عبداللہ بن بكیر (سنن البیہقی 8391) موطأ مالك روایۃ  عبد اللہ القعنبی (رقم362)

البتہ روایت کا پہلا جزء (جو مقصود بالبحثہے) یعنی : ﴿أفضل الأيام يوم عرفة وافَقَ يوم جمعة وهو أفضلُ من سبعين حجةً في غير جمعة﴾ اس كو فقط رزین بن معاویہ نے (تجرید الصحاح) میں موطأ مالک کی علامت لگا کر روایت کے شروع میں ذكر کیا ہے، جیساكہ صاحبِ (جامع الاصول ) نے تصریح کی ہے اور رزین کی (تجرید الصحاح نسخہ کو بریلی ترکی/ص51) میں بھیاسی طرح ہے !

مگر رزین کی مذکورہ زیادتی (موطأ مالک) کے نسخوں میں وارد نہیں ہے، جیساکہ حافظ ابن حجرؒ نے (فتح الباری8/271) میں کہا : وَأَمَّا مَا ذَكَرَهُ رَزِينٌ فِي "جَامِعِهِ" مَرْفُوعًا : ﴿خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَافَقَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِينَ حَجَّةٍ فِي غَيْرِهَا ﴾ فَهُوَ حَدِيثٌ لَا أَعْرِفُ حَالَهُ ، لِأَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ صَحَابِيَّهُ وَلَا مَنْ أَخْرَجَهُ ، بَلْ أَدْرَجَهُ فِي حَدِيثِ " الْمُوَطَّأِ " الَّذِي ذَكَرَهُ مُرْسَلًا عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيْزٍ، وَلَيْسَتِ الزِّيَادَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُوَطَّآتِ . فَإِنْ كَانَ لَهُ أَصْلٌ احْتَمَلَ أَنْ يُرَادَ بِالسَّبْعِينَ التَّحْدِيدُ أَوِ الْمُبَالَغَةُ ، وَعَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا فَثَبَتَتِ المَزِيةُ بذلك ، وَالله أعلم
ترجمہ : حافظ ابن حجرؒ نے رزین کی زیادتی پر تعاقب كرتے ہوئے کہا کہ : اس حدیث کا حال (صحت و ضعف کے اعتبار سے) مجھےمعلوم نہیں ہے، اس لئے کہ رزین نے نہ اس كے صحابی راوى كا ذكر کیا ہے اور نہ اس کو كسی تخریج  کرنے والے کی طرف منسوب کیا ہے، بلكہ رزین نے اسے موطأ كى اس حدیث میں درج كر دیا ہے (یعنى اصل مرسل روایت سے ملا دیا)، اور یہ زیادتى موطأ کی کسی بھی روایت میں مذكور نہیں ہے، تاہم اس كى كوئى اصل اگر ہو تو یہ احتمال ہے كہ ”سبعين“ سے مراد تحدید ہو (یعنی متعینہ مقدار 70 مراد ہو) یا پھر اس سے مبالغہ مقصود ہو (جیساكہ اصطلاح عرب میں سبعہ كا لفظ بیان تكثیر كے لئے استعمال ہوتا ہے)، ان دونوں میں سے جو بھی مراد ہو بہرحال اس سے فضیلت ثابت ہوتی ہے !

حافظ کے مذکورہ بالا تبصرہ میں تین باتیں محل نظر ہیں !

1) (لَمْ يَذْكُرْ صَحَابِيَّهُ) یہ حدیث موطا مالک میں بالاتفاق مرسل ہے ، قال ابن عبد البرفی"التمہید" (6/ 39): لَا خِلَافَ عَنْ مَالِكٍ فِي إِرْسَالِ هَذَا الْحَدِيثِ كَمَا رَأَيْتَ ۔ تو جب روایت مرسل ہی ہے تو صحابی کا مذکور ہونا ممکن نہیں ہے !

2) (وَلَا مَنْ أَخْرَجَهُ ، بَلْ أَدْرَجَهُ فِي حَدِيثِ "الْمُوَطَّأِ") رزین نے روایت پر (ط) کی علامت لگائی ہے ، یعنی امام مالکؒ نے اس کی تخریج کی ہے ، بحسب ظاہر قولہ ، تو مخرج (بتشدید الراء) بھی مذکور ہے !

3) (وَلَيْسَتِ الزِّيَادَةُ الْمَذْكُورَةُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُوَطَّآتِ) امام  مالکؒ سے (موطا) کی روایت کرنے والے سو سے زائد راوی ہیں، ان میں سے سولہ تلامذہ کی روایتیں (نسخے) مشہور ہیں، اور ہر ایک نسخہ کمی زیادتی کے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہے، جس کی تفصیل امام دارقطنیؒ وغیرہ نے (اختلاف الموطآت) میں، اور ابن عبد البرؒ نے (تجرید التمہید) میں  ذکر کی ہے !

رزین نے (تجرید الصحاح ) کے مقدمہ میں اختلاف الموطآت کے بارے میں ایک اہم بات ذکر کی ہے ، قال رزین (تجرید الصحاح /ص6) : "واعلم أني أدخلتُ من اختلاف نُسَخ الموطأ لابن شاهين والدارقطني ومِن رواية مَعنٍ للموطأ أحاديثَ تفرَّدت بها بعضُ النُّسَخ عن بعض، وكلُّها صحيحة"
ترجمہ : فرمایا کہ : میں نے موطا کی بعض روایتوں کے جو زائد الفاظ ذکر کئے ہیں ان کے تین مآخذ ہیں !

1) اختلاف الموطآت، ابن شاہین کی !
2) اختلاف الموطآت، دارقطنی کی !
3) موطا بروایت معن بن عیسی !

جب رزین نے ’’موطا مالک‘‘ کے نسخوں میں وارد الفاظ زائدہ کے مآخذ کی تصریح کر دی ہے، تو ان کے بارے میں (لا اصل لہا) کہنا [کما قال ابن القیم] یا یہ تصور کرنا کہ رزین نے اپنی طرف سے بغیر کسی مصدر پر اعتماد کرتے ہوئے بڑھائے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزین کے حق میں نا انصافی ہے، لہذا زیرِ بحث زیادتی بھی موطا کے کسی نسخہ میں ضرور موجود ہوگی، مذکورہ مآخذ ثلاثہ میں سے اس وقت صرف (اختلاف الموطآت للدارقطنی) مطبوع ہے، البتہ ابن شاہین کی کتاب، اسی طرح روایتِ معن بن عیسی موجود نہیں ہے، تو ان دونوں میں سے کسی ایک میں ہونا عین ممکن ہے، اس لئے مذکورہ زیادتی کا بالکلیہ انکار کرنا درست نہیں ہے !

حافظ ابن حجرؒ نے اخیر میں جو بات ارشاد فرمائی، اس میں بہت محتاط عبارت استعمال کی ہے، قال : (فَإِنْ كَانَ لَهُ أَصْلٌ احْتَمَلَ أَنْ يُرَادَ بِالسَّبْعِينَ التَّحْدِيدُ أَوِ الْمُبَالَغَةُ ، وَعَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا فَثَبَتَتِ المزية بذلك) یعنی اگرچہ رزین کی مدرجہ زائد روایت (موطا) کے موجودہ نسخوں میں نہیں ملی، مگر وجود کا امکان ہے !

رہ گئی بات کہ : کیا جمعہ کے حج کی مذکورہ فضیلت کے متعلق اور کوئی روایت ہے؟

الجواب : نہیں ! اس باب میں اور کوئی روایت منقول نہیں ہے، ہاں بعض روایتوں میں  جمعہ کے دن اعمال کے اجر و ثواب میں اضافت کا ذکر ہے، مثلا حضرت شیخ الحدیثؒ نے (اوجز المسالک 8/614) میں حضرت ابوہریرہؓ کی ایک روایت نقل کی ہے، فرمایا : (إن الله عز وجل خلق الأيام ،واختار منها يوم الجمعة،فكل عمل يعمله الإنسان يوم الجمعة يكتب له بسبعين حسنة) مگر یہ روایت ’’معجم الاوسط 7895‘‘ طبرانی میں مختصر ہے : (تُضاعَف الحسناتُ یوم الجمعة) اور سند میں حامد بن آدم غیر معتبر راوی ہے !

ایک اور روایت ملا علی قاریؒ نے ’’الحظ الاوفرفی الحج الاکبر‘‘ میں ذکر کی ہے، قال القاری : (وأخرج حُميد بن زَنجوية في "فضائل الأعمال" عن المسيَّب بن رافع قال : مَن عمل يوم الجمعة عملا ضُعِّف بعشرة أمثاله في سائر الأيام) المسیب بن رافع تابعی ہیں، لہذا یہ روایت مرسل ہے !

🗒🖋نوٹ : خلاصہ یہ ہے کہ !

1) جمعہ کے دن کی حج کے متعلق صرف یہی ایک مرسل روایت ہے، جس کا مصدر واحد ’’تجرید الصحاح‘‘ رزین بن معاویہ کی ہے !

2) اصل مرسل روایت پر رزین بن معاویہ کی جو  زیادتی ہے، اگر وہ اسی سند سے وارد ہے یعنی (مالك، عن زياد بن أبي زياد، عن طلحة بن عُبيد الله بن كَرِيز) تب تو اس کا اعتبار کیا جاسکتا ہے، اور استدلال کرنا بھی درست ہوگا، لیکن اگر یہ زیادتی ثابت نہیں ہے، تو اس کی نسبت حضور اکرم ﷺ کی طرف کرنا مناسب نہیں ہے !

3) عموم دلائل و شواہد سے جمعہ کے حج کی زائد فضیلت ثابت ہوتی ہے، کما افاض فیہ ابن القیم ، اور علماء كے یہاں یہ قاعدہ بھی مسلّم ہے كہ (ثواب الأعمال يتضاعف بتفاضل الأزمنۃ والأمكنۃ) كہ زمان و مكان كى فضیلت كے سبب اعمال كے اجر میں بھى مضاعفت ہوتى ہے، اور نصوص سے یہ بات ثابت ہے كہ یوم الجمعہ تمام دنوں میں سب سے افضل دن ہے، اور یوم عرفہ بھى ایك معظم دن ہے، لیکن یہ ایک الگ بحث ہے !

⭐️فقط واللہ تعالیٰ اعلم
واللہ اعلم بالصواب

جمعه : المولوي محمد عبيد بن عبد الباسط منيار

ورتبه وتممه العبد الفقير محمد طلحة بن بلال أحمد منيار أبو معاذ المكي 

==================> 《ایمانی تذکرہ》

*JOIN TELEGRAM CHANNEL*↙⬇
http://t.me/IMAANITAZKIRA
#IMAANI_TAZKIRA

*JOIN WHATSAPP GROUP*↙️⬇️
https://chat.whatsapp.com/74Kvy9T2MFu3XDD4dRzaME
#کیا_جمعہ_کا_حج_70_حج_کے_برابر_ہوتا_ہے

*📚الترغیب والترهيب📚*
الأجوبة المستحسنة في تحقيق الأحاديث المشتهرة على الألسنه [اهل السنت والجماعت ديوبندي]

Comments

Popular posts from this blog

ہاں میں بدرالدین اجمل ہوں

امیر جماعت مولانا سعد صاحب کے ساتھ کون؟