تہجد و تراویح
_*تہجد و تراویح الگ الگ نمازیں*_
🔟 *نیند کا وقفہ*
۱۰۔حدیث عائشہ سے نبی پاک ﷺ کا تہجد اور وتروں کے درمیان سونا ثابت ہے،مگرتراویح اور وتروں کے درمیان سونا ثابت نہیں ہے"اذا دخل رمضان لم یات فراشہ"یعنی جب ماہ رمضان شروع ہو جاتا تو آپ ﷺ رمضان گزرنے تک بستر قدم نہ رکھتے ، نماز تہجد میں نوافل تہجد اور وتروں کے درمیان سونا ثابت ، مگر تراویح اور وتروں کے درمیان سونا ثابت نہیں ، تو یہ دونوں نمازیں ایک کیسے؟
1️⃣1️⃣ *حدیث من قام*
۱۱۔تراویح والی حدیث من قام رمضان۔۔۔۔الخ کو کسی محدث نے تہجد کے باب میں ذکرنہیں کیا،اگر تراویح وتہجد ایک نماز ہوتی تو فضیلت تراویح کی اس حدیث کو تہجد کے باب میں بھی ذکر کیا جاتا ، معلوم ہوا کہ دونوں نمازیں جدا ہیں۔
2️⃣1️⃣ *ترغیب جماعت*
۱۲۔تہجد با جماعت کی تر غیب وتعریف آپ ﷺسے ثابت نہیں ، لیکن تراویح کو جماعت کے ساتھ ادا کر نے کی تر غیب رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے"عن ابی ھریرۃؓ قال خرج رسول اللہ ﷺ واذا ناس فی رمضان یصلون فی ناحیۃ المسجد فقال ما ھولاء قیل ھولاء ناس لیس معھم قرآن وأبی بن کعب یصلی بھم فھم یصلون بصلاتہ فقال رسول اللہ اصابوا او نعم ما صنعو ا(قیام رمضان للمروزی :۱۵۵) "
حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (حجرہ) سے نکلے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ ماہ رمضان میں کچھ لوگ مسجد کے ایک گو شے میں نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ ﷺ نے پو چھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ عرض کیا گیا : یہ ایسے لوگ ہیں کہ قرآن ان کو یاد نہیں اور ابی ابن کعبؓ ان کو نماز پڑھا رہے ہیں اور وہ لوگ ابی ابن کعبؓ کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فر مایا : انہوں نے درست کیا ، یا یوں فرمایا کہ انہوں نے اچھا کام کیا۔
3️⃣1️⃣ *اہتمام جماعت*
۱۳۔نماز تہجد میں جماعت کثیر کو شامل کر نے کا اہتمام آپ ﷺ سے ثابت نہیں ، لیکن نماز تراویح کو جماعت کثیرہ کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام آپ ﷺ سے ثابت ہے ،اس سلسلے میں دو حدیثیں ملاحظہ کیجئے ۔
عن عائشہؓ عنھا قالت: کان الناس یصلون فی مسجد رسول اللہ ﷺفی رمضان بالیل اوزاعاً۔۔۔۔الخ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ لوگ رمضان شریف کی ایک رات مسجد نبوی میں متفرق جماعتیں بنا کر نماز پڑھ رہے تھے ، جن لوگوں کو قرآن کاکچھ حصہ یاد تھا وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، کسی کے ساتھ پانچ آدمی ہیں کسی کے ساتھ چھ ہیں اور کسی کے پیچھے اس سے کم اور کسی کے پیچھے اس سے زیادہ اور وہ ان قرآن خواں لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں ، حضرت عائشہؓ فر ماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مجھ کو حکم دیا کہ میں حجرے کے دروازے پر چٹائی لٹکادوں ، چنانچہ میں نےچٹائی لٹکادی ، پس رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد حجرہ سے تشریف لائے ،اس وقت مسجد میں جتنے لوگ موجود تھے سب آپ ﷺ کے پاس اکھٹےہوگئے ،آپ ﷺ نے ان کو رات کے وقت دیر تک نماز پڑھائی ۔( قیام رمضان للمروزی :۱۵۳)
۲ؔحضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہےکہ "صمنا مع رسول اللہ ﷺفی رمضان۔۔۔۔۔۔الخ"ہم نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ رمضان میں روزے رکھے ،آپ ﷺنے ہمیں تراویح نہ پڑھائی حتی کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ۲۳/اور ۲۵/ کی رات کو نماز پڑھائی،پھر ۲۷/کی رات کو اپنے گھر والوں کو جمع کیا،اور لوگ بھی جمع ہوئے اور آپ ﷺ نے طویل نماز پڑھائی۔(اسی وجہ سے بعد میں خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے بیس تراویح با جماعت کا مستقلا اہتمام کیا اور اس سنت کو دائمی طور پر جاری کیا جو آج تک جاری ہے)
4️⃣1️⃣ *باب جدا جدا*
۱۴۔محدثین حضرات نےتہجد اور تراویح کے جدا جدا باب قائم کئے ہیں جو ان کے الگ الگ نماز ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ دونوں نمازیں ایک ہیں تو ہر ایک کے جدا جدا باب قائم کرنے کی کیا ضرورت ؟ کتب حدیث میں دونوں نماوں کے جدا جدا باب ملاحظہ کیجئے۔
نام کتاب: صحیح بخاری ۔باب تہجد :باب فضل قیام الیل : ۱۵۱/۱،باب تراویح:باب فضل من قیام الیل رمضان: ۲۶۹/۱
صحیح مسلم: باب صلوۃ الیل ۲۵۲/۱۔ باب التر غیب فی قیام رمضان وھو التراویح ۲۵۹/۱
سنن ابی داؤد: باب فی صلوۃ الیل :۱۸۸/۱۔ باب قیام شہر رمضان:۱۹۶/۱
سنن ترمذی : باب فی صلوۃ الیل : ۹۸/۱ ۔ باب ما جأء فی قیام شہر رمضان: ۱۶۶/۱
سنن نسأئی : باب قیام الیل : ۹۴۔ باب ما جأء فی قیام شہر رمضان :۳۰۷/۱
سنن اب ماجہ : باب ما جأء فی قیام الیل :۹۴ ۔ باب ما جأء فی قیام شہر رمضان: ۹۴
مؤطا امام مالک:باب فی صلوۃ الیل :۹۹۔باب فی قیام رمضان :۹۷
مؤطا امام محمد :باب صلوۃ الیل :۱۱۹۔ باب قیام شہر رمضان :۱۴۱
مشکوٰۃ شریف : صلوۃ الیل ۱۰۵/۱۔باب قیام شہر رمضان ۱۱۴/۱
ریاض الصالحین:باب قضل قیام الیل :۳۶۲/۱۔باب استحباب: قیام رمضان وھو التراویح: ۳۶۷
صحیح ابن حبان: فصل فی قیام الیل : ۱۱۲/۵۔ فصل فی التراویح : ۱۰۷/۵
مجمع الزاوئد: باب فی صلوۃ الیل : ۵۱۹/۲۔ باب قیام رمضان : ۴۰۱/۳
سنن الکبریٰ مام بیہقی: باب فی قیام الیل : ۴۴۹/۲۔باب فی قیام شہر رمضان : ۴۹۱/۲
جمع الفوائد: صلوۃ لیل : ۲۰۳/۱۔ قیام رمضان والتراویح: وغیرہ ذالک:۲۰۶/۱
مختصر قیام الیل للمروزی: قیام الیل : صفحہ۲/تا ۱۴۹۔قیام رمضان:صفحہ ۱۵۰تا ۱۷۸
بلوغ المرام ،؛ صلوۃ التطوع: ۸۳۔قیام رمضان ;۱۵۲
محدثین عظام کے تہجد وتراویح کے الگ الگ باب قائم کرنے سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک تہجد اور تراویح علحدہ علحدہ نماز یں ہیں ، ورنہ الگ الگ باب قائم کرنے کا کیا مطلب ہے ؟
5️⃣1️⃣ *رمضان کی شرط*
۱۵۔ عہد نبوی میں چاند نظر نہ ّأیا"فارادو ان لا یصوموا ولا یقوموا" تو انہوں نے روزہ نہ رکھنے اور قیام نہ کرنے (یعنی تراویح نہ پڑھنے ) کا ارادہ کر لیا، اچانک وادی حرا سے ایک اعرابی نے حاضر خدمت ہو کر چاند دیکھنے کی شہادت ; چنانچہ اس کے ایمان واعتقاد کی تصدیئق کر نے کے بعد نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت بلالؓ نے اعلان کیا "ان یصوا وان یقوموا" لوگو ! روزہ رکھو اور تراویح پڑھو ۔( دار قطنی :۱۵۹/۱)
معلوم ہوا کہ نماز تراویح ماہ رمضان کے چاند نظر آنے کے ساتھ مشروط ہے ، جب کہ تہجد ہلال رمضان کے ساتھ مشروط نہیں ، وہ سارے سال پڑھی جاتی ہے ۔
مذکورہ بالا تحریرات سے یہ چیز پوری وضاحت کے ساتھ سامنے ّگئی کہ تہجد وترایح دونوں الگ الگ نمازیں ہیں دونوں کو ایک کہنا یا تو تعصب ، ہٹ دھرمی اور یا پھر کم علمی کی وجہ سے ، اس کے علاوہ بھی اور بہت سے ایسے واضح دلائل ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں، لیکن اختصار کے پیش نظر اسے ترک کیا جاتا ہے،اور ماننے والے کیلئے اتنا ہی کافی ہے ، اور نہ ماننے والوں کیلئے یہ کیا دفتر بھی بیکار ہے، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو دین کی صحیح فہم وسمجھ عطا فر مائے اور اہل سنت والجماعت کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فر مائے ۔
منقول
بشکریہ۔ تحفظ سنت گروپ مہد پور
Comments
Post a Comment